| شعیب رئیسانی

وقتِ اشاعت :   March 17 – 2017

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا فیصلہ ترقی پسند خواتین، جن میں سے اکثریت محنت کش خواتین کی نمائندگی کر رہی تھی 1910ء میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں کیا گیا تھا اس میں سرکردہ کردار جرمنی کی سرگرم کارکن کلارا زیٹکن نے ادا کیا تھا‘ لیکن اس دن کو عالمی طور پر شہرت اور پذیرائی اس وقت حاصل ہوئی جب روس میں انقلابی تحریک کا آغاز 1917ء کے موسم بہار میں اسی خواتین کے عالمی دن کے مظاہرے سے ہوا۔ زار شاہی کے روس میں پرانا بازنطینی (Byzantine) کیلنڈر رائج تھا۔ اس کے مطابق یہ 23 فروری تھی لیکن جارجیائی (Georgian) کیلنڈر‘ جو آج کل رائج ہے اور اْس وقت بھی بیشتر ترقی یافتہ دنیا میں چلتا تھا کے مطابق 8 مارچ بنتی تھی۔ زار شاہی روس میں جہاں ایک طرف بادشاہت کی مطلق العنانیت اور ہولناک جبر تھا وہاں محنت کشوں اور خصوصاً خواتین محنت کشوں کے استحصال اور ان پر ظلم کی بھی انتہا ہو رہی تھی اس جبر و ستم، بھوک، غربت اور محرومی سے اکتائی ہوئی یہ خواتین مزدور اور گھریلو خواتین جن کا تعلق محنت کش گھرانوں سے تھا، ایک بپھرے ہوئے طوفان کی طرح پیٹروگراڈ کی سڑکوں پر نکل آئیں اور ریاستی فوجوں اور پولیس کے دستوں پر یلغار کر دی تمام تر ریاستی جبر ان کو پسپا اور منتشر نہ کر سکا‘ بلکہ اس کے برعکس خواتین کے اس جلوس کی پیش قدمی جاری رہی اور ان کے ارادے اتنے ہم آہنگ اور جذبے اتنے آہنی تھے کہ ریاستی طاقتوں کو ہی پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔ اس عالمی یوم خواتین کے جلوس نے جیسے پورے مزدور طبقے کے ضمیر اور احساس کو جگا دیا تھا۔ مزدوروں کی بھاری پرتیں صنعتی کارخانوں کو بند کرنے لگیں اور پورے روس میں محنت کشوں کی تحریک نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ ہزاروں سال پرانی زار شاہی کے اقتدار کا ہی خاتمہ ہو گیا۔ زار نکولاس کا تختہ الٹ گیا‘ اس کا تاج اچھل گیا‘ اور بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔آج اس روز کو پورے سو سال ہو گئے ہیں۔ خواتین کی جرات اور طاقت بھرے جذبے نے خواتین کے عالمی دن کو دنیا بھر میں اور آنے والی اس طبقاتی نظام کی تاریخ میں اس کے خلاف بغاوت کی ایک علامت کے طور پر ثبت کر دیا تھا۔ اس حوالے سے 2017ء کا بین الاقوامی یومِ خواتین خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔انقلاب روس لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بازنطینی کیلنڈر کے مطابق 26 اکتوبر اور جارجیائی کیلنڈر کے مطابق 6 اور 7 نومبر 1917ء کی رات کو ایک سوشلسٹ فتح سے ہمکنار ہوا تھا۔ اس میں خواتین کا کردار بھی اہمیت کا حامل تھا۔ لینن نے انقلاب کے بعد لکھا تھا ”خواتین مزدوروں کی حمایت اور شراکت کے بغیر یہ انقلاب اس طرح فتحیاب نہیں ہو سکتا تھا‘‘۔ سوشلسٹ انقلاب کے بعد نئی بالشویک حکومت نے عورتوں کے حقوق اور مانگوں کے لیے جو اقدامات کیے‘ وہ تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں آئے تھے۔ خواتین مزدوروں کی اجرتوں کو مردوں کے برابر کر دیا گیا۔ آئین میں گھریلو محنت و مشقت کو سوشلسٹ ریاست نے صنعتی محنت کے برابر کا درجہ دیا۔ خواتین کے خلاف ہر قسم کی متعصب او ر تضحیک آمیز رویّوں کو ختم کرنے کے لیے خواتین کو ریاستی طاقت کی ہر پرت پر نمائندگی دی گئی۔ گھریلو محنت کو کم کرنے کے لیے کمیونٹی کچن اور بچوں کی نگہداشت کے لیے ہر محلے میں بچوں کے کنڈرگارٹنز قائم کیے گئے۔ زچگی کے دوران خواتین محنت کشوں کو پوری تنخواہ کے ساتھ چھٹی کا سوشلسٹ قانون بنایا گیا۔ اسی طرح ہر شعبہ زندگی میں انقلابی بنیادوں پر جو سماجی تبدیلیاں کی گئیں‘ وہاں خواتین کو معاشرے میں مردوں کے برابر مقام اور عزت دینے کے لیے بہت سے اقدامات کیے گئے۔ وہ سماجی ڈھانچے‘ جو خواتین کو جکڑنے اور ان کو کمتر کرنے کے بابت تھے‘ ان کو ختم کرنے اور یکسر تبدیل کر دینے کا عمل شروع ہوا۔ لیکن 1924۔25ء کے بعد سٹالن کی قیادت میں انقلاب کی زوال پذیری اور افسر شاہی کا آمرانہ راج قائم ہونے کا عمل شروع ہوا۔ اس سے خواتین کو انقلاب سے ملنے والی حاصلات پر نہ صر ف کاری ضربیں لگنا شروع ہوئیں بلکہ ایسے معاشرتی اداروں کی بحالی بھی ہونے لگی جو ماضی میں خواتین کو جکڑنے کا باعث ہوا کرتی تھیں۔آج دنیا بھر میں خواتین دوہرے تہرے استحصال کا شکار ہیں۔ یورپ، امریکہ اور ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں عورت کی آزادی ادھوری اور اذیت ناک ہے۔ اجرتوں سے لے کر سماجی رویّوں تک ہر شعبے میں خواتین مردانہ جبر کا شکار ہیں۔ پسماندہ ممالک میں حالات اس سے بھی بدتر ہیں۔ کہیں رسموں اور رواجوں کی آڑ میں، کہیں ثقافتی روایات کے جبر سے خواتین کو مطیع رکھا جاتا ہے اور ان کی محنت اور زندگی کو ایک استحصالی جکڑ میں بند کیا جاتا ہے۔ لبرل اور سیکولر حکمران سرمایہ دار خواتین کو ان کی تصاویر، ان کی نمائش اور اشتہاری مہمات کے ذریعے اپنی پیداواری اشیا کی فروخت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس منڈی کی معیشت میں منافع خوری کے لیے یہ دولت والے عورت کو ان مصنوعات سے مختلف نہیں سمجھتے۔ لیکن درمیانے اور بالادست طبقات کی مختلف پرتوں میں عورت پر جبر و استحصال کے تازیانے برسائے جاتے ہیں۔ ان کی آزادی کو صلب کرکے ان کو معاشرے میں کوئی فعال‘ جراتمندانہ کردار اور سماجی عوامل میں شراکت اور مداخلت سے کاٹ کر تنہائی اور بیگانگی کے تعفن میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آزادیء4 نسواں کے عمل میں خواتین کی طبقاتی تفریق بھی ایک فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہے۔ بالادست طبقات کی خواتین کا جہاں ‘اور‘ اور محنت کرنے والی دہقان اور مزدور خواتین کا جہاں کچھ اور ہے۔ ان کے مسائل، ان کی زندگی کے حالات، ان کی ضروریات اور مانگیں بالکل مختلف اور ان کے مفادات ناقابل مصالحت ہوتے ہیں۔ اسی لیے گھروں میں نوکرانیوں سے کام کرانے اور ان کی محنت کا استحصال کرنے والی خواتین جب آزادیء نسواں کی باتیں کرتی ہیں تو کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ دولت سے پْرتعیش زندگیاں گزارنے والی خواتین، جو ایک وقت میں لاکھوں کی شاپنگ کرتی اور میک اپ کرواتی ہیں، کی زندگی میں بھلا ان دہقان خواتین کے مسائل اور زندگیوں سے کیا مماثلت ہو سکتی ہے جو تپتی دھوپ میں فصلیں کاٹتی ہیں‘ اور گرم حبس زدہ ماحول میں کھیتوں میں بیج بوتی ہیں۔ جو فیکٹریوں اور کارخانوں میں 16 گھنٹے تک بھی کام کرتی ہیں۔ اْجرت پھر بھی مرد مزدوروں سے کم پاتی ہیں۔ پھر کام سے ”فارغ‘‘ ہو کر گھروں کی صفائی، برتن اور کپڑے دھونے، کھانا پکانے اور بچوں کو سنبھالتے ہوئے ان کو چین اور سکون کا ایک لمحہ بھی میسر نہیں آتا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خواتین کی نجات محنت کش طبقے اور غریب عوام کی نجات کے ساتھ منسلک ہے‘ لیکن اس طبقاتی جدوجہد میں وہ تب ہی جڑ سکتی ہیں‘ جب ان کو مرد مزدوروں سے کوئی خوف و خطرہ نہ ہو۔ ان کے شانہ بشانہ وہ اس جبر و استحصال کے نظام کے خلاف لڑائی میں اسی صورت چل سکتی ہیں‘ جب مرد مزدور اور نوجوان ان کو برابر سمجھیں۔ دل سے ان کو کمتر نہ سمجھیں اور ان پر ہونے والی صنفی جبر کے خلاف بھی ایسی ہی نفرت رکھتے ہوں جیسے خواتین کے دلوں میں ہوتی ہے۔ یہی جڑت اس طبقاتی یکجہتی اور جدوجہد کو ابھار سکتی ہے‘ جو اس نظام زر کی ذلت کو اکھاڑ کر معاشرے کو محرومی سے پاک کرکے آزادی نسواں کے سفر کی منزل کے قریب تر کر سکتی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے کئی دہائیوں بعد بلا آخر قومی اسمبلی نے خواتین کے عالمی دن پر قرارداد متفقہ طورپر منظور کرلی قرار داد کے متن میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے معاشرے میں خواتین کو بہتر ماحول فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ قرار داد حکومتی رکن کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی قرار داد پر بات کرتے ہوئے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ خواتین نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں اور پاکستان بنانے کیلئے بھی عورتیں دیگر رہنماؤں کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ہیں ملک میں الیکشن کیلئے چار فیصد خواتین کی ٹکٹوں کا کوٹہ مخصوص کیا جانا چاہیے اور ایوان میں موجود مخصوص نشستوں پر خواتین کو بھی برابر کے فنڈز دیئے جانے چاہئیں اراکین نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ ملک کے اندر بلوچستان میں عورتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں کہیں عورت کو ونی چڑھا دیا جاتا ہے اور کہیں کارو کاری کی مد میں قربانی کا بکر ا بنالیا جاتا ہے اس دن کی مناسبت سے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا تقریبات میں ایف سی سول ایڈمنسٹریشن مقامی خواتین ،اسکولوں اور کالجز کے اساتذہ اور بچے و بچیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے معاشرے میں خواتین کے کردار پر مفصل روشنی ڈالی۔ کوئٹہ میں عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے محکمہ ترقی نسواں کے زیر اہتمام یو این ویمن بی آر ایس پی اور دیگر فلاحی تنظیموں کے اشتراک سے تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھاکہ خواتین کسی بھی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں خواتین کو برابر حقوق دینے سے ہی معاشرہ ترقی و خوشحالی کی جانب گامزن ہوسکتا ہے پاکستان کی خواتین باصلاحیت اور تعلیم یافتہ ہیں جنہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اس موقع پرصوبائی وزیر صحت رحمت بلوچ، سیکرٹری ترقی نسواں ندیم ہاشم سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ظفر بلیدی ، سیکرٹری کھیل عصمت اللہ کاکڑ، سابق سنیٹر معروف سماجی کارکن روشن خورشید بروچہ، ڈائریکٹر ویمن ڈویلپمنٹ فتح محمد خجک اور ایپکا کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری کے علاوہ مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ کوئٹہ میں نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ معاشرے میں خواتین کے احترام اور حقوق کے حصول فو قیت اور اولیت سے ہی روشن خیال اور شعوری معاشرے کی تشکیل دے سکیں گے خواتین کا کردارمعاشرے کی تعمیرو تربیت اور ترقی میں نہایت اہمیت کا حامل ہیپڑھی لکھی اور باشعور خواتین کو عملی سیاست میں شامل ہوکر معاشرے سے پسماندہ سوچ اور رویوں کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی عملی طور پر تمام شعبوں میں کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور خواتین کی جدوجہد ہمارے معاشرے میں اہم ہے باشعور خواتین کو آگے آکرتمام خواتین کو شعوری سیاست سے آراستہ کراتے ہوئے معاشرے میں روشن خیالی اور ترقی کو ممکن بنائیں ،تقریبات کے دوران خواتین کے تقدس ،معاشرے میں اُن کی قربانیا ں ا و ربطور ماں، بہن ،بیٹی اوربیوی کے معاشرے کوسنوارنے کی اہمیت پرمقامی خواتین نے سیر حاصل بحث کی دالبندین میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تقریب میں ایف سی ،لیڈی پولیس اورمقامی خواتین کے علاوہ اسکول کے طلباء اورطالبات کے ماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ،تقریب میں بچیوں نے حواکی بیٹی کے عنوان سے شاعرانہ کلام پیش کیا،خواتین کا معاشرے میں کردار پربحث کی گئی اور عورت کے مقام پرورائٹی اورکلچرل شوز بھی پیش کیے گئے نوکنڈی میں بھی خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے پُروقار تقریب منعقدکی گئی جس میں تقاریرکے ذریعے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے حضرت بی بی فاطمہؓ کا معاشرے میں کردارخواتین کیلئے مشعل راہ قراردیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں خواتین کے حقوق اوراس کے احترام کی پُرزورتا کید کی گئی ہے تقریب میں مقامی خواتین اوربچیوں نے بڑی تعدادمیں شرکت کی ڈیرہ بگٹی اورکوہلومیں بھی خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں مقررین نے خواتین کے معاشرہ میں کردار پر سیر حاصل بحث کی اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے علمدار شہید ایف سی اسکول سبی میں پروقار تقریب زیر صدارت بیگم کمانڈنٹ سبی سکاؤٹس کرنل ذوالفقار باجوہ کی منعقدہوا تقریب میں مسزمیجر محمد آصف ،پرنسپل گرلز کالج شاہدہ نواز ، پرنسپل گرلز ایلیمنٹری کالج سلمہ عطاء، پرنسپل گرلز ماڈل ہائی اسکول سبی مس نسیم طارق ، گرلز گائیڈر شازیہ خرم، نغمانہ راحیل ، شہید بے نظر بھٹو وومن شیلٹر ہوم کی منیجر مس رخشدہ کوکب کے علاوہ مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ خواتین کی معاونت کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں عورت ہی وہ ہستی ہے جس کے باعث گھر میں رونق ہوتی ہے۔ معاشرے میں خواتین اہمیت کا مقام رکھتی ہیں عورت ماں بیٹی بیوی کے روپ میں اللہ کی طرف سے مرد کیلئے نعمت بناکر بھیجی گئی ہے ماں کی صورت میں بچے بیٹی کی صورت میں باپ اور بیوی کی صورت میں شوہر کی زندگی بھر خدمت کرتی ہے عورت ماں بیٹی اور بیوی کے روپ اللہ تعالیٰ کا عظیم تحفہ ہے عورت کے بغیر گھر ویران قبرستان کی مانند نظر آتا ہے اسلام سے قبل عورت کی کوئی عزت نہ تھی لڑکی کیء پیدائش کے موقع پر غم منایا جاتا تھا اور زندہ درگور کردیا جاتا تھا اسلام کے آنے اور رحمت دوعالم حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی عظیم تعلیمات کی بدولت آج عورت کو وہ مقام ملا جس کی اصل میں وہ حقدار تھی مقررین نے حضرت فاطمہ ؒ کامعاشرے میں کردار خواتین کیلئے مشعل راہ ہے خواتین کو چاہیے کہ وہ حضرت فاطمہؒ کی تعلیمات اور ان کے سنہری اصولوں پر کاربند رہ کر ملک وقوم کی بہتر رہنمائی کریں ۔ملک کی ترقی میں خواتین کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں آج ہر شعبے میں خواتین ملکی ترقی اور خوشحالی میں اپنی صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کررہیں ہے پاک افواج سمیت دیگر اہم ادارون میں خواتین کی مردوں کے ساتھ خدمات کو ہم سب سلام پیش کرتے ہیں خواتین کی عالمی دن کے موقع پر مچھ بھی تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا تقریب میں سیاسی سماجی و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خواتین کی آبادی مردوں کی نسبت کافی زیادہ ہے اس کہ باوجود خواتین کو انکی حقوق سے محروم اور پسماندہ رکھا گیا ہے بلوچستان میں خواتین انتہائی محنت و مشقت دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ کرتی ہے تاہم حکومتی سطح پر خواتین کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں،دنیامیں1911ء سے خواتین کا عالمی دن منائی جارہی ہے اور خواتین کو ان کے حقوق دلانے کے لئے مختلف عالمی تنظیمیں اور ادارے مختلف محرکات کے تحت کام کررہے ہیں سو سال کے اس عرصہ پر غور کیا جائے تو خواتین کو ان کے حقوق تو شاید کم ہی مل سکے ہوں البتہ زندگی کے ہر شعبے میں ان کی نمائندگی ضرور ہوگئی ہے اپنی راہیں متعین کرنے کے بجائے وہ مردوں کے ساتھ دوڑ میں جاکھڑی ہوئیں سپیکر صوبائی اسمبلی راحیلہ حمید خان درانی کا خواتین کے عالمی دن پر کہنا تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں کئی عشروں سے خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ خواتین کی اپنے حقوق کیلئے کی جانیوالی جدوجہد کو اجاگر کیا جاسکے خواتین نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور وہ ترقی کے سفر میں مردوں کے شانہ بشانہ بھرپور انداز میں شریک ہیں دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کی خواتین بھی فہم و شعور کے نئے مراحل طے کررہی ہیں بلوچستان اسمبلی میں خواتین اراکین عددی اعتبار سے اکثریت میں نہ ہونے کے باوجود خواتین کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرمی سے اپنا کردار ادا کررہی ہے آج یقیناًبلوچستان کی خواتین بھی دیگر صوبوں کی خواتین بھی دیگر صوبوں کی خواتین کی طرح اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دیگر اہم شعبوں میں بھی خدمات سرانجام دے رہی ہیں لیکن ابھی ان کی منزل بہت دور ہے ۔قبائلی معاشرہ ہونے کی بناء پر ہمارے یہاں کی روایات اور قدریں دیگر صوبوں سے کسی قدر مختلف ہیں لیکن یہاں خواتین کی عزت و احترام میں کوئی کمی نہیں اور انہیں بنیادی اقدار کی وجہ سے ہماری خواتین بھی تعلیم کے حصول کیلئے کوشاں ہیں اور تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جو خواتین کے حقوق کا ضامن ہے۔ اس دن کی مناسبت سے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شمع اسحاق کا کہنا ہے کہ نیشنل پارٹی نے خواتین کے حقوق کیلئے ہمیشہ جدوجہد کی ہے اور آج نیشنل پارٹی نے پارلیمنٹ اور ایوانوں میں خواتین کو نمائندگی دی ہے جو قابل تحسین اقدام ہے ہم بلوچستان کے معاشرے میں خواتین کو انتہائی قابل قدر نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اسلام اور پشتون بلوچ معاشرے میں خواتین کو اعلیٰ رتبہ دیا گیا ہے اس لئے خواتین بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں بھی بھرپور کردار ادا کررہی ہے نیشنل پارٹی نے جو نمائندگی دی ہے وہ کسی بھی سیاسی جماعت نے نہیں دی آج خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے ٹوڈیز وومن آرگنائزیشن کی چیف ثناء درانی کا خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے کہنا تھا کہ 8مارچ عالمی یوم خواتین کے مناسبت سے نہایت جو ش وخروش سے منایاجاتا ہے میں بلوچستان بھر کی خواتین کو مبارک باد پیش کرتی ہوں اور اس یقین کا اظہار کرتی ہوں کہ خواتین کی ترقی کے حوالے سے ہمارا صوبہ بہت جلد ترقی کریگا۔ ٹوڈیز حکومت بلوچستان کے ادارہ ثقافت وآثار قدیمہ کے علاوہ تمام محکموں کے ساتھ ملکر مشترکہ ثقافت ورثے کی حفاظت اور اس کے امن کے فروغ کے لئے روابط کو قائم کریگی مختلف مذہب او ر زبانوں ے لوگوں سے ملاقات کی جائیگی تقریب میں رضاکاروں فعال گروپ بنایا جائے گا جس میں 50خواتین اور 50مرد شامل ہونگے اس کے علاہ 5ہزار امن کارد دستخط کئے جائیں گے مسلم لیگ (ن)کی رکن صوبائی اسمبلی انیتا عرفان کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ خواتین کی کامیابی میں مردوں کا برابر حصہ ہے جتنی بھی خوبصورت کائنات ہے اس میں سب سے زیادہ حصہ خواتین کا ہے اور خواتین کے بغیر معاشرے میں ترقی ممکن نہیں خواتین کو اپنے حقوق اور مسائل کے حوالے سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ آج کل معاشرے میں خواتین میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہتر خدمات سرانجام نہیں دے سکتیں مگر خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کیلئے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس حوالے سے اپنی جدوجہد کو مزید تیز کرنا چاہئے تب ہی اپنی منزل حاصل کرسکتی ہیں۔ خواتین کی کامیابی میں مردوں کا برابر حصہ ہے ہمیں مل جل کر خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنا چاہئے اور خواتین ہی بہترلیڈربن سکتی ہیں آج کے دن کو منانے کا مقصد بھی ہمیں اپنے حقوق کی بات کرنے ،معاشرے میں برابری اور دیگر مسائل کو اجاگر کرنا ہے تاکہ ہمارے حقوق ہمیں مل سکیں سابق صوبائی وزیر روشن خورشید بروچہ کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھاکہ بلوچستان کی ترقی میں خواتین کا اہم حصہ ہے مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے مگر اب خواتین کی جدوجہد کے باعث انکے مسائل میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے خواتین کے دن کو منانے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم مردوں کے خلاف باتیں کریں بلکہ ہمیں چاہئے کہ ہم مردوں کے برابر کام کریں اس کیلئے سب سے ضروری کوالٹی ایجوکیشن ہے جب ہم تعلیم حاصل کریں گے تو ہمارے مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے اور جو ہمارا آج کا سلوگن ہے بی بولڈ اینڈچیج تو ہم تبدیلی لاسکتی ہیں اور معاشرے میں تبدیلی غریب اور نچلے لوگوں سے ہی آسکتی ہے جس کیلئے ایجوکیشن سب سے زیادہ اہم ہے اور ہمیں کبھی اس حوالے سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیرمین عبدالخالق ہزارہ کا کہنا ہے کہ قوموں کی ترقی میں خواتین کے عملی کردار کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی شرکت اور انہیں زندگی کے تمام امور میں برابری کا درجہ دیئے بغیر کوئی قوم و معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا ہزارہ خواتین کی معاشرے کے ترقی کے عمل میں برابر کا حصہ رہا ہے اس دن کی مناسبت سے ہزارہ ٹاون میں پارٹی کے زیر اہتمام جلسہ بھی منعقدہ کیا گیا تھاجلسہ عام میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی خواتین کے عا لمی دن کے موقع پر گوادر میں منعقد تقر یب سے مقررین کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خواتین ملک کی آ بادی کا نصف حصہ ہیں خوا تین کی قومی تر قی میں شر کت لا زم ملزوم ہے خواتین کا معاشرہ میں اہم کر دار ہے بالخصوص بلوچ معا شرہ میں خواتین کا مقام مقد س ترین سمجھا جا تا ہے نیشنل پارٹی حقوق نسواں کا داعی ہے جس کے پیش نظر نیشنل پارٹی نے خواتین کو سیاست میں اہم مقام دیا ہے آ ج خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے وابستہ ہوکر قومی جد و جہد کا حصہ ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان خواتین ونگ کی صوبائی صدر فہمیدہ جمالی اور انیلا ایڈوکیٹ کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ اگر برطانیہ اور