|

وقتِ اشاعت :   January 10 – 2017

تربت : پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سرداریارمحمدرند نے کہاہے سی پیک خنجراب سے گوادرتک ہے مگر 270ارب کے منصوبے صرف لاہورمیں بن رہے ہیں گوادرمیں کچھ نظرنہیں آتا ‘ بلوچستان میں صرف لنک روڈ دی گئی ہے کیا سی پیک اسی سڑک کانام ہے ‘نوازشریف کے خلاف ثبوتوں کی موجودگی کے باوجودکچھ نہیں کیاجارہاہے ان خیالات کااظہار انہوں نے رند ہاؤس تربت میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا اس موقع پر میرمحمد علی رند‘ میراصغررند‘ میر عبدالرؤف رند ‘ تحریک انصاف کیچ کے رہنما وارث دشتی ودیگر بھی موجودتھے ‘ سردار یارمحمد رند نے کہاکہ وہ نجی دورے پر تربت آئے ہیں تاکہ وہ اپنے بھائیوں سے ملاقات کرسکیں علاقہ اور عوام سے حال واحوال اور واقفیت حاصل کرسکیں ‘ کل سے لوگوں نے جس طرح مجھے عزت بخشی ہے میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا انہوں نے کہاکہ بلوچستان کامستقبل اب پی ٹی آئی ہے کیونکہ یہاں کے عوام نے سب جماعتوں کو آزمایاہے کوئی جماعت ایسی نہیں بچی ہے جو اقتدار میں نہ رہی ہو ‘ مگر انہوں نے عوام کو مایوسی کے سواکچھ نہیں دیاہے اس لئے عوام کی نظریں اب صرف پی ٹی آئی پرہیں انہوں نے کہاکہ سی پیک بلوچستان میں بڑی تبدیلی کاموجب بنے گی تاہم یہ تبدیلی مثبت ہوگی یامنفی ابھی کچھ کہانہیں جاسکتا ‘کیونکہ حکمران سی پیک کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ‘ سی پیک کامرکز گوادرہے اوریہ اقتصادی روٹ خنجراب سے گوادر آرہی ہے مگر 270ارب روپے کے اورنج اورجنگلہ ٹرین منصوبے صرف لاہورمیں بن رہے ہیں بلوچستان کے باقی حصوں توچھوڑیں گوادرمیں پینے کاپانی میسرنہیں‘ 53ارب ڈالر کے اس منصوبے میں ہمیں بلوچستان میں صرف ایک سڑک کے سواکچھ نظرنہیں آرہاہے ‘ گوادر میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز اورکالجز نہیں بنائے گئے ہیں حالانکہ چاہیے تویہ تھاکہ گوادر سمیت مکران کے اضلاع سے 5‘5ہزار نوجوانوں کو ٹریننگ دی جاتی اورجونہی سی پیک منصوبوں کاآغازہوتا تو یہاں سے تربیت یافتہ نوجوانوں کی کھیپ تیارملتی ‘ سی پیک کے حوالے سے بلوچستان کی حکومت کیاکررہی ہے ‘ کچھ نظرنہیں آرہا ‘ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ تبدیلی مثبت اوربہتر اندازمیں آئے اس لئے تحریک انصاف سی پیک کے حوالے سے عوامی امنگوں کی ترجمانی کررہی ہے ‘حکمران سی پیک کوصرف کمائی کاذریعہ نہ بنائیں پاکستان کو ایک بہترین موقع ملاہے اسے ضائع ہونے سے بچایاجائے۔