| شعیب رئیسانی

وقتِ اشاعت :   March 24 – 2017

 

 

19سال بعد چھٹی مردم شماری ملک بھر میں 15 مارچ سے دو مرحلوں میں شروع ہوچکی ہے پہلا مرحلہ 15مارچ سے 15اپریل جبکہ دوسرا مرحلہ 10دن کے وقفے کے بعد25اپریل سے شروع ہو کر 25مئی تک جاری رہے گا.

مردم شماری کے نتائج 60دن کے اندر جاری کئے جائیں گے ،چھٹی مردم شماری کا کل بجٹ 18ارب50کروڑ روپے ہے جس میں 6ارب پاک فوج کے اخراجات ساڑھے چھ ارب ٹرانسپورٹ کے اخراجات کیلئے جبکہ 6ارب سویلین اخراجات کیلئے ہوں گے ،

مردم شماری میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کی بھی گنتی کی جارہی ہے مردم شماری کے دوران غلط معلومات فراہم کرنا جرم تصور ہوگا

جس کی سزا 50ہزار روپے جرمانہ اور 6مہینے قید ہو سکتی ہے ، مردم شماری کیلئے ایک لاکھ 18ہزار918افراد پر مشتمل عملے کو تربیت فراہم کی گئی ہے ہر بلاک میں عملے کے ایک فرد کے ساتھ ایک فوجی جواب تعینات ہے

سارے عمل میں صرف سرکاری ملازمین کو استعمال کیا جارہا ہے مقامی افرادبھی اپنے علاقے کے لوگوں کی خانہ و مردم شماری میں حصہ لے رہے ہیں مردم شماری میں دو لاکھ افراد حصہ لے رہے ہیں،

مردم شماری کے عمل کو سکیور بنانے میں تمام سکیورٹی ادارے حصہ لے رہی ہیں کوئٹہ میں254 ٹیمیں، پشین35 ، نوشکی51 ، خاران106 ، قلات61 ، نصیرآباد131 ، بولان14 ، جعفرآباد 152 ، لسبیلہ130 ،ڈیرہ بگٹی80 ، آواران2 ، تربت،8 ، موسیٰ خیل11 ، کوہلو16 ، واشک51 ، پولیس کی ٹیمیں تشکیل دی گئی

خانہ شماری اور مردم شماری کے عملے کی سیکورٹی کو فول پروف بنا نے کیلئے 2164 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے مردم و خانہ شماری کے پہلے مرحلے میں 5 ہزار 6 سو 29 بلاکس،5 سو 58 سرکلزاور 1 سو 54 چارجز میں تقسیم کیا گیاہے

تاہم تین دن کے اندر مقررہ ہدف حاصل نہ ہونے کے سبب خانہ شماری کی مدت میں ایک دن کی توسیع کی گئی تھی تاہم اب بھی شہر کے متعدد علاقوں میں خانہ شماری کا عمل نہ ہونے کی شکایات ہیں ایک ماہ تک جاری رہنے والے پہلے مرحلے میں 5 ہزار 6 سو 29 بلاکس،5 سو 58 سرکلزاور 1 سو 54 چارجز ہونگے جن میں مردم و خانہ شماری کے لئے 2 ہزار 8 سو 20 شمار کنندہ سمیت 3ہزار 5 سو 32 ملازمین خدمات سر انجام دیں گے بلوچستان میں افغان مہا جر کارڈ رکھنے والوں کوغیر ملکیوں کے خانے میں شمار کیا جارہا ہے مردم شماری کر نے والی ہر ٹیم کے سا تھ1 پولیس اور پاک فوج کا ایک جوان تعینا ت ہے ا س کے علاوہ سکیورٹی اہلکار وں کا حصار ٹیم کے گرد قائم ہے مردم شماری کا عمل شروع ہونے سے ایک دن قبل تربت سے 3 افراد کو اغواء کیا گیا جو تربیت مکمل کرکے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے تاہم اب تک انکے بارے میں کوئی خیر وخبر نہیں ہے ۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ مردم شماری سے ایک روز قبل بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ ،جسٹس عبداللہ بلوچ کی ڈویژنل بینج نے حکم صادر کیا ہے کہ افغان مہاجرین کو مردم شماری و خانہ شماری سے دور رکھا جائے اور بلوچ آئی ڈی پیز کو مردم شماری میں شامل کیا جائے بلوچستان نیشنل پارٹی کی جانب سے آئینی پٹیشن بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جو لاکھوں کی تعداد میں بلوچستان میں موجودغیر ملکی اور خاص کر افغان مہاجرین کو مردم شماری سے دور رکھنے اور بلوچ آئی ڈی پیز جو مخدوش حالات کی وجہ سے دیگر علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں ان کو شامل کیا جائے اس حوالے سے خدشات و تحفظات کا اظہار کیا گیا عدالت میں حکومت پاکستان سیکرٹری شماریات کے بیان کو گزاران بتوسط بلوچستان نیشنل پارٹی کا موقف تسلیم کیا گیا کہ افغان مہاجرین جو بلوچستان میں موجود ہیں جن کو مہاجر کارڈ جاری کئے گئے ہیں وہ شماریات کا حصہ نہیں ہیں چونکہ وہ پاکستانی شہری نہیں ہیں جن افغان مہاجرین کے شناختی کارڈز بلاک ہیں وہ مردم شماری کا حصہ ہوں گے نہ ہی پاکستانی تصور کئے جائیں بلوچ آئی ڈی پیز کو خانہ شماری ، مردم شماری میں شامل کرنا ان کا بنیادی حق ہے حکومت اپنے تمام وسائل بروئے کار لا کر آئی ڈی پیز کو خانہ شماری ، مردم شماری کا یقینی حصہ بنائیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو مردم شماری کے عمل کے دوران اور بعد میں پٹیشنرز قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ کمشنر مردم شماری بلوچستان محمد اشرف کا کہنا ہے کہ مردم شماری کیلئے تقریباً8ہزارملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں مردم شماری کا پہلامرحلہ مکمل ہوچکا ہے پہلے مرحلے کیلئے 5اضلاع میں مردم شماری موادپہنچادیاگیا تھاپہلے تین دن خانہ شماری کیلئے مختص کیے گئے تھے ہر بلاک میں ایک شمارکنندہ اورپاک فوج کاایک سپاہی مقررکیاگیاہے،بلوچستان میں سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں،مردم شماری کادوسرامرحلہ 25مئی کو مکمل ہو گا،خانہ شماری کے بعد 12روز میں مردم شماری ہوگی،آخری 14روزبے گھرخاندانوں کورکورکیاجائیگا‘ خاران، قلات، جعفرآباد، نصیرآباد، پشین، نوشکی، تربت، لہڑی،واشک بھی پہلے مرحلے میں کورہوگی ۔کوئٹہ،آواران،لسبیلہ،ڈیرہ بگٹی ،کو ہلو ، موسیٰ خیل پہلے مرحلے میں کورکیے جائیں گے،پہلے مرحلے میں بلوچستان کے15اضلاع کوکئے جارہے ہیں دوسر ے مر حلے میں گوادر،خضدار،صحبت پور، مستونگ، لورالائی،قلعہ سیف اللہ،بولان ، سبی شامل ہرنائی، بارکھان، شیرانی، قلعہ عبداللہ،چاغی دوسر ے مرحلے میں کور ہوں گے پنجگور،ژوب،زیارت اورجھل مگسی بھی دوسرے مرحلے میں کورہوں گے ۔ کوئٹہ میں ڈپٹی کمشنر آفس سے مردم و خانہ شماری کا آغاز کیا گیا مردم شماری کے لئے سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کے گئے ہیں پولیس کے دو ہزار ایک سو چونسٹھ اہلکاروں سمیت ایف سی پاک فوج لیویز ، بلوچستان کانسٹبلری کے اہلکار بھی مردم شماری کی ٹیموں کی سیکورٹی پر معمور کئے گئے ہیں اس کے علاوہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر کوئٹہ میں ایک ماہ تک موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے خانہ شماری کے ایک فارم کو پر کرنے میں تقریباً 20سے 25منٹ کا وقت لگ رہا ہے ا س دوران مردم شماری کیلئے ڈپٹی کمشنر آفس میں قائم کئے گئے سیل سے مسلسل نگرانی اور ٹیموں کی معاونت جاری ہے ۔ ڈیرہ بگٹی میں ایف سی بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مردم شماری کے آغاز سے قبل مشترکہ فلیگ مارچ کااہتمام بھی کیا گیافلیگ مارچ ایف سی ہیڈ کوارٹر سے شروع ہوکر مین بازار میں اختتام پذیر ہوااس موقع پر کماندنٹ بمبور رائفلز کرنل ندیم بشیر کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز کے شب و روز محنت اور قربانیوں کے بعد علاقہ مکمل طور پر پرامن ہے اور ضلع کے آخری کونے تک خانہ و مردم شماری کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے انہوں نے مردم شماری کے دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ شہریوں کے تعاون کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس تعاون کو لازوال قرار دیا جبکہ ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسہ نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ مردم شماری کا عمل مکمل طور پر شفاف اور شہریوں کے وسیع تر مفاد میں ہوگا ۔کوہلو میں خانہ و مردم شماری میں 138اندراج کنندگان کی خدمت حاصل کی گئی ہیں ضلع ایک ہی مرحلہ پر مشتمل ہے مرحلے میں تین تحصیل دو سب تحصیل ایک مونسپل کمیٹی شامل ہے خانہ و مردم شماری ٹوٹل 244 بلا ک پر مشتمل ہے خانہ و مردم شماری میں 546ایف سی اہلکار 940لیویز اہلکار 80پولیس اہلکار سکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں خانہ و مردم شماری میں 10سپرینڈنٹ اور25سرکل سپر وائذر شامل ہیں خانہ و مردم شماری میں تحصیل کوہلو کے علاوہ پورے ضلع کو حساس کرار دیا گیا ہے ۔