|

وقتِ اشاعت :  

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے اجلاس میں آیندہ مالی سال کیلئے وزارت پانی وبجلی اورذیلی اداروں کے ترقیاتی بجٹ کا جائزہ لیا گیا۔ حکام کی طرف سے بجلی اور پان کے جاری منصوبوں اور ان پر آنے والے اخراجات پر بریفنگ دی گئی وفاقی وزیر پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ پی ایس ڈی پی سیکٹر میں منصوبوں کیلئے ہم نے فنڈنگ کی ہے جس میں آر ایل این جی کے منصوبے بھی شامل ہیں دیا میر باشا ڈیم بھی اسی میں شامل ہے وفاق اریگیشن سیکٹر کیلئے جتنا بھی کردار ادا کر سکتی ہے کرے گی عابد شیر علی نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں پانی کا ضیاع ہوتا ہے ہمارا پانی سٹور نہیں ہوتا پانی کی یو ٹالئیزیشن بھی نہیں ہوتی۔صوبائی حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جتنا پانی زیادہ ہوگا ہماری فصلیں بہتر ہوں گی اور پاکستان خوشحال ہو گاجو منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اس کا احتساب ہونا چاہئے اور جن کنٹریکٹر کو منصوبوں کے ٹھیکے دئے جاتے ہیں تاخیر کے شکار کی صورت میں ان کا بھی احتساب ہونا چاہئے اس کیلئے سزائیں بھی ہونی چاہئے کیونکہ عوام کا پیسہ ضائع ہو جاتا ہے پی ایس ڈی پی سیکٹر میں منصوبوں کیلئے ہم نے فنڈنگ کی ہے جس میں آر ایل این جی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔دیا میر باشا ڈیم بھی اسی میں شامل ہے وفاق اریگیشن سیکٹر کیلئے جتنا بھی کردار ادا کر سکتی ہے کرے گی عابد شیر علی کا پاکستان میں پانی کے ضیاع کا اقرار ہمارا پانی سٹور نہیں ہوتا۔ پانی کی یو ٹالئیزیشن بھی نہیں ہوتی۔صوبائی حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جتنا پانی زیادہ ہوگا ہماری فصلیں بہتر ہوں گی اور پاکستان خوشحال ہو گا کمیٹی کا اجلاس بھ کو پارلیمنٹ ہاوس میں چئیرمین کمیٹی ارشد خان لگاری کی زیر صدارت منعقد ہوا ایڈیشنل سیکرٹری پانی و بجلی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے منصوبوں کیلئے وفاقی ترقیاتی بجٹ بہت کم ہے، بجٹ پہلے70 ارب روپے ہوتا تھا، اب31 ارب روپے ملتا ہے، آیندہ مالی سال پانی کے منصوبوں کیلئے 150ارب روپے کی ضرورت ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اتنا بجٹ تو وزارت کا نہیں ہے،جتنا آپ صرف پانی کے منصوبوں کیلئے مانگ رہے ہیں۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 2016۔17کیلئے 173منصوبوں کیلئے 216ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی تھی لیکن صرف25سے 30فیصد فنڈ ہی جاری کئے گئے۔ رکن کمیٹی نواب یوسف تالپور نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز بروقت جاری کیے جائیں،فنڈزاجرا میں تاخیر سے منصوبوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے، اس سے منصوبے بروقت مکمل بھی نہیں ہوپاتے۔ واپڈا حکام نے بتایا کہ کچھی کینال منصوبے کی لاگت57 سے بڑھاکر80ارب کرنے کی تجویزہے۔رکن کمیٹی جنید انوار چودھری نے کہا کہ اتنی لاگت بڑھنے پر کوئی احتساب بھی ہے؟، اس طرح لاگت بڑھنے سے منصوبے بہت مہنگے پڑیں گے۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی زمین کا حصول اور آر ایل این جی منصوبوں کی کاسٹ پی ایس ڈی پی سے ادا کی گئی، آبپاشی صوبائی معاملہ ہے، اس کے باوجود اس شعبے کے مسائل کے حل کے لیے صوبوں سے تعاون کررہے ہیں، ہم اپنا زیادہ تر پانی ضائع کررہے ہیں، اس سلسلے میں ریڈ لائن کراس کررہے ہیں،دنیا کی طرح پانی کے انتظام کو بہتر بنانا ہو گا، نہری پانی چوری ہورہا ہے،صوبائی حکومتیں روک تھام کے لیے اقدامات کریں،ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہونے چاہئیں،منصوبوں میں تاخیر سے ملک و قوم کا پیسہ ضائع ہوتا ہے، تاخیرکی تحقیقات کرکے قصور واروں کو سزائیں ملنی چاہئیں۔قائمہ کمیٹی کو سیپکو حکام نے بتایا کہ آ ئندہ مالی سال کے لئے ہمیں سات ارب روپے کی ضرورت ہے۔گیپکو حکام کی طرف سے آ گاہ کیا گیا کہ گوادر میں ٹرانسمیشن لائن کے بڑے منصو بے سمیت تین جاری منصو بوں کے لئے فنڈز درکا ر ہیں۔آ ئیسکو حکام کی طرف سے بتا یا گیا کہ چو تھے مر حلے میں پچاس منصو بو ں کے لئے 17ارب کی رقم درکار ہے۔ یہ منصو بے اگلے سال مکمل ہو جائیں گے۔