|

وقتِ اشاعت :   January 6 – 2017

کوئٹہ: گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل سے پورا خطہ شادوآباد بن جائے گا اور اقتصادی جمود کا خاتمہ ہوگا۔ برآمدات کو نئی منڈیاں ملیں گی۔ اس راہداری کو روس تک وسعت ملے گی جس کے نتیجے میں پورا جنوبی اور وسطی ایشیاء معاشی وتجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں تعینات ایرانی قونصل جنرل محمد رفیعی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات کے دوران خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیاں، پاکستان ایران باہمی تعلقات، امن وامان کی صورتحال اور دونوں برادر ممالک کے درمیان معاشی وتجارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید بہتر اور مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان اور ایران دونوں برادر اور ہمسایہ ممالک ہیں، دونوں کے درمیان باہمی اشتراک اور تعاون کے نتیجے میں مشترکہ خوشحال معاشی مستقبل تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف قریبی دوستانہ تعلقات ہیں بلکہ مختلف شعبوں میں تعاون بھی پایا جاتا ہے۔ گورنر نے کہا کہ گوادر اور چابہار نہ صرف سسٹر پورٹس ہیں بلکہ خطے میں اقتصادی ترقی وخوشحالی کے لئے ایک دوسرے کے لئے کارآمد بھی ثابت ہوں گے۔گورنر نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے درمیان فضائی اور زمینی راستے کھلنے سے تجارت اور معیشت کو فروغ ملتا ہے جس سے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان اور ایران سڑک اور ریلوے کے ذریعے بھی ایک دوسرے سے منسلک ہیں لہٰذا دونوں ممالک کے درمیان معاشی وتجارتی تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام پیدا کیا جاسکتا ہے۔ گورنر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے سرحدی تجارت بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں اور مزید اسے بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ معاشی وتجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی تعلقات ملک وقوم کی ترقی وخوشحالی میں اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان معاشی وتجاری تعلقات میں اضافہ کو خوش آئند قراردیا ۔ بعدازاں گورنر بلوچستان اور ایرانی قونصل جنرل کے درمیان یادگاری شیلڈزکا تبادلہ ہوا۔