| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   May 24 – 2017

حسب روایت رمضان کے مہینے سے قبل افسر شاہی کی توجہ صرف اور صرف اشیاء کی قیمتوں پر ہوتی ہے رمضان کے ابتدائی چند دنوں تک یہ کارروائی محدود ہوتی ہے اور چند ایک گراں فروشوں کو جرمانہ کیا جاتا ہے اور باقی تین ہفتے ان کو لوٹ مار کی کھلی اجازت ہوتی ہے اس پر کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی افسر شاہی سین سے خوبصورتی کے ساتھ خود کو غائب کرتی ہے ۔

بلوچستان میں ایک تو گراں فروشی ہے دوسری طرف بڑی تعداد میں جعلی اشیاء فروخت ہوتی ہیں جس سے لوگوں کی صحت سے کھیلا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ملاوٹ بھی عام ہے دودھ ہر گھر کی ضرورت ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت صاف شفاف اور ہارمون سے پاک دودھ عوا م الناس کو سپلائی کو ممکن بنائے۔

اسی طرح جعلی گھی اور تیل کی بھرمار ہے ساری مارکیٹیں ان سے بھری پڑی ہیں ان میں سے 90فیصد صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں ابھی تک پولیس، ایف آئی اے اور مقامی انتظامیہ نے ان عوام دشمن اقدامات کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے سالوں سے کوئی خبر اخبار کی زینت نہیں بنی کہ جعلی اشیاء خصوصاً گھی، کھانے کا تیل او دیگر کھانے پینے کی اشیاء جو صحت کیلئے نقصان دہ تھیں چھاپے میں برآمد ہوئیں۔

البتہ ایک واقعہ ضرور سامنے آیا جب ایک معروف شربت بنانے والی فیکٹری کے مالک نے ڈی جی ایف آئی اے کو درخواست دی تھی کہ کوئٹہ میں نقلی شربت تیار ہورہا ہے ایف آئی اے نے ڈی جی کے حکم پر چھاپہ مارا اور کارروائی کی اب عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ بھی ڈی جی ایف آئی اے یا بلوچستان پولیس کے سربراہ یا صوبائی چیف سیکرٹری کو ایک ایک درخواست دیں کہ کم سے کم رمضان کے مبارک ماہ میں ان کو ملاوٹ سے پاک اشیاء فراہم کی جائے اور جعلی اشیاء کے فروخت پر قانونی پابندی لگائی جائے ۔

گزشتہ دنوں میڈیا نے بھر پور انداز میں مہم چلا کر محکمہ صحت کو مجبور کیا کہ وہ جعلی ادویات، غیر رجسٹرڈ شدہ ادویات اور ادویات فروخت کرنے والی دکانوں کے خلاف کارروائی کرے کارروائی کی ابتداء بہتر طریقے سے ہوئی ہے اور امید ہے کہ متعلقہ اور ماتحت عدالت بھی عوام کی توقعات پر پورا اترے گی اور مجرمان کو سخت سے سخت ترین سزائیں دے گی اور جعلی ادویات اور جعلی فیکٹریوں کا دھندا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بلوچستان میں بند ہوجائیگا ۔

ہم وزیراعلیٰ سے توقع رکھتے ہیں کہ ان جعلی اشیاء اور ملاوٹ شدہ اشیاء کیخلاف مہم کی خود نگرانی کریں گے اور عوام الناس کو ملاوٹ سے پاک اشیاء فراہم ہونگی کم سے کم دودھ تو ہارمون سے پاک ہونا چاہیے اسی طرح گراں فروشی اور لوٹ مار کیخلاف مہم پورے ماہ چلائی جائے اس مہم کو صرف رمضان کے پہلے ہفتے تک محدود نہ کیا جائے۔