|

وقتِ اشاعت :   April 24 – 2017

بھارت کے وسطی علاقے میں تازہ اندرونی تنازع کے دوران مبینہ ماؤ باغیوں نے پیرا ملٹری فورسز کے کمانڈوز پر حملہ کرکے 12 اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار ریاست چھتیس گڑھ میں ضلع سکما میں سڑک پر کام کرنے والے ملازمین کی سیکیورٹی پر تعینات تھے۔ پولیس ترجمان بھگوت سنگھ نے بتایا کہ ‘اب تک ہماری معلومات کے مطابق سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 12 اہلکار ماؤ باغیوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں’۔ پولیس ترجمان نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق نہیں کی کہ حملے میں 6 کمانڈوز شدید زخمی بھی ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ایک ٹیم جائے وقوعہ پر تعینات کردی گئی ہے اور ہمیں اس حملے کے حوالے سے مزید تفصیلات جلد مل جائیں گی’۔ خیال رہے کہ وسطی اور مشرقی ہندوستان کے جنگلات میں ماؤ باغیوں اور حکومت کے درمیان مسلح کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے۔ گذشتہ ماہ ماؤ باغیوں نے اسی ریاست میں ایک قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس میں پیراملٹری پولیس کے 11 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ ماؤ باغی، جن کا کہنا ہے کہ وہ قبائلی افراد اور بے زمین کسانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، کے ممکنہ طور پر اخراجات بھتہ وصولی سے پورے ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ماؤ باغیوں کی بغاوت کو ملک کی داخلی سیکیورٹی کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ غریبوں کے لیے زمین، نوکری اور دیگر حقوق کے لیے لڑرہے ہیں۔ واضح رہے کہ ماؤ باغی بھارت کی کم سے کم 20 ریاستوں میں سرگرم ہیں، جن میں چھتیس گڑھ، آڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ اور مہاشٹرا کی ریاستیں سر فہرست ہیں۔ ہندوستان میں 1960ء سے جاری ماؤ باغیوں کی بغاوت میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ناقدین نے حکومت کی جانب سے ماؤ باغیوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال پر تنقید کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ اس تنازع کو بہتر گورنس اور خطے میں ترقی کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