| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   March 31 – 2017

آئے دن اخبارات میں خبریں چھپ رہی ہیں کہ ملازمتوں میں بھرتی کے دوران انصاف کے تقاضے پور ے نہیں کیے جاتے۔ بڑے بڑے افسران اور طاقتور لوگ کسی نہ کسی بہانہ روزگار کے ذرائع پر قابض ہیں۔ کمزور درخواست دہندگان کے ساتھ نا انصافی ہوتی ہے ، لوگ بلوچستان میں ملازمتیں خریدتے ہیں یا اپنے اولاد ‘ رشتہ داروں ‘ یا سیاسی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں یہ شکایات عام ہیں ۔ اخبارات اس قسم کی شکایات سے بھری پڑی ہیں لیکن ان شکایات کا ازالہ نہیں کیا جارہا ۔ حال ہی میں صوبائی اسمبلی اجلاس کے دوران ایک رکن اسمبلی نے انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت کے ایک اہم ترین محکمہ میں ملازمتیں قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کی گئیں۔ اس انکشاف کی کسی بھی وزیر یا رکن صوبائی اسمبلی نے تردید نہیں کی ،متعلقہ وزیر نے دوسرے اجلاس کے دوران اپنی لا علمی کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ وہ تحقیقات کرائیں گے۔ بنیادی مسئلہ انصاف کا ہے یہ حکومت کی آئینی ‘ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ لوگوں او ر خصوصاً مستحق افراد کو روزگار دے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرے ۔لیکن دیکھا گیا ہے کہ حق داروں کا حق مارنے کیلئے میرٹ کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے جس کا مقصد خود روزگار حاصل کرنا اور زیادہ مستحق افراد کو روزگار سے محروم رکھنا ہے یہ ایک قسم کی میرٹ کا فراڈ ہے ۔بلوچستان کے قوانین اور رولز میں موجود ہے کہ لوگوں کو ملازمت ضلعی میرٹ کی بنیاد پر دی جائے گی یہ قانون اس لیے بنایاگیا تھا کہ بلوچستان کے اکثر اضلاع‘ سوائے چند ایک کے ‘ سب کے سب پسماندہ ہیں وہاں تعلیم اور تربیت کی سہولیات نہیں ہیں اس لیے ان تمام اضلاع کے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے پورے صوبے میں ضلعی میرٹ کا نفاذ کیا گیاتاکہ کمزور ترین طبقات کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔ لیکن بعض متعصب افسران نے ان کمزور طبقات اور لوگوں کے حقوق غصب کرنے کے لیے ’’ میرٹ’’ کا ڈرامہ رچایا ہوا ہے چونکہ کوئٹہ اور اس کے گردونواح کے لوگوں کو وسیع سہولیات حاصل ہیں اس لیے ان کا پسماندہ اضلاع کے پسماندہ ترین لوگوں سے کوئی مقابلہ نہیں ۔ ریاست پاکستان کی پوری انتظامیہ میں بلوچ کی نمائندگی زیرو ہے، اس لیے پوری ریاستی مشینری بلوچوں کے خلاف ہے اور ان سے امتیازی سلوک روا رکھتی ہے ۔ ریاست پاکستان کی انتظامی مشینری نے بلوچوں کو موثر ترین انداز میں بے دخل کیا ہے اور اب کوئٹہ کے متمول گھرانے پورے بلوچستان کی انتظامی مشینری سے بلوچوں کو بے دخل کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ بلوچ اکثریتی صوبے کے بلوچ حکمرانوں کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ بڑی تیزی اور منصوبہ بندی کے ساتھ انتظامیہ پر دوسری زبان بولنے والے لوگ قابض ہورہے ہیں اور ریاستی مشینری پوری طرح ان کی مدد کررہی ہے۔بلوچ اپنے وطن میں غیروں کی ماتحتی میں جارہے ہیں اور اس اسکیم کو ’’میرٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کی آڑھ میں سب کچھ ہورہا ہے ۔اس سے قبل ایک سابق متعصب گورنر نے دو بڑے کپڑے کے کارخانے بند کرادئیے ۔ ایک کارخانے کی اربوں روپے کی مشینری خود صرف سولہ کروڑ روپے میں خرید لی اور تقریباً بیس ہزار غریب لوگوں کو روزگار سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم کردیا ۔ ان ملوں کی جگہ بڑا ڈرامہ رچا کر دو یونیورسٹیاں بنا دی گئیں ان میں بھی میرٹ کے نام پر بلوچوں کو کم سے کم داخلے دئیے گئے ۔ میرٹ کے نام پر کوئٹہ کے طاقتور طبقات نے ان یونیورسٹیوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔دور دراز پسماندہ ترین اضلاع کے طلباء تو ان سے مقابلہ نہیں کر سکتے اس لیے ان سب کو داخلے سے محروم رکھا جارہا ہے۔ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی ٹی یونیورسٹی کو تربت منتقل کیاجائے ، آی ٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا حق مکران اور خاران کے لوگوں کو بھی ہے صرف کوئٹہ اور اس کے گردونواح کے گھرانوں سے آئی ٹی یونیورسٹی کو واگزار کرایاجائے۔ اسی طرح میڈیکل کالج میں داخلہ کے دوران بھی یہی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی گئی ان تمام سازشوں میں متعصب افسران شامل ہیں بلوچستان کے اندر رہتے ہوئے اکثریتی آبادی کو قوت کے زور پر اس کے حقوق سے محروم رکھنا خصوصاً حق روزگار سے محروم رکھنا ایک خطر ناک روایت ہوگی اس لیے وزیراعلیٰ اور اراکین اسمبلی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بغیر کسی دباؤکے بلوچ اکثریتی حقو ق کا بھرپور انداز میں دفاع کریں اور متعصب افسران جو ان جرائم میں ملوث ہیں ان کو نہ صرف عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ ان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں ۔ گزشتہ سالوں بعض وزراء نے 1400افراد کو کوئٹہ کے مقامی ادارے میں بھرتی کیا حالانکہ مقامی ادارے پر صرف اور صرف کوئٹہ کے بے روزگاروں کا حق تھا ۔ طاقتور وزیر نے اپنے سیاسی کارکنوں کو بھرتی کیا اور حکومت نے اس کی منظوری نہیں دی کیونکہ یہ ایک خودمختار ادارہ تھا۔ اسی طرح ایک افسر نے درجنوں افراد بلوچستان اسمبلی میں بھرتی کیے یہ بھرتیاں تعصب کی بنیاد پر تھیں اور بطورڈھال ،وزیر کے اولاد کو بھی ان کی حیثیت سے زیادہ بڑی نوکری دی۔ ایسے کرپٹ اور متعصب افسران کو سخت ترین سزائیں دی جائیں جو دوسروں کا قانونی اور جائز حق غصب کرتے ہیں آئندہ تمام متعلقہ افسران کو یہ ہدایات چیف سیکرٹری جاری کریں کہ کسی بھی امیدوار کی حق تلفی نہیں ہوگی طاقت ور کو زور آزمائی سے وزیراعلیٰ خود روکیں ۔