|

وقتِ اشاعت :   March 25 – 2017

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کے سخت احتجاج کے بعد ہی ارسا کے آقاؤں کو یہ بات معلوم ہوئی کہ سندھ اور بلوچستان میں نہری پانی کا شدید بحران ہے ۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نے نہ صرف نہری پانی کے بحران کی نشاندہی کی بلکہ اس نے شدید احتجاج کی دھمکی انتہائی سخت الفاظ میں دی اور وفاقی حکومت ‘ وزارت پانی اور بجلی کے ساتھ ساتھ ارسا پر سنگین الزامات لگائے ۔ اس کے بعد ہی ارساکے آقاؤں نے سندھ اور بلوچستان میں نہری پانی کے بحران کا نوٹس لیا اور حکم صادر فرمایا کہ جنوبی پنجاب میں تین بڑے نہروں کو غیر معینہ مدت کے لئے بند کیاجائے۔ اطلاعات ہیں کہ ان تینوں نہروں کو پانی کی فراہمی بند کر دی گئی تاکہ سندھ اور بلوچستان کو اضافی پانی پہنچایا جائے۔ ارسا کے حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دوروز میں پنجاب سے اضافی نہری پانی سندھ کے نہروں کو پہنچ جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق چار ہزار سے پانچ ہزار کیوسک اضافی پانی اس بحرانی دور میں سندھ کو ملے گا۔ بلوچستان سے متعلق سرکاری اعلامیہ میں کچھ نہیں کہا گیا ہے بلوچستان انڈس نہری نظام کے آخر سرے پر ہے ا س کو مختص پانی کے کوٹے کا مکمل حصہ کبھی نہیں ملا ۔ چند دن پہلے بلوچستان اسمبلی میں نہری پانی کے بحران پر زبردست بحث ہوئی، اراکین اسمبلی نے حکومت اور حکومتی اداروں کو ہدف تنقید بنایا اور انکشاف کیا کہ پٹ فیڈر اور کیر تھر کینال میں پانی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایک رکن نے مطالبہ کیا کہ پٹ فیڈر کو کم سے کم 2500کیوسک پانی دیا جائے اور کیر تھر کینال میں 700کیوسک پانی چھوڑا جائے ۔ پٹ فیڈر کو عام حالات میں چھ ہزار کیوسک پانی ملنا چائیے لیکن چند دن پہلے اس میں پانی کا بہاؤ صرف ایک ہزار کیوسک کے لگ بھگ تھا ۔ واضح رہے کہ نصیر آبادمیں پٹ فیڈر سات لاکھ ایکڑ زمین کو آباد کرتا ہے اور بلوچستان اپنی ضرورت کی غذائی اجناس پٹ فیڈر اور کیر تھر کینال سے حاصل کرتا ہے ۔بلوچستان اسمبلی میں زبردست احتجاج کے بعد پٹ فیڈر کو حالیہ موسم کے دوران 2500کیوسک اور کیر تھر کینال کو 1400کیوسک کے بجائے700کیوسک پانی دیا گیا ۔ بلوچستان اور سندھ کی وفاقی حکومت سے شکایات جائز ہیں ۔یاد رہے 1991ء میں شہباز شریف کی رہنمائی میں صوبوں کے درمیان دریائے سندھ کے پانی کے استعمال پر مذاکرات ہوئے ۔ آخر میں فیصلہ کیاگیا کہ کس صوبے کو کتنا پانی ملے گا۔ بلوچستان چونکہ رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور دریائے سندھ کے نہری نظام کے آخری سرے پر واقع ہے ، اس لیے اس کا حصہ دس ہزار کیوسک مقرر کیا گیا ۔ بلوچستان کی نمائندگی نواب ذوالفقار علی مگسی نے کی تھی اور یہ بلوچستان کی بڑی کامیابی تھی کہ بلوچستان کو دس ہزار کیوسک پانی دیاجائے گا ۔ کچھی کینال کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا،ا ضافی پانی اس کے ذریعے بلوچستان کو ملنا تھا لہذا وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ کچھی کینال تعمیر کی جائے جس سے سات لاکھ ایکڑسے زیادہ انتہائی زرخیز زمین آباد ہوگی ۔لیکن بلوچستان کے ہر منصوبے کی طرح چھبیس سال گزرنے کے بعد بھی کچھی کینال تعمیر نہیں ہو ا بلکہ اب تک اس کا پہلا مرحلہ زیر تعمیر ہے ۔ ابتدائی تخمینہ کے طورپر کچھی کینال پر50ارب روپے اخراجات آنے تھے لیکن اب اس پر 120ارب روپے کے اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے ۔ یعنی دیر سے تعمیر کرنے کی وجہ سے اس کی لاگت میں ستر ارب روپے کا اضافہ ہواہے ۔ اطلاعات ہیں کہ بعض حکام کو ان تعمیرات پر شدید اعتراضات ہیں اور یہ الزام لگایا گیا ہے کہ تعمیرات غیرمعیاری اور منصوبہ کے مطابق نہیں ہیں ، اس میں ناقص میٹریل حکومتی اہلکاروں کی مرضی سے استعمال کیاجارہا ہے ، تعمیرات اتنی ناقص ہیں کہ شاید حکومت بلوچستان اس کینال کو قبول نہ کرے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کچھی کینال کی تعمیر میں جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے تاکہ نہری پانی کا استعمال پنجاب کرتا رہے ۔ گزشتہ چھبیس سالوں سے بلوچستان کے نہری پانی کا حصہ پنجاب استعمال کرتا آرہا ہے اس لیے ضروری ہے کہ حکومت بلوچستان اس کی مکمل قیمت وصول کرے کیونکہ بلوچستان کو گزشتہ چھبیس سالوں سے سات لاکھ ایکڑ زمین سے فصلیں حاصل کرنے سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ بھی دانستہ طورپر، لہذا اس نقصان کا زبردست طریقہ سے ازالہ ہونا چائیے ،صوبائی حکومت اوربلوچستان کے اراکین پارلیمان اس معاملے کو اٹھائیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کچھی کینال کو معیاری تعمیرات کے ساتھ جلد سے جلد مکمل کرے تاکہ سات لاکھ ایکڑ زمین آباد ہو اور بیس لاکھ انسانوں کو روزگار ملے ۔ ساتھ ہی پٹ فیڈر کو چھ ہزار کیوسک اور کیرتھر کینال کو 1400کیوسک پانی جو بلوچستان کا حق ہے فراہم کیاجائے ۔ امید ہے اس اضافی پانی کا ایک حصہ سندھ کی حکومت بلوچستان کو بھی فراہم کرے گا کیونکہ بلوچستان نے اس دوران سندھ سے زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں ۔