|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد:پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کوئی بھی فریق سچ سامنے نہیں لا رہا مصدقہ دستاویزات آخر کون فراہم کرے گا؟ صورتحال عجیب ہوتی جا رہی ہے ایسے میں اصل معلومات تک رسائی کیسے ممکن ہو گی؟ درخواست گزار نے دستاویزات دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے، آپ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، ہم اس معاملے کو کیسے سمیٹیں؟ جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ تمام دستاویزات حسین نواز ہی فراہم کر سکتے ہیں جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ 26سال تک پیسہ بڑھتا گیا کیا اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں ؟بدھ کو پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل ، جسٹس گلزار احمد ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے کی ، مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی توکے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ کہا کہ سب سے پہلے شیخ عظمت سعید کو صحتیابی کے بعد خوش آمدید کہتا ہوں ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اللہ کے شکر گزار ہیں جس نے جسٹس عظمت سعید کو صحت عطا کی اور ساتھ میں ہر اس شخص کے بھی شکر گزار ہیں جس نے انکو جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ، سلمان اکرم راجہ نے دلائل کا باقائدہ آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایک فیکٹ شیٹ جمع کرائی ہے جس میں الزامات کا مختصر جواب موجود ہے ، یہ فیکٹ شیٹ صرف بنچ کے سمجھنے کے لیے جمع کرائی گئی ہے ، عدالت نے میرے سامنے کل آٹھ سوالات رکھے ہیں ، انہوں نے کہا کہ نہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ ہے اور نہ میرے موکل گواہ ہیں ، جتنا ریکارڈ موجود ہے اس کے مطابق جواب دونگا ، چالیس پینتالیس سال پرانا ریکارڈ موجو د نہیں ہے ، مارشل لاء کی وجہ سے شریف خاندان کی دستاویزات ضائع ہو چکی ہیں ،1999 میں شریف فیملی کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا تھا جس کے باعث شریف فیملی کا ریکارڈ غائب ہو گیا، جو ریکارڈ موجود ہے اس پر عدالت میں جواب دوں گا کیونکہ 45 سال پرانا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے ،سلمان اکرم راجہ نے عدالتی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ کیا عدالت انکوائری کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچ سکتی ہے ، میری رائے کے مطابق بغیر انکوائری کے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکتا ، وزیراعظم کیخلاف کوئی چار ج نہیں ہے اس لیے انکے بچوں کیخلاف بھی کارروائی ممکن نہیں ، میرے قانونی جواب تین بنیادوں پر ہیں ، اگر وزیراعظم کے بچوں کو نیب کے قانون کے تحت ملزم مانا جائے تو ثبوت میرے موکل کے سر نہیں ہیں ، یہ فوجداری مقدمہ نہیں اس لیے اگر حسن ، حسین ملزم بھی ہیں تو انکے کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ، سلمان اکرم راجہ نے ارسلان افتخار کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں عدالت کہہ چکی ہے کہ ٹرائل متعلقہ فورم پر ہو سکتا ہے ، یہ معاملہ بھی تحقیقات کے لیے اداروں کو بھجوایا جا سکتا ہے ، عدالت نے کھبی بھی فوجداری مقدمات کی تحقیقات نہیں کی ہے ،آئین کا آرٹیکل دس ہر شخص کو شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جناب راجہ صاحب پہلے آپ اپنے دلائل مکمل کر لیں پھر سوالات کے جواب دیں ، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عدالت میں میاں شریف اور الثانی خاندان کے تعلقات بارے دریافت کیا گیا ہے ، نیلسن اور نیسکول کے شیئرزاور مالی فائدے بھی پوچھا گیا ہے ،ٹرسٹ ڈید پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں ٹرسٹ ڈید سمیت تمام سوالات کے جواب دوں