|

وقتِ اشاعت :   January 12 – 2017

گوادر: پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی حکومت نے گوادر پورٹ اور اس سے جڑے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے بارے میں مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں قانون سازی کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

اس کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری کی زیر صدارت میں منگل کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

گوادر پورٹ اور اس سے منسلک دیگر منصوبوں کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ایک بڑا حصہ بلوچستان سے گزرے گا۔

اگرچہ سرکاری حکام ان منصوبوں کو پاکستان اور بلوچستان کے لیے گیم چینجر قرار دے رہے ہیں لیکن جہاں تک بلوچستان کی بلوچ آبادی والے علاقوں کا تعلق ہے ان میں ان منصوبوں کے حوالے سے بہت زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے۔

بعض بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے نہ صرف ان منصوبوں کی مخالفت کی جارہی ہے بلکہ بعض جماعتیں ان پر تحفظات کا اظہارکررہی ہیں۔

ان تحفظات کے پیش نظر کابینہ نے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار کاکڑ کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی شامل ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اس سلسلے میں ماہرین کی ضرورت ہوئی تو ان کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

انوار کاکڑ کا کہنا ہے کہ ‘جو تحفظات ہیں ان کو آئین اور وفاق پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے گا اور جو آئینی طور پر ممکن ہوگا کیا جائے گا۔ جہاں وفاق کا کردار ہوگا وہاں وفاق کردار ادا کرے گا اور جہاں صوبے کا کردار ہوگا وہاں صوبہ کردار ادا کرے گا۔’

جن قوم پرست جماعتوں کی جانب سے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے ان میں سب سے بڑا خدشہ گوادر کی مقامی آبادی کی اقلیت میں تبدیل ہونے کا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی دبئی، ہانگ کانگ اور سنگاپور ماڈل کی طرز پر اقتصادی راہداری اور گوادر بندرگاہ کی ترقی کے تناظر میں مقامی آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔

انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے باہر سے آنے والی آبادی ایک بڑ ا چیلنج ہوگا۔

‘باہر سے جو لوگ آتے ہیں ان کو باقی تمام حقوق حاصل تو ہوں لیکن ان کو ووٹ کا حق نہ ہو۔ باہر سے آنے والوں کو اپنا ووٹ ان علاقوں میں استعمال کرنا چاہیے جہاں سے وہ آئیں گے۔’

اگرچہ حکومت بلوچستان نے سفارشات اور قانون سازی کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن بعض آئینی اور قانونی ماہرین کی یہ رائے ہے کہ اس کے لیے آئین میں ترامیم کی ضرورت ہوگی۔

ان ماہرین کے مطابق آئینی تحفظ نہ ہونے کی صورت میں اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی سے کوئی بھی قانون مؤثر نہیں ہوگا۔