|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں لوگوں کو مارا جارہاہے لیکن وزارت داخلہ کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے ، ریاست دہشتگردی کی درست تحقیقات کرنا گوارا نہیں کرتی، کچھ کہیں تو ریاست ناراض ہوتی ہے ، لاہور دھماکے کا تعلق اس تنظیم سے ہے جس کا ذکر کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں کیا گیا ہے یہ ریمارکس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لاہو ر کے بادامی باغ ریلوے سٹیشن بم دھماکوں کے ملزمان کی اپیل کی سماعت کے دوران د یئے ہیں عدالت عظمیٰ نے پراسیکیوٹر جنرل کو تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے ۔بدھ کو کیس کی سماعت جسٹس دوست محمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، دوران سماعت عدالت وزارت داخلہ کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیاور ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ لاہور دھماکے کا تعلق اس تنظیم سے ہے جس کا ذکر کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں کیاگیا، ملک میں لوگوں کو مارا جارہاہے لیکن وزارت داخلہ کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے ، ریاست دہشتگردی کی درست تحقیقات کرنا گوارا نہیں کرتی، کچھ کہیں تو ریاست ناراض ہوتی ہے ، لیکن خود بھی کام نہیں کرتی ، وزارت داخلہ بضد ہے کہ کوئی اقدام کیوں اٹھائیں جبکہ جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں بہت کم جگہیں ہی دہشتگردوں کی پہنچ سے باہر ہیں دہشتگردوں کے فنڈز روکنے میں ادارے ناکا م ہو چکے ہیں، ملک میں بارڈر منجمنٹ کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا ،،کل لاہور میں دہشتگرد کو کوئی نہ کوئی تو لے کر آیاہے ، کالعدم تنظیموں پر پابندی کے بعد اکاونٹس منجمند کرنا بھی ضروری ہوتا ہے، جسٹس دوست محمد نے کہا کہ لاہور کے شہدا ء کسی کے بچے تھے ، برطانیہ نے دہشتگردی کو کمزور کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ، ہیں عدالت کی پراسیکیورٹر پنجاب کو کیس کی مزید تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی ،یاد رہے کہ ملزمان غلام صحفی ، رحمت علی بابا پر لاہور میں بم دھماکوں کے الزامات ہیں، پانچ جولائی 1987کو ریلوے سٹیشن دھماکے 10افراد جاں بحق ،40زخمی ہوئے تھے۔