|

وقتِ اشاعت :   4 دِن پہلے

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے نشست حلقہ این اے260 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف صوبائی الیکشن کمشنر آفس کا گھیراؤ کیا اور ٹائر جلا کر شدید احتجاج کیا ۔

پولیس نے پیپلز پارٹی کے کئی کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء آغا ناصر کی قیادت میں کارکنوں نے حلقہ این اے260 کے ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی طرف داری کے خلاف صوبائی الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔

حکومت اور صوبائی الیکشن کمیشن کے عملے کے خلاف شدید نعرہ بازی کی پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ٹائر جلا کر شدید احتجاج جس نے بروقت کا رروائی کر تے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء آغا ناصر سمیت کئی کارکنوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ۔

دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے صدر حاجی علی مدد جتک پارٹی کے رہنماء سینیٹر سردار فتح محمد محمد حسنی نے دعویٰ کیا ہے کہ حلقہ این اے 260 کوئٹہ چاغی کے ضمنی انتخابات میں ہمارے28 ہزار ووٹ غائب کئے ہیں اور دھاندلی کر کے ہمیں پارلیمانی سیاست سے آؤٹ کر نا چا ہتے ہیں جسکی ہم مذمت کر تے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کر تے ہیں کہ مذکورہ حلقے کے نتائج کو روک کر غیر ملکی مبصرین کے ساتھ دوبارہ ووٹوں کی تصدیق کر کے گنتی کے بعد نتائج کا اعلان کیا جائے کیونکہ ہم سے ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا ہے جس کی ہم ہر گز اجازت نہیں دیتے ۔

ہمارے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کر تے ہوئے پولیس نے پارٹی کے رہنماؤں آغا ناصرسمیت100 ساتھیوں کوتشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کیا ہے جس کی مذمت اور ان کی رہائی کا مطالبہ کر تے ہیں اگر ہمارے غائب کئے جانیوالے ووٹ شامل کر کے مطالبے کو پورا نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کر تے ہوئے جلسے، جلوس کریں اور سڑکوں پر نکلیں گے ۔

یہ بات انہوں نے اتوار کوکوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سید اقبال شاہ سیکرٹری اطلاعات سردار سر بلند جو گیزئی، لالا محمد یوسف خلجی، ثناء اللہ جتک سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی ۔

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتی ہے اس لئے ووٹ کے ذریعے ہی ایوان میں پہنچنے کے لئے اپنا کردار ادا کر تے ہیں کیونکہ عوام پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ووٹ کا حق دیا تھا ور ہم نے حلقہ این اے260 کوئٹہ چاغی کے ضمنی انتخاب میں مختلف قبائلی رہنماؤں، پارٹی کے بہی خواہوں سمیت علاقے کے عوام کے تعاون سے انتخابات میں حصہ لیا اور لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ۔

گزشتہ روز میڈیا کے ذریعے پیپلز پارٹی کے خلاف میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے اور ہمارے حلقے کے28 ہزار ووٹ غائب کئے ہے تاکہ دھاندلی سے ہمیں پارلیمانی سیاست اور جمہوریت سے دور رکھا جائے اور اگر یہ روش برقرار رہی تو ہم پارلیمانی سیاست چھوڑ کر سڑکوں پر نکلیں گے جلسے، جلوس، احتجاج کرینگے انہوں نے کہا ہے کہ گنتی میں حلقہ پانچ اور چھ کے علاوہ چاغی سے19ہزار پانچ سو ووٹوں میں سے 12 ہزار ووٹ شو کئے جا رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا ہے کہ 1985 سے ہم اس حلقے میں الیکشن لڑ رہے ہیں اور5 بار کامیابی حاصل کی ہے لیکن ہر دور میں ہمارے مینڈیٹ کو چھیننے کے ساتھ ساتھ ہمیں پارلیمانی سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی ہم مذمت کر تے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیا پر بھی پیپلز پارٹی کا میڈیا ٹرائل کر تے ہوئے ہمیں ہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

پیپلز پارٹی کی جڑیں عوام میں ہے اور اس کے جیالے ہی اصل قوت ہے انہوں نے کہا ہے کہ ضمنی انتخاب میں اپنائی جانیوالی پالیسی سے 2018 کے الیکشن کا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے حالانکہ ہم نے الیکشن کمشنر کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ صاف وشفاف انتخابات کو یقینی بنائیں لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا ہے کہ قطری پیسے کو پیپلز پارٹی کی جیت کو ہار میں تبدیل کرنے کے لئے خرچ کیا جا رہا ہے اگر جمہوریت کو ڈی ریل کیا جاتا ہے تو پھر ہم انصاف سڑکوں پر نکل کر ہی مانگیں گے اور ہم عوام کے حق پر ڈھاکہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے ۔

ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہا ہے کہ60 فیصد آر اوز کے دستخط شدہ نتائج ہمارے پاس ہے آج بھی پارٹی کے ورکر آغا ناصر کی قیادت میں صوبائی الیکشن کمیشن کے سامنے ٹائر جلا کر پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کر کے انہیں تھانے میں بند کر دیا ہے جس کی ہم مذمت کر تے ہیں ۔

الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کر تے ہیں کہ مذکورہ الیکشن کے نتائج کو روک کر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور عالمی میڈیا کے سامنے ووٹوں کو گنتے کر کے ان کی تصدیق کو یقینی بنائیں تاکہ انصاف پر مبنی فیصلہ اور حق پر مبنی جیتنے والے امیدوار کا اعلان ہو سکے اگر ہمارے مطالبے پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے جلسے ، جلوس کرینگے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری پیپلز پارٹی کی30 ہزار ووٹوں کو چرانے والوں پر عائد ہو گی ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے مخالفین کو30 ہزار بیلٹ پیپرز دیئے گئے اس کی تحقیقات کی جائے یہ کیس نے اور کیوں دیئے ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکے۔