|

وقتِ اشاعت :   January 8 – 2017

صوبہ بلوچستان میں خشک سالی کا سماں ہے پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے وجہ یہ ہے کہ موسم گرما میں مون سون ہوائیں خلیج بنگال سے اُٹھ کر کوہ ہمالیہ سے ٹکراتی ہوئی پاکستان میں پہنچ جاتی ہیں تو صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں خوب بارشیں برساتی ہیں بلوچستان میں آتے آتے یہ ہوائیں آبی بخارات کھوکر خشک ہوجاتی ہیں بارش برسانے سے قاصر رہتی ہیں اس لئے بلوچستان میں کئی سالوں سے خشک سالی ہے ضلع خاران، چاغی اور مکران کے بہت سے علاقے ریگستان میں تبدیل ہوچکے ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں درجہ حرارت متعدل رہتا ہے یہ علاقے مون سون ہواؤں کے رُخ پر نہیں ہیں بحرہ عرب کے نزدیک ہونے کے باوجود ساحلی علاقوں میں بارشیں کم ہوتی ہیں مثلاًگوادر، جیونی، پسنی، اور ماڑہ، حب، وندر اس وجہ سے آبی وسائل، ٹیوب ویلز، کنوئیں آربٹ، ڈیمز، بور، تالاب، جوہڑ، کاریزات خشک ہوچکے ہیں زیر زمین پانی بہت نیچے گر گیا ہے آنے والی صدیوں میں تیل سستا اور پانی مہنگا ہوگا اس کے علاوہ موسم سرما میں بحرہ روم، بحرہ کیسپین اور خلیج فارس سے جو ہوائیں اُٹھتی ہیں وہ آبی بخارات ہیں یہ گردو باد ہوائیں خصوصاً شمال مشرقی علاقوں میں سردیوں کے دوران کوئٹہ اور پختون بالائی اضلاع اور بلوچ اضلاع میں بارشیں اور برفباری کا سماں پیش کرتی ہیں سردی کی شدت بڑھ جاتی ہے یادر ہے 1970 ء کے عشرے میں کوہ چلتن پہاڑی سلسلے جولائی تک بھاری مقدار میں برف پڑی رہتی تھی آب پاشی اور آبنوشی کیلئے پگھلتی ہوئی برف کا پانی کافی تھا باغات سر سبز و شاداب تھے۔ اب بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پانی کا بحران زوروں پر ہے جس کے اثرات کھیتی باڑی پر پڑ رہی ہیں بلوچستان میں خشک سالی کے باعث آبی نظام کو دھچکا لگا ہے کوئی متبادل طریقہ کار نہیں ہے میوے کے باغات، کھجور کے باغات اجناس خوردنی اور اجنات نقدی کی زمینیں ویران ہوچکی ہیں بستیوں کے پھیلاؤ اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر پانی کی ضرورت بڑھ گئی ہے میٹھا پانی کہیں دستیاب نہیں آلودہ اور مضرصحت پانی سے مختلف اقسام کی بیماریوں نے جال پھیلا دیا ہے اس وقت صوبہ بلوچستان خوراک اور پانی کے حوالے سے تشویشناک حالت میں مبتلا ہے انہیں وجوہات کی بناء پرصوبہ سندھ کراچی سے بڑی مقدار میں اشیاء خوردو نوش منگوایا جاتا ہے۔بلوچستان میں بارشیں نہ ہونے سے آبی نظام بری طرح مفلوج ہے یادر ہے اسی کی دہائی میں گیدر وادی خوبصورت باغات و سرسبز شاداب کھیتوں کا علاقہ تھا آہستہ آہستہ زیر زمین پانی کا ذخیرہ ختم ہوگیا، باغات اُجڑ کر ویران ہوگئے لوگوں نے نقل مکانی کرکے ضلع لسبیلہ، حب چوکی میں بود وباش اختیار کی ۔چونکہ مکران میں آب پاشی کا سب سے بڑا وسیلہ ڈیمز اور کاریزات ہیں المیہ یہ ہے ہماری قسمت کے فیصلے کرنے والوں نے اپنے سیاسی ورکروں کو ٹیوب ویل اور بور ینگ کی اسکیمیں کر آب نوشی کنویں اور کاریزات کو خشک کرنے کا بندوبست کیا ہے۔ گھروں کے چاردیواری کے اندر بڑی تعداد میں بورینگ لگانے کی وجہ سے پانی کی صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے کاریز، سرکاری آباد کاریز ،بیرادر کاریز، کلگ اور کاریز غریب آباد اور کاریز وشاپ اور کاریز تاکان کے منبع کے ارد گرد کوئی پچاس کے قریب بورینگ لگائے گئے ہیں۔ یہ رجحان ضلع پنجگور میں بڑھتا جارہا ہے سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے بور احداث اور ٹیوب ویلز سولر اسکیمات صرف اورصرف زمینداروں کیلئے لازم ملزوم ہیں جبکہ زمیندار اس قسم کی سہولت سے محروم ہیں اوراس بہتی ہوئی گنگامیں این جی اوز ملازمین نے اپنے گھروں کے صحن میں دیو ہیکل ٹینکی تعمیر کرکے بورینگ سے پانی بھرنے کا انتظام کیا ہے جس سے زمیندار اور زیادہ پریشان ہیں پانی کی عدم دستیابی اور غلط ترجیحات کا نتیجہ یہی ہے کہ علاقے میں پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے اور احتجاجاً مکران اور دیگر ڈویژنوں کے زمینداروں نے ہائی کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم صوبائی وزراء کے ایما اور تعاون سے ہر گاؤں میں واٹر سپلائی کامنصوبہ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہر گاؤں میں پہلے ہی سے آبی ٹینکی تیار ہے پائپ لائنوں کا جال بچھا ہوا ہے صرف چلانے کیلئے انجمن درکار ہے یہ اجتماعی منصوبے ہیں اس سے تمام گھروں کو پینے کا پانی ملتا ہے انصاف کا تقاضا تو یہی ہے۔