|

وقتِ اشاعت :   4 دِن پہلے

پاکستان ابھی تک آر سی ڈی اور ای سی او کارکن ہے ۔ ان تین بنیادی اور کلیدی ممالک میں پاکستان ‘ ایران اور ترکی شامل ہیں ۔

گزشتہ ساٹھ سالوں میں امریکا کی رہنمائی میں بغداد پیکٹ ‘ سیٹو اور بعد میں آر سی ڈی اور ای سی او بنا جن کا بنیادی فلسفہ یہ تھا کہ ان ممالک کے درمیان تعلقات کو زیادہ فروغ دیا جائے تاکہ ان کے درمیان تجارت ‘ باہمی رابطے ‘ اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔

اس کے لئے مارشل پلان کے تحت ایک منصوبہ بنایا گیا تھا کہ ایک سڑک کراچی ( اس وقت پاکستان کا دارالخلافہ) کو تہران اور استنبول سے ملایا جائے ۔

عراق میں بادشاہت کی خاتمہ کے بعد اور عراق کے بغداد پیکٹ سے علیحد ہونے کے بعد اس کا ناسنٹو ہائی وے رکھ دیا گیا ۔ جب ایران میں انقلاب آیا تو فوجی معاہدہ ختم ہوگیا اور اس کا نام تبدیل کرکے آر سی ڈی رکھ دیا گیا ۔

یہ بنیادی طورپر تین ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کا معاہدہ تھا اس کے بنیادی مقاصد میں ریل ‘ روڈ کی ترقی شامل تھی ۔ پاکستان نے 1980ء کی دہائی میں سنجیدگی کے ساتھ ملک کے اندر سڑک کی تعمیر شروع کردی۔آر سی ڈی ہائی وے کراچی اور ایرانی سرحد تک تعمیر کی گئی۔

125 سال قبل برطانوی حکومت نے کوئٹہ ‘ زاہدان ریلوے تعمیر کی ، بنیادی طورپر یہ فوجی نقل و حمل کے لئے تھا تاکہ ہنگامی صورت حال میں فوج کو جلد سے جلد افغانستان اور ایران کی سرحد تک پہنچایا جا سکے ۔ بعد میں اس میں مسافر اور کارگو ٹرینیں چلائیں گئیں اور لوگوں کی آمد و رفت کے لئے آسانی پیداکی گئی۔

دوسری طرف ایران نے زاہدان سے کرمان تک ریلوے لائن تعمیر کرکے پورے ریلوے کو بین الاقوامی ریل کے نظام سے منسلک کردیا ۔ جبکہ ہمارے ہان کوئٹہ ‘ زاہدان ریلوے اس وقت بین الاقوامی ریلوے نظام کا پسماندہ ترین حصہ بن چکا ہے ۔

حکومت پاکستان گزشتہ ستر سالوں میں اس کی ترقی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ اس کے 35ریلوے اسٹیشن بالکل ویران پڑے ہیں اربوں کے اثاثے ضائع ہورہے ہیں ۔ گوادر پورٹ کے پہلے مرحلے کی تعمیر کے بعد یہ تجویز دی گئی تھی کہ گوادر کی بندر گاہ کو کوئٹہ ‘ زاہدان ریلوے کے ذریعے بین الاقوامی ریلوے نظام سے منسلک کیاجائے گا۔

بد نیت حضرات جو اقتدار میں ہیں ان لوگوں نے اس تجویز کی بھرپور مخالفت کی بلکہ اس کے بجائے منفی تجاویز دیں کہ ریلوے لائن کو غیر آباد ‘ پسماندہ ترین علاقوں کی طرف موڑا جائے ۔

چنانچہ ان عقل مند سیاسی رہنماؤں کی تجویز پر گوادر ریل کو زیادہ پسماندہ علاقوں کی طرف لے جایا جارہا ہے تاکہ بلوچستان اور اس کی ترقی کی رفتار کو روکا جا سکے ۔چاغی دنیا میں معدنیات کے حوالے سے ایک اہم ترین خطہ ہے اس کی معدنیات کی ٹرانسپورٹ دنیا بھر میں ہوگی یہ بذریعہ ریل اور سمندری راستے سے ہوگی ۔

چاغی اور گوادر کو ملانے سے بلوچستان میں ترقی کی رفتار زیادہ تیز ہوگی ۔ کھربوں ٹن معدنیات کی ٹرانسپورٹ ہوگی۔ حیرانگی ہے کہ ترقی پسند حکومت بلوچستان کی ترقی کے مخالف ہے اور گوادر کی بندر گاہ کو بین الاقوامی ریلوے نظام سے منسلک کرنے کی مخالفت کررہی ہے ۔

بین الاقوامی حلقوں کی جانب سے حکومت پاکستان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ پہلے وہ کوئٹہ ‘ زاہدان سیکشن کو جلد سے جلد اپ گریڈ کرے تاکہ ایران اور ترکی سے براہ راست اور بڑے پیمانے پر تجارت کو فروغ دیا جاسکے بلکہ ان کی طرف سے یہ تجویز ہے کہ اسلام آباد ‘ تہران اور استنبول کو ریل کی پٹڑی سے ملا کر اس پر جلد سے جلد ریل ٹریفک شروع کیا جائے ۔

لیکن کوئٹہ ‘ زاہدان کے درمیان ریلوے ٹریک بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے لہذا اس کو جلد سے جلد بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایاجائے ۔ اسلام آباد ‘ تہران اور استنبول کے درمیان صرف ریل اس وجہ سے نہیں چل سکتی کہ درمیان میں کوئٹہ ‘ زاہدان سیکشن کی بوسیدہ ریلوے ٹریک حائل ہے ۔

حکومت کا ابھی کوئی ایسا منصوبہ سامنے نہیں آیا کہ کوئٹہ ‘ زاہدان سیکشن کے ریلوے ٹریک کو نہ صرف اپ گریڈ کیاجائے گااور اس کو گوادر کی بندر گاہ کے علاوہ بین الاقوامی ریلوے لائن کا حصہ بنایا جائے گاتاکہ اسلام آباد ‘ تہران اور استنبول کے درمیان براہ راست ٹرین چلائی جائے اور ان تینوں ممالک کے درمیان کنٹینر ٹرین سروس شروع کی جائے۔

ہماری تجویز پر ان منصوبوں پر عمل کیاجاتا اور گوادر کو کوئٹہ ‘ زاہدان ریلوے سے ملادیا جاتا تو ایران ہمارا محتاج ہوتا اور وہ اس بات پر مجبور ہوتا کہ وہ اپنی ٹرین سروس پہلے گوادر سے ملاتی اور بعد میں زاہدان تک مال برداری اسی روٹ سے کرتا ۔

مگر ہمارے بلوچ سیاسی وزیر کی تجویز پر حکومت اب ریلوے لائن کو مکران کے زیادہ پسماندہ ترین علاقے کی طرف لے جارہی ہے جہاں پر دہائیوں تک معاشی ترقی کے آثار نظر نہیں آرہے ۔