| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   March 14 – 2017

ایک بار پھر وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ریلوے کی زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا ہے اور یہ قبضہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی جاری ہے انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کو رجوع کریں گے کہ وہ ریلوے کی زمین واگزار کرانے میں مدد کرے جہاں تک دوسروں کا غیر قانونی قبضہ ہے وہ بات ٹھیک ہے وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں تاکہ قیمتی زمین دوبارہ ریاستی ادارے کے پاس آئے اور ٹھگوں سے یہ زمین واگزار کرائی جائے لیکن یہ بات بھی حقیقت ہے کہ ریلوے کی اپنی کوئی زمین نہیں ہے یہ ساری زمین جو ریلوے اور وفاق کے دوسرے اداروں کے پاس ہے ان کی ملکیت وفاقی اکائیوں کی ہے۔ جب ریلوے کا قیام لایا جارہا تھا تو اس وقت وفاقی اکائیوں نے بالکل مفت یہ زمین ریلوے کے حوالے کی اس شرط پر کہ ریلوے عوام کو سفر ودیگر سہولیات فراہم کریگی ریلوے اور دوسرے وفاقی اور صوبائی ادارے ان زمینوں کے مالک نہیں ہیں وہ اس زمین کو فروخت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ کرایہ دار ہیں مالکان مکان نہیں ہیں وہ اس زمین کے مالک نہیں ہیں یہ تمام زمین وفاقی اکائیوں کی ملکیت ہے ریلوے اور دوسرے ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اضافی زمین ہے مگر وہ اس کی فروخت نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کو تجارتی سرگرمیوں کے لئے استعمال میں لا سکتے ہیں یہ تمام زمین قوانین کی رو سے صوبائی حکومتوں کو واپس کرنی ہوگی یہ مسئلہ گزشتہ سالوں بلوچستان میں اٹھا تھا ریلوے نے شہر کے درمیان انتہائی قیمتی زمین سرمایہ دار کو فروخت کردی جس پر پورے بلوچستان میں شور شرابا ہوا بعد میں ایک سابق چیف سیکرٹری نے عوامی دباؤ میں آکر حکومتی اداروں خصوصاً محکمہ ریونیو کو حکم دیا کہ ریلوے کی جانب سے فروخت کی جانے والی زمین کی رجسٹریشن نہ کی جائے یعنی فروخت کو قانونی شکل نہ دی جائے ۔ ریلوے کے لئے صوبوں نے زمین خیرات میں دی تھی تاکہ لوگوں کو سفری سہولیات میسر ہوں ۔ زیادہ چالاک ریلوے کے بڑے افسران نے ریلوے کی زمین کو دکانداری اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کیا ہے یہ غیر قانونی ہے یہ کرپشن ہے ان افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