نصیرآباد میں شروع ہونے والی مردم شماری کا افتتاح کمشنر نصیرآباد ڈویژن احمد عزیز تارر ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس نصیرآباد شرجیل کریم کھرل نے گوٹھ سکندر آباد عمرانی میں گھر پر خانہ شماری کا نمبرلگاکرکیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نصیرخان ناصر ایس ایس پی پولیس نصیرآباد ظہور بابر آفریدی سمیت قبائلی عمائدین آفیسران بلدیاتی نمائندے بھی موجود تھے ضلع میں640 کے قریب پولیس اور ایف سی کے جوان اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں مردم شماری کے پہلے مرحلے میں 15سے17مارچ تک خانہ شماری اور18مارچ سے 15اپریل تک مردم شماری جاری رئیگا ضلع کو 250بلاکس او37سرکلوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں 128شماریاتی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ہیں ہرٹیم کے ہمراہ دو پولیس اور دو ایف سی کے جوان تعینات کئے گئے ہیں جبکہ چھتر کے علاقے کو احساس قرار دیتے ہوئے ٹیم کے ہمراہ چار ایف سی اور چارپولیس کے اہلکار تعینات کیئے گئے ہیں کمشنر نصیرآباد ڈویژن احمد عزیز تارڑ ڈی آئی جی پولیس شرجیل کھرل ڈپٹی کمشنر نصیرآباد نصیرخان ناصر ایس ایس پی پولیس نصیر آباد ظہور بابر آفریدی نے چھتر تمبو ڈیرہ مراد جمالی کے علاقوں میں جاری مردم شماری کے کام اور انتظامات کا جائزہ لیا ۔ جعفر آباد میں بھی چھٹی مردم شماری کا آغاز کردیا گیا ہے، پہلے مراحل میں خانہ شماری کی گئی، ایف سی اور پولیس کے جوان عملے کے ہمراہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں ،ڈپٹی کمشنر آفس میں کنٹرول روم قائم کیاگیا ہے۔ حب اورلسبیلہ میں چھٹی خانہ ومردم شماری مہم کا آغاز ہوگیا ہے آواران ملیشیاء حب کے کرنل اظہر محمود نے تحصیل آفس حب میں مردم شماری وخانہ شماری کے سلسلے میں تعینات کئے گئے عملے کو میٹریل حوالگی اور سیکیورٹی فراہمی کے بعد انھیں خانہ ومردم شماری سے متعلق ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قومی جذبے کے ساتھ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا قومی فریضہ ادا کریں ان کاکہنا تھا کہ خانہ ومردم شماری میں کام کرنے والے عملے کی سیکیورٹی کے حوالے سے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں اس سلسلے میں 1500سے زائد لیویز پولیس اور ایف سی کے جوانوں کی تعیناتی کے علاوہ ایف سی لیویز پولیس کی کوئیک ریسپانس ٹیموں کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے جبکہ پاک فوج کے 80اور پاکستان کوسٹ گارڈ کے 50جوان بھی خانہ ومردم شماری مہم میں سرکاری ٹیموں کیساتھ سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ملک بھر کی طرح ضلع لہڑی میں بھی چھٹی مردم شماری کا عمل شروع ہوچکا ہے جس کاافتتاح ڈپٹی کمشنر میر سیف اللہ کھیتران نے کیامردم شماری کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں فوج،ایف سی اور لیو یز کے جوان سیکورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، ڈپٹی کمشنر میر سیف اللہ کھیتران نے لہڑی اور بھاگ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اورمردم شماری کے عملہ سے ملے مردم شماری سے متعلق معلومات حاصل کی۔سوراب میں مردم وخانہ شماری کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے جس کا افتتاح اسسٹنٹ کمشنر سوراب جلال خان کاکڑ نے کیا، اس موقع پر ایف سی لیویز فورس اور پولیس فورس کے جوانوں اور مردم وخانہ شماری پرمعمور ٹیموں کے سپروائزر موجود تھے، جس کے بعدمردم وخانہ شماری پرمعمور ٹیمیں تمام علاقوں میں تشکیل دی گئیں اس سے قبل مردم وخانہ شماری کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغاحسن بلوچ ، موسیٰ بلوچ نے موقف اختیار کیا ہے کہ مردم اور خانہ شماری کے دوران سریاب کے بیشتر علاقوں کو ایک سرکل میں رکھنا