|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2017

کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان نے بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں آپریشن کے دوران نہتے لوگوں کی فورسز کے ہاتھوں شہادت اور خواتین و بچوں کے اغواء پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ شناخت کو مٹانے کے لئے ریاست پوری قوت کے ساتھ متحرک ہے۔ فورسز کے اہلکاروں کے ہاتھوں آئے روز نہتے بلوچوں کی شہادت اور اغواء کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ بلوچ تحریک آزادی سے جڑے عوام کو ریاستی فورسز بزور طاقت ان کے مقصد سے ہٹانا چاہتے ہیں، نصیر آباد سے خواتین کا اغواء فورسز کی انہی پالیسیوں کا حصہ ہے۔ بلوچ خواتین کے اغواء کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے بھی سبی، آواران اور کیچ سے فورسز نے خواتین کو اغواء کیا تھا، اگر عالمی ادارے خواتین کی اغواء پر بدستور خاموش بیٹھے رہے تو خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ شدت اختیار کرجائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز فورسز کی آپریشن کے دوران نصف درجن نہتے لوگوں کو فورسز نے فائرنگ کرکے شہید کردیا جن میں ریحان ولد لاشاری بگٹی،گل محمد ولد یعقوب بگٹی،قادو ولد گھنڑا بگٹی،پھالو ولد باری بگٹی، غفور ولد صوالی بگٹی اور میوا ولد پھاردین بگٹی شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ سخت ترین میڈیا پابندی کے باعث بلوچستان میں فورسز کی بربریت کی خبریں لوگوں تک نہیں پہنچ پارہی ہیں، چنددنوں قبل مکران کے علاقے تمپ میں بھی فورسز متعدد گھروں پر چھاپوں کے بعد 4نوجوانوں کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے تھے جو کہ اب تک لاپتہ ہیں۔