|

وقتِ اشاعت :   4 دِن پہلے

کوئٹہ: حکومت بلوچستان کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں ریکوڈک کے حوالے سے جاری خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ ایکسڈ کورٹ میں ریکوڈک کے حوالے سے ٹی تھیان کاپر کمپنی (TCC) کی جانب سے دائر کئے گئے 11.5 ارب ڈالر کے کلیم (Claim) کا فیصلہ ٹی سی سی کے حق میں ہو گیا ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ دراصل ٹی سی سی نے ایکسڈ کورٹ میں 11.5 ارب ڈالر کا نقصانات کے ازالے کا دعویٰ دائر کیا ہے جو کہ بہت ہی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ اس حوالے سے حکومت بلوچستان کی جانب سے اٹارٹی جنرل آف پاکستان اور بین الاقوامی قانونی ماہرین پر مشتمل ٹیم اپنا جواب دعویٰ تیار کرنے کے حوالے سے مشاورت کر رہی ہے اور آئندہ سماعت پر اپنا جواب دعویٰ داخل کرے گی۔

ترجمان نے مزید وضاحت کی ہے کہ حکومت بلوچستان اس کیس کو انتہائی اہمیت دیتی ہے اور مستعدی سے اس کی پیروی کر رہی ہے۔

درحقیقت حکومت بلوچستان نے ایکسڈ کورٹ کے تحت قائم ٹریبونل کے ایک معزز ممبر پر اعتراض اٹھایا تھا جسے ایکسڈ کورٹ نے سماعت کے لیے منظور کیا ہے اور ٹی سی سی کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کوانٹم پروسیڈنگز(Quantum Proceedings) کو معطل کر دیا ہے اور حکومت پاکستان کی جانب سے دائر ٹریبونل ممبر پر اعتراض کی اپیل کو پہلے سننے کا حکم دیا ہے۔

جو کہ اس کیس کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے اٹارنی جنرل پہلے ہی تفصیل جاری کر چکے ہیں اس کے باوجود مذکورہ کیس میں ٹی سی سی کمپنی کے کلیم کو فیصلہ قرار دینا قطعی طور پر درست نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ریکوڈک کیس صرف حکومت بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہمیت کا حامل ہے لہذا اس کیس کے حوالے سے حقیقت کے برعکس غیر ذمہ دارانہ قیاس آرائیوں اور تبصروں سے گریز کیا جائے۔