سازش ہے بیشتر بلوچ علاقوں پرانے او رغلط نقشوں پر مردم شماری کی جا رہی ہے مردم شماری و خانہ شماری کے تین دن نقشوں کی جانب پڑتال میں گزر گئے سریاب کے بیشتر علاقوں میں خانہ شماری کیلئے ٹیمیں بھیجی نہیں گئیں جبکہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کی آشیرباد سے افغان مہاجرین کو پاکستانی شمار کیا جا رہا ہے کوئٹہ انتظامیہ کے ارباب و اختیار کی چشم پوشی معنی خیز ہے مردم شماری خانہ شماری میں سریاب کے 262بلاکس کو ایک سرکل میں رکھنے کا مقصد یہی ہے کہ ان علاقوں میں دانستہ طور پر مردم شماری ، خانہ شماری کے مراحل کو مکمل نہ ہونے دیا جائے انتظامی نااہلی اس امر سے ثابت ہے کہ بلوچ علاقوں کے جدید نقشے اب تک نہیں بنائے گئے اب تک نقشوں کی تیاری میں اتنے دن گزرے دیئے گئے ہیں یہ عمل دراصل بلوچوں کو مردم شماری و خانہ شماری سے دور رکھنا ہے یہاں گنگا الٹی بہتی ہے افغان مہاجرین جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں انہیں مردم شماری سے دور رکھنے کا حکم عدالت سے صادر فرمایا لیکن صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ کی ارباب و اختیار کی سازشوں کا پردہ پاش ہو گیا ہے کہ اب تو کوئٹہ میں افغان مہاجرین کو مردم شماری میں لاکھوں کی تعداد میں شامل کیا جا رہا ہے کچلاک ‘ نواں کلی ‘ غوث آباد ‘ مشرقی بائی پاس ‘ بھوسہ منڈی ‘ پشتون باغ ‘ سبزل روڈ سرپل ‘ ہزار گنجی ‘ سیٹلائٹ ٹاؤن ‘چالو باؤڑی ‘ ترخہ ‘ کلی سملی سمیت دیگر علاقوں میں افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت قرار دی جارہے ہے صوبائی حکومت بالخصوص محکمہ تعلیم غیر قانونی اقدامات کے ذریعے اساتذہ کو سیاسی بنیادوں پر ان علاقوں میں تعینات کر چکی ہے تاکہ حکمران اتحادی جماعتیں افغان مہاجرین کو بلواسطہ یا بلاواسطہ اندارج کروا رہے ہیں مذہبی جماعتیں اقتدار تک رسائی کیلئے غیر قانونی اقدامات کے مرتکب بنتے جا رہے ہیں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے اقدامات سے حکمران نفرتوں کو جنم دیں گے بلوچستان نیشنل پارٹی نفرت کے نام سے نفرت کرتی ہے ہم مردم شماری اور خانہ شماری کے مخالف نہیں یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ 40لاکھ افغان مہاجرین کے اندراجات بھرپور طریقے سے جاری ہے کوئٹہ انتظامیہ کی سازشوں کو دیکھا جائے تو یہ بلواسطہ یا بلاواسطہ پارٹی بن چکے ہیں اب ذمہ دارای ان اداروں پر عائد ہوتی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان چیف سیکرٹری اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غیر قانونی اقدامات کا فوری نوٹس لیں صوبائی مشینری کے کوئٹہ میں من مانی شروع کر رکھی ہے آج تو بلوچوں کو اپنی سرزمین میں محکومیت کی جانب دھکیلنے کی کوششیں کر رہے ہیں آج والے دور میں مہاجرین نہ صرف بلوچوں بلکہ مقامی پشتونوں ، ہزارہ ، پنجابی سمیت دیگراقوام کیلئے مسئلہ بنیں گے کلاشنکوف کلچر ، منشیات ، دہشت گردی انہی کے دیئے ہوئے تحفے ہیں 2013ء کے جعلی انتخابات کی طرح مردم شماری کے عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے سرکل ون کو فوری طور پر چار پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ وہاں پر خانہ شماری مردم شماری شروع ہو سکے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں 262بلاکس کی مردم شماری چند اساتذہ نہیں کر سکتے۔ جبکہ درج بالاموقف کے بر عکس پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر عثمان خان کاکڑ، عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندر ایڈووکیٹ، جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے قائمقام امیر مولانا عبدالقادر لو نی کی جانب سے مردم شمار کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے عوام سے مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی گئی ہے ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں عوام کو جو محرومیوں اور مایوسیوں کا سامنا کر نا پڑا اس کا ازالہ کیا جا سکے18 سال میں مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے صوبے نے بہت نقصان اٹھایا جس کے وجہ سے صوبے کے وسائل میں اضافہ نہیں ہوا مردم شماری ہونے کے بعد نئے اضلاع بنیں گے اور انتخابات سے نئے حلقہ بندیاں ہو نگے آئندہ انتخابات میں مختلف اضلاع میں عوام کی نمائندگی میں اضافہ ہو گاان کا کہنا ہے کہ ماضی میں مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے جو نقصان اٹھانا پڑا ان کا اندازہ سب کو ہے اس لئے مردم شماری وقت کی ضرورت ہے اور اس میں عوام بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مستقبل میں صوبے کے وسائل میں اضافہ اور عوام کو روزگار کے مواقع میسر ہونگے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمیں خوشی ہوئی کہ حکومت نے مردم شماری سپریم کورٹ کے کہنے پر کرانے کا فیصلہ اور اس کی اچھے نتائج برآمد ہونگے مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کر نا پڑا اس لئے وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہو کر مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر محمد شہی کاکہنا ہے کہ ملک میں 40لاکھ غیر ملکی باشندے ہیں جن میں سے20لاکھ لوگوں کا ریکارڈ ہی موجود نہیں۔ مردم شماری کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ 7لاکھ 50ہزار لوگوں کو جعلی شناختی کارڈ بنا کر دیئے گئے۔ جن میں سے2 لاکھ 50ہزار بلاک ہیں بلوچستان میں مردم شماری کے حوالے سے جرگہ منعقد ہوا جس میں 26جماعتوں نے حصہ لیا اور تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں غیر ملکی باشندوں کی موجودگی میں مردم شماری کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کو خط لکھا ہے کہ ان حالات میں مردم شماری پر ہمارے تحفظات ہیں اور وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تحفظات کو دور کیا جائے پھر مردم شماری کرائی جائے اس حوالے سے یکم فروری کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں بیرسٹر سیف کی جانب سے کونسل بنائی گئی لیکن ابھی تک ہمارا کاز لسٹ پر نمبر نہیں آیا۔ سینیٹر میر جمانزیب جمالدینی کا اس بارے موقف ہے بلوچستان میں مردم شماری افغان مہاجرین کی موجودگی میں کسی صورت قبول نہیں حکومت نے مردم شماری کرانی تھی تو افغان مہاجرین کو ان کے اپنے وطن بھیجنے کے لیے تاریخ کو آگے نہ بڑھایا جاتابلکہ اس کو 30دسمبر 2016کو جو آخری تاریخ دی گئی تھی اس پر مکمل عملدار آمد کرایا جاتا،حکومت نے مردم شماری پر جو آئینی و قانونی زمے داری کو پورا کر نے کی بجائے بزور طاقت استعمال کر رہی ہے سراوان ہاؤس میں ہونے والے قومی یکجہتی جرگہ میں بلوچ ،پشتون بلوچستانی عوام نے شراکت کر کے صوبائی ومرکزی حکومت کو آئینی ذمے داری کا احساس دلانے کی کوششیں کی لیکن افسوس کہ موجودہ صوبائی حکومت میں شامل بلوچ پشتون کے سربراہوں نے خاموشی اختیار کر کے آنے والی نسلوں کو مذید اپنے حقوق سے دور رکھنے کی سازش میں ساتھ دیا ہے ۔ سابق سینیٹر و سیاسی رہنما نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے مردم شماری کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کے دئے گئے آئینی حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ عدالت عالیہ کے آئینی حکم سے 18فروری کے قومی یکجہتی جرگہ کے مطالبات اور تجاویز کے آئینی و قانونی ہونے کی توثیق ہوئی ہے مردم شماری کے حوالے سے عدالت عالیہ کے واضح اور دو ٹوک احکامات کے بعد اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور مردم شماری کی ذمہ داری نبھانے والے ادارے غیر ملکیوں کو ہر صورت مردم شماری سے الگ رکھیں بلوچ آئی ڈی پیز کا ہر حال میں مردم شماری کی فہرست میں اندراج یقینی بنائیں اگر واضح عدالتی احکامات کی بھی مجوزہ مردم