گا ، ٹرسٹ ڈید جمع کرائی ہے جس میں سوالات کا مختصر جواب بھی موجود ہے ، سپریم کورٹ کے فیصلوں میں انٹرویو میں کہی گئی باتوں کا معاملہ ہو چکا ہے ، سپریم کورٹ یہ بھی قرار دے چکی ہے کہ عوامی مفادات کے مقدمے میں کسی کو ملزم قرار نہیں دیا جا سکتا ، قانون کے مطابق بنائے گئے اداروں کو انکا کام کرنے دیا جائے ، سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل اور دیگر مقدمات میں اداروں سے کام لیا ہے ، سپریم کورٹ خود انکوائری نہیں کر سکتی صرف کمیشن بنائے گی ،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کمیشن فوجداری مقدمے کی طرح ٹرائل کر سکتا ہے ، اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ پہلے دلائل مکمل کریں اور اسکے بعد ایسے قانونی سوالات کے جواب دیں ، جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا یہ وضاحت کی جا سکتی ہے کہ لندن فلیٹس کیسے خریدے گئے ، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ میرا موقف ہے کہ حسن نواز نے لندن فلیٹس داد کے کاروبار سے ذریعے خریدے ،لیکن درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ فلیٹس وزیراعظم کے ہیں ، درخواست گزار فلیٹس کے لیے 1999کے لندن عدالتی فیصلے کا سہارا لیتا ہے ، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عہدے کے استعمال سے لندن فلیٹ خریدے گئے ہیں ، اس پر جسٹس �آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رحمان ملک نے اپنی رپورٹ تیار نہیں کی تھی ، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ذاتی تشہیر کے لیے رحمان ملک نے وہ رپورٹ صدر مملکت کو بھجوائی اور میڈیا کو جاری کی ، رحمان ملک نے معطلی کے دوران لندن فلیٹس بارے رپورٹ تیار کی ، اس حوالے سے رحمان ملک کو سرکاری سطح پر کوئی تحقیقات نہیں سونپی گئی تھی ، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے حسین نواز کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا رحمان ملک کی رپورٹ میں ذکر کیے گئے اکاونٹ سے انکار کر سکتے ہیں ؟ اس پر سلمان اکرم راجہ نے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ بھی رپورٹ کو مسترد کر کے ملزمان کو بری کر چکی ہے ،قانون کی نظر میں رحمان ملک کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، شیزی نقوی کا لندن میں دیا گیا بیان بھی رحمان ملک کی رپورٹ کی بنیاد پر تھا ، سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ یہ ثابت ہے 1999میں فلیٹس وزیراعظم تو کیا شریف خاندان کے کسی بھی فرد کے نہیں ہیں ، 93سے96کے دوران الثانی خاندان نے فلیٹس خریدے ،جنوری 2006میں الثانی خاندان نے فلیٹس کے بیریئر سرٹیفکیٹ حسین نوان کے حوالے کیے، اور 2006میں ہی یہ بیریئر سرٹیفکیٹ کے شیئرز منروا کمپنی کو ملے ، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ اس کا کیا ریکارڈ ہے ، ریکارڈ کب فراہم کریں گے آپ پہلے دن سے ادھر ادھر چھلانگے لگا رہے ہیں دستاویزات ہیں تو پیش کریں ، الزام یہ ہے کے مریم نواز نے منروا سے رابطہ کیا ، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ منروا سروسز فلیٹس کی دیکھ بحال کرتی ہے ، حقائق کے ساتھ جوا نہیں کھیلوں گا اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ معاملہ ایمانداری کا ہے ، جبکہ سلمان اکرام راجہ کا دوران دلائل کہنا تھا کہ قطری خاندان سے سیٹلمنٹ کے بعد کمپنیوں کے سرٹیفکیٹ ملے جس پر جسٹس آ صف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا سیٹلمنٹ حماد بن جاسم سے ہوئی یا الثانی خاندان سے؟ اس پر رلمان اکرام راجہ کا کہنا تھا کہ سیٹلمنٹ محمد بن جاسم سے ہوئی، محمد بن جاسم کے بڑے بھائی 1991 اور والد جاسم 1999 میں وفات پا گئے تھے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ محمد بن جاسم سے کمپنیوں کے سرٹیفکیٹس حسین نواز کو کیسے ملے؟ دوسرے قطری خط میں لکھا ہے یہ سرٹیفکیٹ ڈیلیورذ کیے گئے، قطری خط میں یہ نہیں لکھا کہ سرٹیفکیٹ حسین نواز کو دئیے ، اس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ سرٹیفکیٹس الثانی خاندان کے نمائندے نے حسین نواز کے نمائندے کے حوالے کیے، جبکہ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ دبئی فیکٹری کے 12 ملین درھم الاثانی خاندان کے پاس پڑے ر ہے اور 26 سال تک یہ پیسہ بڑھتا رہا؟کیا اس سرمایہ کاری کا دستاویزی ثبوت موجود ہے ، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ ریکارڈ نہیں رکھا گیا، منروا کی خدمات جنوری دو ہزار چھ کے بعد حاصل کی گئیں، جولائی دو ہزار چھ میں شیئرز منسوخ کر کے منروا کے نام پر جاری ہوئے، دو ہزار چودہ میں شیئرز ٹرسٹی سروسز کو منتقل ہو گئے،شیئرز کی منتقلی حسین نواز کی ہدایت پر کی گئی ،سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہی مالکان کا پتہ ہوتا ہے، اس پر جسٹس گلزر احمد نے استفسار کیا کہ منروا سے پہلے کون سروسز فراہم کرتا تھا، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ رحمان ملک رپورٹ کے مطابق کوئی دوسری کمپنی یہ سروسز فراہم کرتی تھی، اس پر جسٹس گلزار نے استفسار کیا کہ اگر شیئرز سرٹیفکیٹ گم ہو جائیں تو مالک کس سے رابطہ کرے گا؟رابطہ کرنے پرشیئر ہولڈر ہونے کا ثبوت بھی دینا ہو گا، کمپنیوں اور شیئرز کا ریکارڈ کہیں نہ کہیں تو موجود ہوتا ہی ہو گا، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا لگتا ہے معاملہ ریکارڈ پر نہیں، یادداشت پر چلتا ہے، جبکہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ منروا کمپنی کا خط بھی یادداشت پر مبنی ہے،آخر منروا سے متعلق ریکارڈ دینے میں کیا مسئلہ ہے؟ اس پر سلمان اکرم نے کہا کہ دو ہزار چودہ میں منروا کی سروسز ختم کر دی گئی تھیں،اب یہ منروا کی صوابدید ہے کہ وہ کیا ریکارڈ دیتی ہے اور کیا نہیں،کوشش کروں گا کہ زیادہ سے زیادہ ریکارڈ دے سکوں، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید کو کہنا تھا کہ ایک نہ ایک دن تو ریکارڈ سامنے آنا ہی ہے، اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حسین نواز سے کہوں گا کہ منروا سے دو ہزار چھ کا ریکارڈ حاصل کریں، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا حسین نواز کے کہنے پر منروا کمپنی ریکارڈ فراہم کر سکتی ہے،آپ کو ریکارڈ فراہم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے ، جبکہ دلائل کے دوران سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ حسین نواز کے نمائندے نے منروا کمپنی کے نمائندے کو خط لکھا،خط مریم نواز کے بینیفشل مالک ہونے کی دستاویز سے متعلق تھا، ای میل کے جواب منروا کمپنی نے دستاویز کی تردید کی، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ حسین نواز نے منروا کمپنی کو خود خط کیوں نہیں لکھا ، ارینا کمپنی کو منروا سے رابطے کی ہدایت کس نے کی؟ اس پر حسین نواز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حسین نواز نے ارینا کمپنی کو رابطے کی ہدایت کی ہو گی، جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ منروا کے جواب میں کہیں نہیں لکھا کہ مریم نواز کے دستخط جعلی ہیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ منروا کمپنی نے دو ہزار پانچ کے دستاویزات سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے ، ا س پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ لندن فلیٹس کو بینک کے پاس گروی رکھوایا گیا تھا، گروی رکھوانے کے دستاویزات پر کس کے دستخط تھے؟ دو ہزار آٹھ میں فلیٹس کو گروی رکھوایا گیا تھا جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ حسین نواز نے انٹرویو میں کہا تھا کہ mordgage کی رقم آج تک ادا کر رہے ہیں، جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ مصدقہ دستاویزات آخر کون فراہم کرے گا؟ صورتحال عجیب ہے، اصل معلومات تک رسائی کیسے ممکن ہو گی؟ درخواست گزار نے دستاویزات دینے سے معذوری ظاہر کر دی ہے، آپ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، ہم اس معاملے کو کیسے سمیٹیں؟ اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹرائل ہو رہا ہے نہ تحقیقات کہ تفتیشی افسر دستاویزات کی تصدیق کرا کے لائے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تمام دستاویزات حسین نواز ہی فراہم کر سکتے ہیں، اس پر سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ جو ریکارڈ دستیاب تھا وہ عدالت کو فراہم کر دیا ہے، مزید بھی جو کچھ ممکن ہوا فراہم کریں گے، جبکہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ یہ نہ تو کریمینل ٹرائل ہے اور نہ کریمنل ٹرائل کر سکتے ہیں،اگر سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پیاز کی طرح ایک کے بعد ایک پرت سامنے آتی جائے گی، سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں ہم سوالات کا سلسلہ کہاں جا کر روکیں گے، اگر سوالات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ معاملہ کیسے نمٹے گا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قطری سرمایہ کاری 26 سال الثانی خاندان کے پاس رہیں اور میاں شریف کی ہدایت پر الثانی خاندان بوقت ضرورت رقم بھی فراہم کرتا تھا ،قطری سرمایہ کاری اور معاملات طے ہونے کا کوئی تو ریکارڈ ہو گا ، اس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ میاں شریف کی زندگی میں حسن نواز کو بزنس کے لیے قطری فنڈ دئیے ،جدہ مل کے لیے بھی فنڈز کا بندوبست بھی میاں شریف نے کیا، جدہ مل 63 ملین ریال میں 2005 میں فروخت ہوئی، ،اتفاقی طور پر جدہ مل خریدنے والی کمپنی کا نام اتفاق تھا،شریف فیملی کے ساتھ صرف ایک شاہی خاندان کے تعلقاے نہیں تھے ،بعض وجوہات کی بناء پر دیگر شاہی خاندانوں کے نام نہیں دے سکتا، شاہی خاندان شریف فیملی کو تحائف بھی دیتے رہتے ہیں اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ تحائف یکطرفہ ہیں یا شریف فیملی بھی تحائف دیتی ہے ، اس پر سلمان اکرم کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیادہ تفصیلات کا علم نہیں ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ لندن میں 2 بچوں کے لئے 4 فلیٹس کا بندوبست کیوں کیا گیا جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ 2 نہیں 3 طالبعلم تھے، حمزہ شہباز کے لئے بھی ایک فلیٹ خریدا گیا تھا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج آپ ایک اور طالبعلم سامنے لے کر آ گئے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن میرا خیال ہے حمزہ شہباز بھی لندن میں طالبعلم تھے۔ اس حوالے سے تفصیلات لے کر عدالت کو بتاوں گا، شریف خاندان 1993 سے لندن میں مقیم ہے،صرف رہائش رکھنا ملکیت ظاہر نہیں کرتا، جبکہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ مریم حسن اور حسین سب نواز شریف سے منسلک ہیں ،حتی کہ وہ انہیں سرو بھی کرتے ہیں ج ،درخواست گزاروں نے چیئرمین نیب اور ایف بی آر کے خلاف کاروائی کی استدعا کی ہے ، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہم سے نہ صرف نااہلی کا ریلیف مانگا گیا ہے بلکہ حکم نامہ بھی طلب کیا گیا ہے ہمیں علم ہے کسطرح عدالتی دائرہ اختیا رکھنا ہے ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کہا گیا ہے ادارے کام نہیں کر رہے اس لئے عدالت اپنا دائرہ احتیاط استعمال کرے اوس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ میں نے184/3 کے حوالے بارہ سوالات عدالت کے سامنے رکھ دیئے ہیں ، عدالتی وقت ختم ہونے پر عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت آج (جمعرات) تک کیلئے ملتوی کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کو اپنے دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