| صد یق بلوچ

وقتِ اشاعت :   June 11 – 2017

روزنامہ آزادی کوئٹہ نے اپنی اشاعت کے 17 سال مکمل کرلئے۔ صوبے اور عوام کی خدمت میں روزنامہ آزادی پیش پیش رہا ہے۔

اس کا سب سے بڑا مطمع نظر عوامی حقوق کی حفاظت کرنا ہے اور حکومت اور دوسرے اداروں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے کہ وہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔

روزنامہ آزادی نے صحافت کی آزادی اور شہری حقوق کا دفاع کیا کسی بھی غیر جمہوری اور ناانصافی پر مبنی احکامات اور اقدامات کی بھر پور مخالفت کی بلکہ بعض فیصلوں کی مزاحمت کی جن کا تعلق بنیادی انسانی حقوق کو غضب کرنا اور ذاتی مفادات کو پروان چڑھانا مقصود تھا۔

روزنامہ آزادی کی بنیادی پالیسی بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت اور انتظامی مشینری کو ان پر توجہ دلانا تاکہ پسماندگی اور غربت کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑی جائے۔

اس میں روزنامہ آزادی اور اس کے اسٹاف کو عوام الناس کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے چونکہ روزنامہ آزادی آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتا ہے اس لئے ان 17سالوں میں مفاد پرست اور کرپٹ افسران کی جانب سے روزنامہ آزادی کے لئے مشکلات کھڑی کی گئیں۔

روزنامہ آزادی کی انتظامیہ نے ان تمام گھٹیا اقدامات کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس کی بھر پور مزاحمت بھی کی ان افسران جن کا تعلق صحافتی شعبہ سے تھا ۔

انہوں نے معاشی ناکہ بندی کا حربہ استعمال کیا تاکہ اس کا معاشی قتل کیاجائے مگر وہ کرپٹ اور بددیانت اپنے اہداف حاصل نہ کرسکے اور روزنامہ آزادی پورے آب وتاب کے ساتھ روزانہ شائع ہورہا ہے اور ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے ۔

جب کرپٹ اور بددیانت افسران روزنامہ آزادی پر مکمل تیاری کے ساتھ حملہ آور ہوئے اور روزنامہ آزادی کے معاشی مشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ کیا تو روزنامہ آزادی کو اپنے اخبار کی قیمت مجبوراً دوگنی کرنا پڑی تاکہ اس کی اشاعت کے اخراجات میں زبردست کمی لائی جائے۔

روزنامہ آزادی واحد اخبار ہے جس نے اپنی اشاعت خود کم کی تاکہ وہ بحران سے نکل جائے اور بددیانت افسران رسوا ہوں اور عوامی خدمت میں اخبار اپنا کردار اداکرتا رہے۔

واضح رہے اس وقت ایک چھوٹے سے شہر میں روزنامہ آزادی کے ایک ہزار سے زیادہ خریدار تھے اب یہ اخبار آج کل عوامی رائے عامہ پر زبردست اثرات رکھتا ہے صرف ایک وزیر کی خبر کو ایک لاکھ افراد نے ویب سائٹ پر دیکھا اور سینکڑوں افراد نے اس خبر کو شیئر کیا۔

اس طرح تقریباً روزانہ کوئی نہ کوئی خبر بڑی خبر بن جاتی ہے۔ پالیسی میں ایک بات صاف اور واضح ہے کہ اخبار ملک کے اندر منتخب نمائندوں خصوصاً نمائندہ حکومت کے رہنماؤں کو پہلا حق دیتا ہے کہ ان کی بات ان کے ووٹروں تک پہنچ جائے۔

دوسری طرف عوام کی باتیں بھی حکمرانوں تک پہنچائی جاتی ہیں تاہم افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ بعض افسران نے روزنامہ آزادی کو اس کا جائز مقام کبھی نہیں دیا۔

جب کبھی ان کیخلاف کوئی خبری چھپتی ہے تو وہ رونا دھونا شروع کردیتے ہیں ورنہ وہ روزنامہ آزادی کو ٹھگوں کی قطار میں کھڑا رکھتے ہیں ہم وزیراعلیٰ کی خدمت میں یہ شکایت گوش گزار کراتے ہیں کہ روزنامہ آزادی کے ساتھ آج 17سالوں بعد بھی انصاف نہیں ہوا صرف اور صرف ٹھگوں کی سرپرستی ہورہی ہے۔حقیقی اور مقامی اخبارات کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