|

وقتِ اشاعت :   January 9 – 2017

لاہور: ہائی کورٹ نے خواجہ سراؤں کو مردم شماری میں شامل کرنے اور شناختی کارڈ کے فارم میں ان کی جنس کے حوالے سے خصوصی خانہ رکھنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ نے خواجہ سراؤں کو مردم شماری میں شامل نہ کرنے کے خلاف متفرق درخواست کی سماعت کی۔ آئینی درخواست شیراز ذکا ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ خواجہ سرا معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور تمام بنیادی حقوق کے حق دار ہیں لیکن خواجہ سراؤں کو معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھتا جاتا ہے، ان کے تحفظ کے لئے کوئی قانون موجود نہیں، اس لئے عدالت خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لئے موثر قانون سازی کا حکم دے اور شناختی کارڈ میں ان کی خصوصی جنس کا خانہ بھی رکھا جائے۔
سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وزرات بہبود آبادی کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے شناختی کارڈ میں خواجہ سراؤں کی جنس کے حوالے سے علیحدہ خانہ بھی رکھ دیا ہے جب کہ مارچ ہونے والی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ عدالت عالیہ نے خواجہ سراؤں کو مردم شماری میں شامل کرنے اور شناختی کارڈ کے فارم میں ان کی جنس کے حوالے سے خصوصی خانہ رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا۔