| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :  

70سال کے بعد دوسری بار یہ موقع ہاتھ آیا ہے کہ پہلے مرحلے میں چترال سے پشین تک ایک صوبے کا قیام عوام کی مرضی سے بنایا جائے۔ یہ موقع اس وقت آیا ہے جب ریاست پاکستان نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ آزادقبائلی علاقوں خصوصاً فاٹا اور اس کے تمام ملحقہ علاقوں کو کے پی کے میں ضم کیا جائے اور فاٹا کے قبائل کے بنیادی انسانی حقوق کو بحال کیا جائے ریاست کے تمام اداروں نے اس پر حامی بھرلی ہے اور اس کی حمایت کا اعلان کردیا ہے کہ فاٹا کے علاقوں کو کے پی کے میں ضم کیا جائے گا۔ اس سے قبل ایک موقع اس وقت آیا تھا جب جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے ون یونٹ توڑنے اور تاریخی صوبے بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس وقت اگر قومیت ، زبان، نسل کی بنیاد پر صوبے بنائے جاتے تو پاکستان کی شکل کچھ اور ہوتی۔ یہ زیادہ متحد اور طاقت ور ہوتا اور تمام قومیتوں کے لوگ خصوصاً تاریخی خطوں کے مالک اپنے ملک کو زیادہ مضبوط بناتے۔ لیکن کوتاہ نظر فوجی ٹولے نے انسانوں کے بجائے انتظامیہ کو اہمیت دی اور انتظامی صوبے بنائے۔ فاٹا کو الگ تھلگ رکھا تاکہ وہاں پر دہشت گردی اور قانون شکنی کوسرپرستی حاصل رہے۔ افغانستان کے بعض مفتوحہ علاقوں کو سیاسی یا دیگر مردہ جوہات کی بنا پر انتظامی طور پر بلوچستان کا حصہ بنایاگیا۔حالانکہ وہ فاٹاکی ایک اور ایجنسی ہوسکتی تھی اگر اس کو وسیع تر پشتون صوبے کا حصہ نہ بنایا گیا۔برطانوی راج کے نظام کو ان علاقوں میں مضبوط تر بنایا گیا۔بعض بلوچ علاقے انگریز بہادر نے خان قلات سے مستعارلئے تھے ان میں بولان،سبی، نصیر آباد، چاغی یا رخشان کے بعض علاقے، مری اور بگٹی قبائلی علاقے ریاست قلات سے صرف اس لئے الگ کئے گئے تھے کہ یہ خطہ افغانستان کے خلاف فرنٹ لائن خطہ بن جائے۔ریاست قلات جن کے ریاست افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات تھے اس لئے ریاست قلات کو فرنٹ لائن ریاست نہیں بننے دیا گیا۔بلکہ لوگاس کے لیے تیار نہیں تھے۔ بلوچ علاقوں کو لیزپر لینے کو برٹش افغانستان قرار دینا تاریخ کا بے رحمانہ قتل ہے۔ آج ہمارے رہنما اور رہبر جناب محمود خان اچکزئی کے لیے یہ موقع فراہم کردیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان سے اور اپنے عمل سے اس کی حمایت کریں کہ افغانستان کے مفتوحہ علاقے انتظامی طور پر یا سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بلوچستان میں ہیں ان کو وسیع تر پشتون صوبے میں شامل کیا جائے دوسرے الفاظ میں چترال سے پشین تک بڑا اور طاقتور پشتون صوبہ بنایا جائے۔ہم اپنے سیاسی رہنماؤں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس کے لیے وہ بلوچستان اسمبلی میں قرارداد خود پیش کریں تاکہ دوسری تمام پارٹیاں بشمول حکومت کی اتحادی پارٹیاں ان کی حمایت کریں گی۔بلکہ بلوچ قوم پرست پارٹیاں بھی اس کی حمایت کریں گے۔ ایسے عمل سے شکایات کا پینڈور اباکس ہمیشہ ہمیسہ کیلیے بند ہوجائے گا۔ ویسے بھی پاکستان ایک رضاکارانہ وفاق ہے۔فی الحال اس وفاق میں بلوچستان، سندھ، پنجاب اور کے پی کے ہیں۔سرائیکی علاقوں کو بھی ایک وفاقی اکائی کا درجہ دیا جائے اور اس کو بھی پاکستانی وفاق کا حصہ بنایا جائے رہی بات گلگت بلتستان کی۔اس کو تو ریاست نے خود ’’متنازعہ علاقہ‘‘ قرار دیا ہے جب ریاست اس کو پاکستان کا حصہ تصور کرے گی تو اس کو بھی ایک وفاقی اکائی کا درجہ دیا جاسکتا ہے تاریخی طور پر پاکستان نیشنل پارٹی جس کی بنیاد خان عبدالغفار خان نے ڈالی تھی اور میر غوث بخش بزنجو اس کے سیکریٹری جنرل تھے۔ اس کے بنیادی دستاویزات میں اس بات کا مطالبہ شدت کے ساتھ کیا گیا تھا کہ فاٹا یا پاکستان کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو کے پی کے صوبے میں ضم کیا جائے اور قبائل کو بھی انسانی، جمہوری اور شہری حقوق دیئے جائیں۔ یہ مطالبہ 1950کے اوائل میں کیا گیا تھا۔ بلوچ اور پختون قوم پرستوں نے یہ مطالبہ کیا تھا۔مرحوم خان عبدالصمد خان اچکزئی اس کے روح رواں تھے۔اب محمود خان اور اس کے ساتھیوں کے پاس کوئی جواز نہیں بچتا کہ وہ اس مطالبے کی مخالفت کریں کہ زبان نسل اور قومیت مشتمل صوبے بنائے جائیں اور بلوچستان کے ان علاقوں کو جو کبھی افغانستان کا حصہ تھے ان کو کے پی کے میں شامل کیا جائے۔