شماری پر بلوچستانی عوام کے اصولی تحفظات دور نہ کئے گئے تو یہ ملکی آئینی و قانونی اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہوگی جس سے یقیناًعوام میں پائے جانے والی بے اعتمادی میں اضافہ ہوگا ان کا کہنا ہے کہ اگر حکمران آئین و قانون اور عدل انصاف کے تقاضوں سے انحراف کی پالیسی ترک کردیں تو کوئی وجہ نہیں کہ درپیش تمام حل طلب مسائل جن کے ہوتے ہوئے ملک انتشار کا شکار ہے حل نہ ہوں عدالتی احکامات کے بعد کرائی جانے والی مردم شماری کامیکنزم منظر عام پر لایا جائے تاکہ مردم شماری کے حوالے سے بلوچستانی عوام میں پائے جانے والے خدشات و تحفظات کو دور کرنے میں مدد مل سکے نوابزادہ لشکری رئیسانی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور ذمہ دار ادارے تمام فیصلوں میں عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت کا احساس کرینگے ۔ ضرورت اور معاشی اقتصادی منصوبہ بندی تقسیم وسائل وفیصلہ سازی جمہوری اداروں میں عوام واقوام کی شرکت کا تناسب از سر نو مقرر کرنے کے لئے مردم شماری کی اہمیت وافادیت سے انکار ممکن نہیں تاہم جن حالات میں اب کے مردم شماری ہورہی ہے وہ بہت ہی پیچیدہ اور گھمبیر ہیں بد امنی اور خلفشار کے علاوہ کئی عوامل مردم شماری کے عمل ونتائج کے متعلق سوالات ، تحفظات اور مابعد اثرات پر ایک بار پھر عمل وبرد باری کے ساتھ غور وفکر کے متقاضی ہیں اس مسئلہ پر ملک بھر میں مخصوص حالات وسوالات قابل توجہ موجود ہیں ۔ بلوچستان میں ان کی شدت نوعیت کمیت اور کیفیت دو چند ہے فروری میں ساراوان ہاؤس میں ہونے والے سیاسی سماجی یکجہتی جرگہ میں بھی شرکاء کی اکثریت میں تین نکات پر اتفاق رائے سامنے آیا تھا ۔1) غیر ملکی تارکین وطن کو مردم شماری کے عمل سے علیحدہ رکھا جائے 2 )بلوچ اضلاع جہاں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے نیزان اضلاع سے مقامی آبادی کے انخلاء کی وجہ مذکورہ بالا اضلاع میں مردم شماری ملتوی کردی جائے ۔3) غیر جانبدارانہ شفاف اور سب حلقوں کیلئے قابل قبول مردم شماری کے انعقاد کے لئے صوبے کے سیاسی قبائلی سماجی بیانیے کو اہمیت دی جائے اور ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جو متذکرہ مطالبات وتحفظات کے تدارک کو یقینی بنائے ۔ ان نکات پر مشتمل جرگہ کے اعلامیہ میں جہاں مطالبات کے اظہار پر وقت صرف کی گئی تھی دو بنیادی کوتاہیوں کا بھی ارتکاب ہوا تھا ۔ اس یکجہتی جرگہ نے اپنے مطالبات وتحفظات کے تدارک کے لئے کسی قسم کی متبادل تجاویز نہیں دی تھیں ۔ نیز مطالبات کو پذیرائی نہ ملنے کی صورت میں جرگہ میں شریک سیاسی سماجی جماعتیں اور زعما کیا رد عمل اختیار کرینگے اس بابت بھی شاید شعوری طور پر خاموشی اختیار کی گئی تھی بارش کے باوجود بہترین انتظامات اور صوبے کی وسیع البنیاد عوامی سماجی نمائندگی کے حامل اس جرگہ کے ممکنہ معاملات سے دستبرداری اپنائی گئی تھی سوائے رائیگانی کی پر عزم جستجو سے تعبیر کرنا غیر مناسب نہ ہوگا ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق خانہ شماری کے بعد مردم شماری کی ٹیم اپنے اپنے بلاک میں موجود ہر گھر تک جائے گی احساس تحفظ یقینی بنانے نیز غیر جانبداری کا تاثر قائم کرنے کے لئے ایک فوجی اہلکار یا ضرورت کے مطابق مطلوبہ تعداد میں محافظین موجود ہونگے ۔بتایا جارہا ہے کہ ہر گھر کے افراد سربراہ گھرانہ کا شناختی کارڈ یا اس کا غیر مردم شماری ٹیم کو پیش کرنے کا اہتمام رکھیں چنانچہ میں قیاس کرتا ہوں کہ جن گھرانوں کے پاس سربراہ گھرانہ یا اہل گھرانہ کے قومی شناختی کارڈ موجود نہیں ہونگے انہیں مردم شماری میں نہیں گنا جائے گا ۔ یہاں دو سو ال منطقی اعتبار سے ابھرتے ہیں ۔ اگر قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہی مردم شماری ہونے جارہی ہے تو یہ عمل انتہائی غیر ضروری ہے کیونکہ نادرا جو قومی شناختی کارڈ کے اجراء کا ادارہ ہے اس کے پاس پہلے سے ہی جاری شدہ قومی شناختی کارڈ میں مدرج ریکارڈ موجود ہے چنانچہ اسی ریکارڈ سے اعداد وشمار حاصل کرنے سے انکا جائزہ مرتب کیا جاسکتا تھا ۔ اس اعتراض پر جواباً کہا جائے گا کہ تاحال چونکہ ملک کے تمام افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود نہیں لہٰذا محض نادرا کے ریکارڈ یا ڈیٹا بیس سے حقیقی معنوں میں ملکی آبادی کا تخمینہ یا شمار ممکن نہیں ۔ اس لئے مردم شماری کا جان جو کھوں کا آئینی فرض پورا کرنا ضروری ہے ۔ تو حضور اس استدلال کے بعد مردم شماری میں اندراج کیلئے قومی شناختی کارڈ کی موجودگی کی شرط ختم کرنی از بس ضروری ہوگی کیا یہ یقین کر لینا درست نہیں ہوگا کہ فیصلہ ساز حکام وحکمران اس کام کی جزیات کا مکمل درست اور حقیقی تجزیہ کرنے سے قاصر رہے ہیں جس کا اظہار اخباری اطلاعات سے مسلمہ طور پر ہورہا ہے تو پھر کیسے یقین کر لیا جائے کہ ناقص فیصلے اور ادھورے خیالی تجزیوں کی بنیاد پر شفاف درست اور قابل قبول مردم شماری ہوپائے گی ؟ جو صورتحال اب تک کی بحث سے سامنے آئی ہے اس کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ قومی شناختی کارڈ کی لازمی شرط ختم کرکے بعض دیگر دستاویزات یا شواہد کو مردم شماری میں اندراج کا معیار مقرر کر لیا جائے ۔ یہ تجویز ایک مسئلہ حل کرتے ہوئے ایک مزید گرابحران پیدا کرتی ہے کیونکہ اس شرط یا بنیاد پر غیر قانونی تارکین وقت کے اندراج کو روکنا انتہائی نا ممکن ہوجائے گا ۔ قومی شناختی کارڈ کی شرط بھی غیر مبہم طور پر شفاف اور حقیقی مردم شماری یقینی نہیں بناتی کیونکہ پورے صوبے اور بالخصوص یکجہتی جرگے یا زیادہ واضح طور پر بلوچ سماجی سیاسی حلقوں ہیں جن میں غیر ملکی تارکین وطن کے اندراج کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے ان کی اکثریت اب شہری آبادی میں گھل مل چکی ہے ان کے پاس قومی شناختی کارڈ کے علاوہ پاسپورٹ اور دیگر اسناد مثلاً تعلیمی اسناد ، جائیداد کی دستاویز وغیرہ وغیرہ وافر مقدار میں موجود ہیں ۔مذکورہ تارکین وطن کسی ایک نسلی لسانی یا قومی گروہ سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ تارکین وطن کی تعداد میں ہر نسل ولسانی مذہبی گروہ اور قومیت کے افراد حصہ بقدر حبثہ موجود ہیں ۔ مثبت بات یہ ہے کہ یکجہتی جرگہ ( ساراوان ہاؤس والا) میں شعوری وارادی فیصلہ کے ذریعے طے پایا تھا کہ مسئلہ کی نشاندہی کرتے ہوئے تحریری یا تقریری بیانیے ہیں ۔ غیر قانونی تارکین وطن کی اصلاح کی جائے گی تاکہ یہ منفی تاثر نہ ابھرنے کے اس موقف کا ہدف کوئی خاص نسلی لسانی قومی قبائلی افراد ہیں ۔ اب اگر قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہی مردم شماری میں اندراج کا استحقاق طے ہوا تو پھر وہ تمام لوگ جنہوں نے سفارش ورشوت کے ذریعے نادرا کے مصدقہ سمارٹ قومی شناختی کارڈ بھی بنوائے ہوئے ہیں انہیں کیونکر کس بنیاد اور معیار پر مردم شماری سے الگ رکھنا ممکن ہوگا ۔اگر اس سوال کا جواب انکار میں ہے تو پھر بلوچ قوم تحفظات اور مسائل کا حقیقت بن جانا بعید از قیاس نہیں ۔ صوبے میں اس عمل کے جو منفی سیاسی اثرات ہوسکتے ہیں وہ بہت ہی بھیانک ہیں تصادم اور کشیدگی کئی وجوہات میں جنم لے گی اور صوبہ بد ترین عدم استحکام میں مبتلا ہوجائے گا ۔ ساراوان ہاؤس کے جرگے میں جہاں مہاجرین کو مردم شماری سے علیحدہ رکھنے کیلئے حکمت عملی مرتب ہورہی تھی اس میں ایک سے زیادہ مہاجرین نے بھی خطاب فرمایا ۔ ایک صاحب نے تو مہاجرین کے اندراج کی دبے لفظوں میں حمایت کرتے ہوئے مسلم بھائی چارے کا نیز لندن کے میر صادق کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ بھی تو وہاں مہاجر تھے ۔ موصوف اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی ہیں ۔ چنانچہ ایک حقیقی قابل قبول مردم شماری کا انعقاد اس امر پر منحصر ہے کہ ان غیر ملکی غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کو مردم شماری سے باہر رکھا جائے ۔ بتایا جارہا ہے کہ مہاجرین کی بھی مردم شماری ہوگی غیر ملکی تارکین کو علیحدہ کرنے کا طریقہ کار پیمانہ اور معیار کیا ہوگا ؟ کیونکہ قومی شناختی کارڈ یافتہ افراد کو سکول ماسٹر یا کلرک کس طور پر غیر ملکی قرار دے پائیں گے جبکہ وہ (مردم شماری کا عملہ ) بھی اسی متعلقہ علاقے کا رہائشی بھی ہوگا تو کیونکر وہ اپنے طرز عمل سے مقامی سطح پر اختلافات یا دشمنی مول لے جبکہ غیر ملکی تارک وطن مالی اور سماجی رسوخ کا بھی حامل ہو تو ۔!!! قومی شناختی کارڈ کو بنیاد بنا کر مردم شماری کرانے کا کوئی منطقی جواز نہیں ۔سیاسی یا قانونی طور پر یہ اقدام جائز ضروری ہے مگر چونکہ قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے ذریعے ریاست کے پاس پہلے سے ہی مطلوب معلومات موجود ہیں تو پھر نئی درد سری پالنے اور اقوام ونسلی لسانی گروہوں کے بیچ کشیدگی پیدا کرنے والے عمل کی کیا ضرورت ہے ؟ کیا حکمران شعوری طور پر سماجی گروہوں کے درمیان تناؤ کے متمنی ہیں؟ درپیش صورتحال میں قومی شناختی کارڈ کی شرط کے خاتمے سے بھی مسائل حل ہونے کے برعکس الجھتے ہیں یعنی جائے رفتن نہ پائے ماند کی صورتحال ہے ۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے پندرہ اضلاع میں 15 مارچ سے خانہ شماری کا آغاز ہوچکا ہے ۔کوئٹہ ضلع اور شہر میں غیر ملکی تارکین وطن افراد وخاندانوں کی موجودگی تعداد (کمیت ) اور پیچیدگی (کیفیت ) کے زیادہ منفی پہلو موجود ہیں کیونکہ اسی شہر میں متذکرہ کنبوں نے مقامی آبادی میں سرایت اور تجارت واملاک قائم کی ہوئی ہیں کئی ایک تارکین وطن اب مختلف محکموں میں سرکاری ملازمتیں بھی کررہے ہیں کوئٹہ ضلع کی انتظامیہ میں ایسے متعدد افراد اہم عہدوں پر متمکن ہیں ۔ مردم شماری کے مجوزہ فارم کے ذریعے منفی نسلی لسانی شناخت پوچھی جارہی ہے قبائلی یا قومیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچا جارہا ۔ شاید مذہبی وفرقہ وارانہ شناخت کی بابت بھی سوال موجود ہے اس کے معنی ہیں کہ معاشرے کے افراد کو نسلی لسانی اور مذہبی بنیادوں پر تو الگ الگ کرکے تقسیم در تقسیم ممکن بنائی جائے گی قومیت کے متعلق سوال کی عدم موجودگی ان کی قومی یکجہتی ووابستگی کو تحلیل کردے گی اس پہلو سے بھی مردم شماری بالخصوص بلوچستان کے بلوچ قومی حلقے پر غیر مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے ۔ مردم شماری کے التواء سے بھی حالات میں تلخی در آئے گی ۔ پشتون قومی حلقے جن کی مذہبی جماعتیں بھی ہمنواء ہیں مردم شماری کے انعقاد اور تارکین کے اندراج کے ذریعے اپنے ووٹ بینک میں اضافے کے متمنی ہیں اس طرز عمل سے اگر ان کی تعداد میں اضافہ ہو تو ۔یاد رہے کہ وسائل میں شراکت دار بھی بڑھ جائیں گے چنانچہ سماجی اور معاشی مسابقت کے اس پہلو کو بھی ملحوظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ جن بلوچ اضلاع سے بوجوہ آبادی دوسرے علاقوں یا صوبوں سے منتقل ہوئی ہے اس سے بھی سوالات پیدا ہورہے ہیں اندرونی مہاجرت کے ایسے خاندانوں کی واپس آبائی علاقوں میں واپسی وآباد کاری تک مردم شماری کے التواء کا مطالبہ زیادہ مناسب نہیں اگر حکومت مذکورہ داخلی مہاجرت والے افراد کا اندراج ان شناختی کارڈ پر درج مستقل پتے کے حوالے سے کر لے تو مسئلہ کی شدت کم ہوسکتی ہے گو کہ ان کی واپسی وآبادی کا بحران ختم نہیں ہوگا اور اس مسئلہ کا حل ہونا بھی بے حد ضروری ہے مردم شماری کی شفافیت ومقبولیت کا سارا دار ومدار غیر ملکی تارکین وطن کو کھلی طور پر مردم شماری سے علیحدہ رکھنے میں پوشیدہ ہے چاہے ایسے افراد کے پاس قومی شناخت موجود ہی کیوں نہ ہو ۔اس بحران کی گہرائی ان تارکین وطن کی پیداہ کردہ ہے جنہوں نے مہاجر کیمپوں سے نکل کر شہری مقامی آبادیوں میں رہائش اختیار کی اور کسی نہ کسی ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کر لئے ۔ ریاست کو ان کی تطہیرکا بحران حل کرنا ہے ۔