فرانس اپنے بزرگ شہریوں کو گزارہ الاؤنس دے سکتے ہیں تو پاکستان کیوں یہ کام نہیں کرسکتا مگر یہاں کے حکمرانوں نے تمام وسائل اپنے قبضہ میں لے رکھے ہیں اور غریبوں کو تعلیم صحت اور روزگار کی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ عالمی یوم خواتین کے مناسبت سے خضدار میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا قلات اسکاوٹس (ایف سی ) ،الفواد فاونڈیشن و بینظیر وومن سینٹر کی جانب سے گرلز ماڈل سکول خضدار میں جبکہ ہارڈ بلوچستان کی جانب سے ریڈیو پاکستان خضدار میں تقریباب منعقد کی گئی قلات اسکاوٹس (ایف سی ) بلوچستان کے زیر اہتمام و ،الفواد فاونڈیشن وبینظیر وومن سینٹر خضدار کے تعاون سے منعقدہ تقریب کے مہمان خاص مسز برگیڈئیر مظہر تھیں تقریب سے مسز برگیڈئیر مظہر ،الفواد فاونڈیشن کے چیئرپرسن سحر جاموٹ ،بینظیر وومن سینٹر کے منیجر جہاں آراء تبسم ،ماہر تعلیم ہمارئیسانی ،سماجی کارکنان ،روبینہ کریم ،رخسانہ کریم ، زبیدہ مصطفی ،اورروبینہ سلطانہ سمیت دیگر کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فرد کی تربیت عورت کے ہاتھوں سے ہوتی ہے ،عورت کے بغیر معاشرے کی تشکیل نا ممکن ہیں بدلیتی دنیا کے ساتھ خواتین بھی مردوں کی طرح ہر کام میں حصہ لے رہی ہیں اسلام نے بھی خواتین کو برابری کی حقوق دی ہیں،گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول میں ایف سی (قلات اسکاوٹس ) کی جانب سے خواتین کے لئے مینا بازار کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جہاں مختلف اسٹالز لگائے تھے تھے ہارڈ بلوچستان کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ریڈیو پاکستان خضدار میں تقریب منعقد ہوئی تقریب کی صدارت بینظیر وومن سینٹر خضدار جہاں آراء تبسم نے کی جبکہ مہمان خاص برائیو ئی زبان کے عظیم شاعرہ پروفیسر طاہرہ احساس جتک تھیں تقریب سے پروفیسر طاہرہ احساس جتک ،ریڈیو اسٹیشن خضدار کے ڈائریکٹر سلطان احمد شاہوانی ،بلوچستان انجینئرنگ یونیورسٹی کے رجسٹرار شیر احمد قمبرانی ،جہاں آراء تبسیم ،رقیہ سرور ،ملالہ الفت ،آشملہ بی بی اور دیگر کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ آج کا خواتین اپنی حقوق لینے میں کامیاب ہو گئی ہے ہم جس معاشرے میں بستے ہیں ہمارے معاشرے میں عورت کا مقام سب سے اعلیٰ تصور ہوتا ہے اسلام اور بلوچ کلچر نے عورت کی تقدس و احترام کو بنیادی حیثت حاصل ہے ماں کی گود بنیادی تربیت گاہ ہوتی ہیں ارسطوں ،سقراط اور گزرے اعلیٰ شخصیات کی تربیت میں بھی بنیادی کردار ماں ہی کا تھا پیغمبر اسلام نے ماں کی قدر و قیمت کو سب سے اعلیٰ قرار دیا تھا ۔

جماعت اسلامی خواتین بلوچستان کی نائب ناظمہ شبانہ انجم ،شازیہ عبداللہ ،روبینہ علی ودیگر کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ عورت کو اسلام نے عزت و تکریم کا مرتبہ دیا ہے اسے بازار کی زینت بنانے والے عورت کے خیر خواہ نہیں ، اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اسلام نے بہن بیٹی اور ماں کی حیثیت سے عورت کو جو بلند مرتبہ عطا کیا ہے اس کا تحفظ کریں گے خواتین کے حقوق صرف کاغذوں میں موجود ہیں عملی دنیا میں یہ حقوق نظر نہیں آتے غریب ماں باپ اپنے بچوں سمیت اجتماعی خودکشیاں کررہے ہیں ،ملک پر ایک ظالمانہ استحصالی اور طبقاتی نظام مسلط ہے جماعت اسلامی حکومت میں آکر خواتین کیلئے تعلیم اور صحت کے علیحدہ ادارے قائم کرے گی ،بچوں کی طرح بچیوں کی تعلیم بھی لازمی ہوگی اور ہم ان شاء اللہ شرح خواندگی کو سوفیصد تک پہنچائیں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی خاران کی سرگرم رکن بی بی شازیہ شیر نوشیروانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے خواتین سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں بی این پی کے جدوجہد میں مزید اپنی کردار مثبت انداز میں جاری وساری رکھیں بلوچستان کی تمام تر حقوق سردار اختر جان مینگل کی قیادت سے ممکن ہے۔ نیشنل پارٹی چاغی کے زیر اہتمام 8مارچ عالمی خواتین ڈے منایاگیا جس کے مہمان خاص نیشنل پارٹی کے ضلعی خواتین سیکرٹری رضیہ ناز بلوچ تھیں اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ 8مارچ خواتین کاعالمی دن ہیں، خواتین کے حقوق تحفظ اور اس کی اہمیت کا احساس دلایت ہے ،دین اسلام نے خواتین کو جو عزت مرتبہ دیا ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں اس کا تصور نہیں کرسکتا، دین اسلام کا احسان عظیم ہے کہ اس نے عورت کو انسانیت کیلئے بھلائی اور اولین تربیت گاہ کادرجہ دیا ہے، عورت درحقیقت وہ عظیم ہستی ہے جو معاشرے کی پرورش وتربیت کرتی ہے، نیشنل پارٹی نے ہمیشہ خواتین کی حقوق کی بات کی ہے اور ہمارے بحیثیت ایک بلوچ خواتین اور بحیثیت ممبر نیشنل پارٹی کے کہ ہم خواتین کی حقوق اور جدوجہدکو گھر گھر پہنچائیں ۔

