|

وقتِ اشاعت :   January 7 – 2017

لندن /اسلا م آباد : آرمی پبلک سکول میں دہشتگردی کے ہولناک واقعے کے بعد دہشتگردوں کو فوری طور پرسزائیں دینے کیلئے دو برس کیلئے قائم کی گئیں فوجی عدالتوں کی مدت (آج ) ہفتہ کو ختم ہوجائے گی یہ عدالتیں وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں ہونے والی اے پی سی کے متفقہ فیصلوں کے بعد7جنوری 2015کو قائم کی گئی تھیں،اے پی سی میں سابق صدر آصف علی زرداری ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی تھی ،اجلاس میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی شریک ہوئے تھے ۔اے پی سی کے فیصلوں کے تحت نیشنل ایکشن پلان بھی تشکیل دیا گیا تھا۔پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاستی جماعتوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کی توسیع میں مخالفت کرنے کے بعد حکومت نے دہشتگردی کے مقدمات کی فوری سماعت کیلئے پارلیمنٹ میں نئی قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اور اس کے لیے ایک قانونی مسودے کی داخلہ کی قائمہ کمیٹی منظوری دے چکی ہے ۔قومی اسمبلی او ر سینیٹ کے آئندہ اجلاسوں میں نئی قانون سازی متوقع ہے ۔دریں اثناء برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ( ن) فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشتگردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے نیا قانون متعارف کرانے کی کوششیں شروع کردیں جس کے تحت ججوں اور گواہواں کی شناخت مخفی رکھی جائے گی۔وزیراعظم کے مشیر برائے قانونی امور بیرسٹر ظفر اللہ نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ نئی قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے ۔مشیر برائے قانونی امور نے کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے ساتھ نہیں دیتیں تو اگلے چند دنوں میں مسودہ پیش کر دیا جائے گا۔بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ اگر فوجی عدالتیں قائم نہیں رہتیں جو کچھ مشکل ہوتا لگ رہا ہے تو ہم دوسرے راستے کو اختیار کریں گے جس میں ہماری عام عدالتیں ہی کام کریں گیں مگرگواہوں، پراسیکیوٹر، پولیس اور ججز کو زیادہ تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ انتہاپسندی سے متعلق مقدمات کی سماعت نہ رکے۔انھوں نے بتایا کہ فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد وہاں جاری تمام مقدمات سول عدالتوں میں منتقل ہو جائیں گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نئی قانون سازی کے لیے ہماری برطانوی حکومت کے ماہرین سے بات چیت ہوئی ہے کہ جج کی شناخت کیسے چھپانی ہے۔ وہ سماعت کرے مگر پتا نہ ہو کہ جج کون ہے۔ گواہوں کو کیسے چھپانا ہے، ان کی حفاظت کیسے کرنی ہے؟ ویڈیو کے ذریعے سماعت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ کیا کوئی ڈھال نما پردہ لگایا جا سکتا ہے گواہ اور ملزم کے درمیان؟۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ تمام جدید تکنیکیں زیرِغور ہیں۔ یقیناًپاکستان میں مقدمات کی منصفانہ سماعت کا نظام موجود ہے تو ہم ایسی چیزیں تو نہیں کر سکتے جو بالکل آئین کے خلاف ہوں۔نئی قانون سازی سے متعلق انھوں نے بتایا کہ پروٹیکشن آف پاکستان آرڈیننس اب ختم ہو چکا ہے مگر اس کی گواہان کے بارے میں کچھ غیر متنازع دفعات اچھی تھیں جنھیں ہم بہتر بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کی تعریف میں مسائل ہیں، بعض اوقات اس کی تعریف بہت وسیع ہو جاتی ہے اور وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ اسے جامع بنایا جائے۔اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ نہیں کہ کسی پر چھوٹی موٹی بات پر دہشت گردی کا الزام لگ جائے۔ ہم اسے تھوڑا انسانیت کے دائرے میں لانا چاہتے ہیں کہ جو حقیقی دہشت گرد ہیں اور واقعی معاشرے کے لیے خطرہ ہیں انھیں دہشت گرد کہیں۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی تسلیم کیا کہ فوجی عدالتیں بنانا اچھا اقدام نہیں ہے۔جمہوری معاشرہ ہے، ہماری سیاسی جماعت ہے، ہم الیکشن لڑ کر آئے ہیں ہم تو فوجی عدالتوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔دو سال پہلے ہونے والے اس حکومتی فیصلے کا جواز بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی کے مقدمات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ جج، وکیل اور گواہاں کو جان کا خوف ہوتا۔ جتنے اہم مقدمے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوتے کیونکہ کوئی سامنے نہیں آتا۔ اسی لیے ایسے مقدمات سے نمنٹے کے لیے فوجی عدالتیں بنائی گئیں۔دریں اثناء پیپلزپارٹی کے ترجمان سینٰٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع کرنے کے حق میں نہیں ۔انھوں نے کہاکہ ہمار ا تجربہ ہے کہ دوسالوں میں جیٹ بلیک دہشتگردوں کے علاوہ عام قاتلوں کو بھی ان عدالتوں کے ذریعے سزائیں دی گئیں جو فوجی عدالتوں کے مینڈیٹ سے باہر تھا۔425مجرموں کو ان عدالتوں سے سزا دی گئی جن میں سے 360جیٹ بلیک دہشتگرد نہیں تھے اس وجہ سے ہم فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں۔