|

وقتِ اشاعت :   4 دِن پہلے

کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نذیراحمد لانگو پر مشتمل بنچ نے شاہ محمد جتوئی کی جانب سے دائر آئینی درخوست نمبر 2005/237 کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے گذشتہ سماعت میں عدالت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے کے حوالے سے جاری احکامات کے تحت چیف سیکریٹری بلوچستان کی سربراہی میں 29مئی کو منعقدہ ۔

اجلاس جس میں انہوں نے خود بھی شرکت کی کے ایجنڈے کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اجلاس کے شرکاء نے اسی حوالے سے عدالتی حکم کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے منشیات کے مسئلۂ کی سنگینی کو محسوس کیا ہے اور اس حوالے سے عدالت کے حکم کو سب کے لئے آنکھیں کھولنے کا حامل قرار دیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اجلاس کے شرکاء اس حقیقت کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عدالت عالیہ کے احکامات کے تحت منشیات فراہم کندگان کے خلاف مؤثر کارروائی کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ اجلاس میں عدالت حکم پر عملدرآمد کے لئے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مسئلہ کی سنگینی کے پیش نظر منشیات کے پھیلاؤ کی بیخ کنی کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں عدالت کے حکم کے علاوہ بھی مختلف اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اجلاس میں عدالتی حکم اور اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے ماہانہ بنیادوں پر اجلاسوں کے انعقاد کا بھی فیصلہ کیا گیا جبکہ اس حواکے سے اگر مزید ہدایات درکار ہوئیں تو اس کے لئے بھی عدالت سے درخواست کی جائے گی۔

اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور اے این ایف کے اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کو ہرممکن مدد اور معاونت فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر اے این ایف نے کوئٹہ میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز کے قیام سے متعلقہ اب تک کی پیشرت سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی۔

عدالت نے مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے اور اس حوالے سے صوبائی حکومت اور اے این ایف کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اس مسئلہ پر قطعی قابو نہیں پایا جاسکتا تاہم اگر صوبائی حکومت اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے صحیح سمت میں قدم اٹھائے تو یقینی طور پر منشیات کے استعمال کو بڑی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس سلسلے مین ایک ممکنہ حد تک حکومت کا ہر شعبہ اپنے دائرہ اختیار اور عوام الناس کو موجودہ حالات میں اپنے حلقۂ اثر میں اپنے حصہ کی ذمہ داری اور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس حوالے سے متعلقہ کلکٹر کسٹمز اور آئی جی ایف سی کو بھی اپنے فرائض پر توجہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت اور اے این ایف کو جہاں کہیں ضرورت پیش آئے مدد تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور اے این ایف کے اسپیشل پراسیکیوٹر کو اس حوالے سے اب تک کی پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ کیس کی آئندہ سماعت کے لئے 22اگست 2017کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