بی این پی خواتین ونگ کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن پر تقریب کاانعقاد کیاگیا تھا خواتین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بی این پی وہ واحد پارٹی ہیں جو کہ خواتین کے حق حقوق بلوچستان میں خواتین کے مسائل حل کر کے اپنا قومی فریضہ ادا کرے گی پاک وائس کے زیر اہتمام گوادر میں خواتین کے عالمی دن کے مناسبت سے منعقدہ تقریب سے مقررین کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ معاشرے میں خواتین کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ، کوئی بھی معاشرہ ، ملک اور گھر خواتین کی کردار کے بغیر نامکمل ہیں ، اسلام نے خواتین کو پورے حقوق دیئے ہیں ، خواتین ان حقوق کو استعمال کرتے ہوئے معاشرے میں اپنا کردار ادار کریں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ کوئٹہ میں منعقد ہ تقریب سے ممتاز دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے راجی اور رواجی پہلوؤں سے دیکھا جائے تو ہمارے خطہ کی عورت کو اس کے باوقار کردار کا اس کی معاشرتی بے بسی کو آج تک سمجھا ہی نہیں گیا۔ ہمارے ہاں عورت ہی نہیں بلکہ مرد بھی اپنے روایتی سانچے میں بے بس اور کمزور رہا ہے۔ ہماری تاریخ کو عورت مرد کی تقسیم سے بالاتر ہوکر دیکھنا ہوگا۔ ہماری تاریخی تصویر کو مسخ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی حیثیت اور اہلیت کو اس طرح کی رسمی باتوں میں پوری طرح واضح نہیں کیا جاسکتا۔ ہم آج سارے ادب میں عورت کے اظہار کے پہلوؤں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدرحاجی علی مدد جتک ،جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ اور سیکرٹری اطلاعات سردارسربلند جوگیزئی کا اس دن پر جاری بیان میں کہنا ہے کہ خواتین کو معاشی،سماجی اور سیاسی طور پر قو می دھارے میں شامل کئے بغیر ملکی ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،خواتین کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں کسی امتیاز کے بغیر یکساں مواقع فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے خواتین کے لئے برابر کے حقوق سب سے بنیادی انسانی حقوق ہیں پیپلز پارٹی خواتین سے تعصب برتنے کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دے گی ہماری لیڈر شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کی قیادت کی اور پارٹی پاکستان کی خواتین کو اس بات کا یقین لاتی ہے کہ استحصال اور تعصب کے خاتمے کے لئے ان کی ہر جدوجہد کی حمایت کرتی ہے۔ خواتین ہمارے معاشرے کا نصف سے زائد ہیں لہذا سماجی اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کی بھرپور شرکت ناگزیر ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کی اراکین شکیلہ نوید دہوار ، جمیلہ بلوچ کا اس دن کی مناسبت سے کہنا تھا کہ اکیسویں صدی میں بھی خواتین مسائل سے دوچار اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بھی خواتین کو گھر میں بیٹھا دیا جاتا ہے اسی تعلیم کی بدولت خواتین معاشرے میں شعور اجاگر کر سکتی ہیں خواتین کو بھی ملک کی ترقی کیلئے اپنا حصہ ڈالنا چاہئے ملک کی آبادی خواتین پر مشتمل ہے ہمیں خواتین کے جملہ مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ معاشرے کی نصف آبادی سے بھی زائد خواتین کی آبادی ہے بلوچستان کے معاشرہ جو تعلیمی حوالے سے پسماندہ ، قبائلی ، نیم فرسودہ جاگیردارانہ رشتوں کی وجہ سے ماؤں ، بہنوں کو سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں دن بہ دن خواتین کے حقوق کو بری طرح سے پامال کیا جارہا ہے۔ عام عورت کو انصاف ، ریلیف اور تحفظ ملنے کی بجائے ان پر مصائب کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے، گزشتہ دس سالوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے ہزاروں خواتین اغوا، اجتماعی زیادتی ، غیرت کے نام پر قتل ، آگ سے زندہ جلانا، تیزاب پھینکنے اور چولہا پھٹنے سے ہلاکت جیسے کسی نہ کسی ایک سنگین جرم کا نشانہ بنتی جارہی ہیں ، خواتین پر وحشیانہ تشدد کرکے ناک بال کاٹ دینا ، کپڑے پھاڑ دینا ، سڑکوں پر گھسیٹنا ، زنجیرون میں جکڑ کر تشدد کا نشانہ بنانا اور ویران علاقے اور سڑک کنارے پھینک دینا شامل ہیں۔ اسی طرح خاندانی جھگڑوں اور جہیز کم لانے پر خواتین کو آگ اور تیزاب سے جلایا جاتا ہے ، خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے، قتل کی ان بھیانک وارداتوں کو سندھ میں کاروکاری ، بلوچستان میں سیاہ کاری ، پنجاب میں کالا کالی اور خیبر پختونخوا میں تورتورا کا نام دیا جاتا ہے ۔اسی طرح مردوں کی غلطیوں کو سزا ، جرگہ اور پنچائیت ، ونی اور سوارہ جیسی قبیح رسوم کے زریعے عورتوں کو تختہ مشق بناتی ہے جبکہ ان کی خاندان کی ونی کردی گئی لڑکی تمام عمر ظلم کی چکی میں پستی ہے ۔بعض اوقات یہ لڑکیاں اپنی پیدائش سے قبل ہی اس رسم کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ، یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اور سپریم کورٹ کے فل بینچ نے غیرت کے نام پر قتل ، ونی اور سوارہ جیسی رسوم کو اسلام اور تہذیب کے خلاف قرار دے کر انہیں غیر قانونی قرار دیا ہے حکومتی سطح پر قانون سازی بھی کی گئی ہے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں مگر افسوس آج بھی ان قبیح رسومات پر عمل ہورہا ہے پاکستان میں دیہی خواتین خوفناک حد تک ، غربت ،احساس محرومی ، ناخواندگی، اور خرابی صحت کا شکار ہیں ، ملک کی 45%عورتوں کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں اور علاج کی مناسب سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے سالانہ تین ہزار خواتین زچگی کے دوران موت کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ عام دیہاتی عورت زندگی کے ہاتھوں لاچار اور مجبور ہوکر بیماری ، جہالت ، استحصال اور ذلت کی گہری تاریکیوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں نے خواتین کی ترقی و بہبود کے لیے وزارت بھی قائم کی ، قومی و صوبائی سطح پر ادارے فعال ہیں جو ہیلپ لائن پر ایک کال پر خواتین کی مدد کے لیے موجود ہیں ، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی صورت میں خواتین کی صحت و تندرستی پر وسائل خرچ کئے جارہے ہیں خواتین کا بنک اور ویمن پولیس سٹیشن قائم ہیں ، حقوق نسواں بل کی بدولت ہزاروں خواتین جو حدود آرڈیننس اور دیگر مقدمات کے تحت تھانوں اور جیلوں میں بند تھیں ان کو رہا کیا گیا ، نیز عدالتی قانونی مفت فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں ، نکاح اور طلاق کے حوالے سے بھی یونین کونسل کی سطح پر آگاہی فراہم کی جارہی ہے حکومتی قرضوں کی فراہمی میں بھی خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوچکے ہیں تاکہ وہ اپنی آمدنی کے ذرائع پیدا کرنے کے قابل ہوسکیں مگر ان اقدامات کے باوجود بت حوا کا استحصال جاری ہیں کیونکہ تعلیم نسواں پر توجہ نہیں دی جارہی ، ہرگاؤں شہر اور قصبے میں سکول تو قائم ہیں مگر لڑکیوں کی حاضری حکومتی سطح پر یقینی بنانے کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے ، قانون سازی کی گئی ،ادارے بنائے گئے مگر خواتین کی ان تک رسائی مشکل ہے اسلئے حکومت کو چاہیے کہ ضلع اورتحصیل کے سطح پر متاثرہ خواتین کے لیے ہر علاقے میں سینٹرز قائم کیے جائیں جو متاثرہ خواتین کو فوری انصاف امداد اور شیلٹر فراہم کریں ، موجودہ حکومت خواتین کے تحفظ ، فراہمی انصاف تعلیم اور ان کے دیگر مسائل کا ادراک تو رکھتی ہے مگر خواتین کے مساوی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں ہمارے مذہب اسلام نے خواتین کو بہت سے حقوق دیئے ہیں لیکن عملی سطح پر مذہب سے ناواقفیت کی بناء پر مردوں نے عورتوں کو وہ حقوق اور درجہ دینے سے انکار کررکھا ہے ، اسلام عورت کو معاشرے میں جو مقام عطا کرتا ہے عورت اس سے زیادہ کی متمنی نہیں ، انہی حقوق کی ادائیگی کا حکم جمہوریت بھی دیتی ہے اس لیے جب تک خواتین کا استحصال ، عدم مساوات ، نا انصافی ، تشدد کو ختم نہیں کیا جاتا پاکستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