|

وقتِ اشاعت :  

خضدار:ملک بھر کے اسکولز میں ریاضی اورسائنس کی معیار تعلیم بدترین زوال کا شکار ،بلوچستان میں معیار کو جانچنے کے لیے اپنا کوئی ادارہ موجود نہیں ،معیار تعلیم کی بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے ،یہ بات تعلیم کی بہتری کے لیے سرگرم ادارے الف ااعلان کے تحت پاکستان میں سائنس اور ریاضی کی صورتحال پر جاری ایک رپورٹ میں کہی گی ہے ،رپورٹ کے جاری ہونے کے موقع پر پریس ریلز میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کے اسکولوں میں بالخصوص سرکاری اسکولوں میں ریاضی اور سائنس سیکھنے اور پڑھانے کامعیار ناقابل برداشت حد تک گرچکاہے ،یہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے واضح مسلہ ہے جس کی جڑیں گہری ہیں اور اس کے اثرات بھی دور رس ہیں ،تعلیم کی بہتری کے لیے کام کرنے والی تنظیم الف اعلان کے مطابق نیشنل ایجوکیشن اسسمنٹ سٹم این ای اے ایس کے تحت 2014 میں ہونے والے امتحانی نتایج میں آٹھویں جماعت کے بچوں کا ریاضی میں اوسط ایک ہزار میں سے صرف 461 تھا ،جب کے اس سال میں چوتھی جماعت کے بچوں کے امتحانات میں ریاضی کا اسکورایک ہزار میں سے 433 تھا ،رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ پنجاب ایگزمنیشن کمشن کے مطابق صوبے میں پانجویں جماعت کے بچوں کاسائنس میں امتحانی تنائج کا اسکور 49 تھا جبکہ سندھ اسٹنڈریز اچیومنٹ ٹیسٹ کے مطابق صوبے میں پانچوں کے بچوں کا امتحانی نتایج میں ریاضی میں اوسط اسکور 24 فیصد تھا ،رپورٹ کے مطابق صوبہ بلوچستان ،خیبر پختواہ اور فاٹاو کشمیر کے مڈل اسکول میں تعلیمی معیار کو چانچنے کے لیے نیشنل ایجوکیشن اسسمنٹ سٹم کے علاوہ کوئی ادارہ موجود نہیں ،جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مناسب معیار کی ریاضی اور سائنس کی تعلیم فراہم نہیں کررہاہے جس کی بڑی وجہ حکومتی سطح پر سائنس اور ریاضی کی تعلیم کی بہتری کے لیے عدم اقدامات اور عدم دلچسپی ہے اور ملک بھر میں بچوں کو فراہم کیا جانے والے تدریسی مواد اور بچوں کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو معلوم کرنے اور جانچ پڑتال کرنے کاسسٹم انتہائی ست پست ہے ،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اساتذا کی بھرتی کا شفاف عمل ایک بہترین اقدام ہے مگر چھوٹا عمل ہے