|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2017

اسلام آباد : گوادرانڈسٹریل اسٹیٹ کے میگا پروجیکٹ پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیاجبکہ بلوچستان حکومت انڈسٹریل اسٹیٹ میں مقامی سرمایہ کاروں کو 40سال تک ٹیکس چھوٹ دینے پررضامند ہوگئی ہے ٗآئندہ چند سالوں میں ایک ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کاامکان ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق گوادرانڈسٹریل اسٹیٹ، گوادر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی ٗجیڈا کے تحت ڈیپ سی پورٹ سے تقریباً 35کلومیٹر کی دوری پر تین ہزار ایکڑ اراضی پر قائم کی جارہی ہے۔جی ایم فنانس جیڈا وقاص احمد لاسی کے مطابق پہلے فیزمیں اسٹیٹ کے 500ایکڑپرترقیاتی کام فوری شروع کیے جارہے ہیں، جس کے لیے سی پیک کیتحت ایک ارب 75کروڑ روپے مل چکے ہیں ٗاس فنڈز سے سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس، سیوریج اور واٹر سپلائی سمیت دیگرکام کیے جائیں گے۔دوسری جانب بلوچستان حکومت نے انڈسٹریل اسٹیٹ میں مقامی سرمایہ کاروں کوبھی 40سال تک ٹیکس چھوٹ دینے پر اصولی اتفاق کرلیا ہے اور اسے فری زون قراردینے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔اسی طرح صنعتی زون میں آئندہ برسوں میں تین ہزار ایکڑ کا مزید اضافہ کیا جائیگا جبکہ اس کے علاوہ مکران کے مختلف علاقوں میں انڈسٹریل زون بھی بنائے جائیں گے۔جی ایم فنانس جیڈا کے مطابق امید ہے گوادرانڈسٹریل اسٹیٹ میں رواں سال کے آخرتک 50سے100یونٹ تعمیراتی کام شروع کردیں گے اور آئندہ تین چار سال میں صنعتکاری اور سرمایہ کاری عروج پرہوگی ٗکینیڈین اور جنوبی کوریاکی کمپنیوں نے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ میں چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کی پیش کش کی ہے۔دریں اثناء وزارت منصوبہ بندی وترقی کے حکام نے کہاہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی تکمیل سے ملک میں 100 تا 150 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کا امکان ہے ‘ منصوبہ کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں مخصوص اقتصادی زونز اور انڈسٹریل اسٹیٹس قائم کی جائیں گی جن میں چین کے علاوہ دنیا بھر کے سرمایہ کار سرمایہ کاری کریں گے، ان صنعتوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی دنیا بھر میں برآمدات کی جائیں گی جس سے پاکستان کی صنعتی و اقتصادی نشوونما میں مدد ملے گی۔حکام نے بتایا کہ سی پیک کے تحت مخصوص صنعتی زونز میں غیر ملکی سرمایہ کار صنعتوں کے قیام کیلئے 100 تا 150 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے جن میں ٹیکسٹائل، لیدر، انجینئرنگ، سپورٹس گڈز سمیت دیگر مختلف شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبہ سے نہ صرف پاکستان کو اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ اس سے خطہ کے دیگر ممالک کی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہو گا اور پاکستان کے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط میں اضافہ ہو گا جس سے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ قراقرم ہائی وے کو بہتر بنانے کے ساتھ ایم فور نیشنل موٹر وے پر بھی چینی انجینئرز دن رات کام میں مصروف ہیں، ریل ویز اور لائٹ ریلز کی اپ گریڈیشن بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔انہوں نے بتایا کہ منصوبے کا محور گوادر، جہاں سی پیک منصوبہ بحیرہ عرب اور بحر ہند سے ملتا ہے، یہیں سے تمام وسائل پاکستان کے مرکز اور مغربی چین کو جائیں گے، جبکہ پاکستان اور چین میں تیار ہونے والا مال دنیا بھرمیں بھیجا جائے گا۔گوادرمیں فری ٹریڈ زون، اسپیشل اکنامک زون، کوسٹل ہائی وے بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ سیاسی تعلقات سٹرٹیجک اکنامک تعلقات میں تبدیل ہو چکے ہیں، اس کے ہماری ترقی اور خطے کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ حکام نے بتایا کہ گوادر سی پیک کا گیٹ وے ہو گا، یہ اس صدی کا بڑا موقع ہے اس کو ضائع نہیں کر سکتے۔ خطے کے تین ارب عوام کو اس کا فائدہ ہوگا ۔