|

وقتِ اشاعت :   January 3 – 2017

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں ارکان نے قومی احتساب بیورو (نیب )کے قانون میں پلی بارگین پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کالا قانون ہے،نیب آرڈیننس نے پارلیمنٹ کی شکل تک نہیں دیکھی، جس قانون میں عدالت کو ضمانت کا اختیار نہ ہو اس سے بڑھا کالا قانون کیا ہوگا،نیب آرڈیننس میں صرف پلی بارگین کی شق کو نہیں بلکہ پورے قانون کو بدلنے کی ضرورت ہے، نیب کو کرپشن کے خاتمے کیلئے بنایا گیا مگر نیب کی وجہ سے کرپشن میں آضافہ ہوا ہے ،بلوچستان میگا کرپشن کیس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام ہیں جن پرہاتھ ڈالنا نیب کے بس کی بات نہیں اسلئے نیب نے مک مکا کیا۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ نیب قانون کا ازسر نو جائزہ لینے کیلئے پارلیمانی کمیٹی پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوچکا ہے،اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کمیٹی کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے نام بھی دیدئے ہیں،بہت جلد کمیٹی قائم کر دی جائیگی۔ نیب حکام نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں پلی بارگین کی شق جب شامل کی گئی تو نیب حکام نے اسکی شدید مخالفت کی تھی ۔پیر کو کمیٹی کا اجلاس چیئر مین سینیٹر جاوید عباسی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان سمیت وزیر قانون زاہد حامد،وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون بر سٹر ظفر اللہ،نیب کے ڈپٹی چیئر مین امتیازتاجور سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی میں اف شور کمینوں کی تحقیقات کیلئے قومی اسمبلی سے پاس ہونیوالا حکومتی بل پر بحث نہ ہو سکی۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈراعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان انکوائری کمیشن بل متنازعہ ہے،اسی قسم کا اپوزیشن کا بل یہی کمیٹی پاس کر چکی ہے،یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے مگر اس حوالے سے کمیٹی کا نوٹس ہمیں گزشتہ شب ملا،جسکی وجہ سے ہم تیاری نہیں کر سکے،اسلئے بل کو آئندہ اجلاس تک موخر کیا جائے،چیئر مین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سینیٹ سیکر ٹریٹ کی جانب سے کمیٹی اجلاس کا نوٹس بروقت جاری کیا گیا تھا باقی تمام ارکان کمیٹی کو نوٹس بد ھ کو مل گیا تھا ،کراچی میں ارکان کو کمیٹی کا نوٹس مل گیا تھا مگر اپکو اسلام آباد میں کمیٹی نوٹس بروقت کیوں نہیں مل سکا، اس موقع پر کمیٹی نے اپوزیشن لیڈراعتزاز احسن کی درخواست پر بل کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔کمیٹی میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے نیب کے قانون میں پلی بارگین پر توجہ دلاؤ نوٹس پر بحث بھی کی گئی۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ نیب کے قانون پر 10 سال پہلے ہی نظر ثانی کی جانی چاہیے تھی مگر بد قسمتی سے اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ نیب کو سیاسی مخالفین کیخلاف استعمال کیا گیا،نیب کو کرپشن کے خاتمے کیلئے بنایا گیا مگر نیب کی وجہ سے کرپشن میں آضافہ ہوا ہے،بلوچستان نے ایک آدمی نے اربوں روپے کی کرپشن کی مگر نیب نے اس کیساتھ مک مکا کر لیا،بلوچستان میگا کرپشن کیس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام ہیں جن ہاتھ ڈالنا نیب کے بس کی بات نہیں اسلئے نیب نے مک مکا کیا۔اس موقع پر نیب کے ڈپٹی چیئر مین امتیازتاجور نے کہا کہ پلی بارگین قانون کے تحت مشتاق رئیسانی سے 3.5ارب روپے ریکور کر لئے ہیں اسکے علاوہ کراچی ڈیفنس سے11گھر بھی اپنی تحویل میں لے لئے ہیں جن کی مالیت اربوں روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ پلی بارگین قانون اور رضاکارانہ واپسی کے قانون کے تحت نیب نے ابھی تک 37.120ارب روپے ریکور کئے ہیں ۔