|

وقتِ اشاعت :   August 6 – 2017

نئی کابینہ نے حلف اٹھانے کے بعد پہلے اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ اپنے قائد نواز شریف کی پالیسیوں کو نہ صرف آگے بڑھائیں گے بلکہ انکے وژن پر عمل بھی کریں گے ۔

جہاں تک وزراء کے ذاتی معاملات کا تعلق ہے ان پر کسی کو اعتراض نہیں وہ اپنے قائد کی پیروی ضرور کریں مگریہ بھی یاد رکھیں کہ ان کے قائد کو یہ دن دیکھنے پڑے ہیں تو انہی پالیسیوں کی وجہ سے۔

کمزور اور چھوٹے صوبوں کے لوگوں کو اعتراض تھا کہ وہ پاکستان کے نہیں بلکہ صرف اور صرف پنجاب کے وزیراعظم تھے یہ الزام صوبائی وزائے اعلیٰ نے لگایا تھا عام لوگوں کی توبات ہی چھوڑدیں۔

کابینہ کو صرف اور صرف وفاق پاکستان کا مفاد دیکھنا چائیے ، ساری پالیسیاں اس کے تابع ہوں ۔

سابق وزیراعظم کی بعض پالیسیاں متنازعہ تھیں ، ان کو صوبوں اور وفاق کے معاملات میں دلچسپی نہیں تھی شاذو نادر ہی وہ مشترکہ مفادات کو نسل کا اجلاس صرف مختصر ترین وقت کے لئے طلب کرتے تھے چونکہ ایک آئینی ضرورت تھی۔

وہ چار سالوں میں صرف چار بار قومی اسمبلی آئے ایک بار اپنی دفاع میں تقریر کرنے آئے لیکن نئے وزیراعظم نے اپنے اس نئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ پارلیمان کے ہر اجلاس میں شریک ہوں گے جو ایک خوش آئند بات ہے سابق وزیراعظم کو چاپلوس اور خوشامد ی لوگ پسند تھے جو آخر کا ر ان کی سیاسی تباہی اور بربادی کا سبب بن گئے۔

اس لیے نئے وزیراعظم صاحب چاپلوس اور خوشامد پسند افراد سے دور رہیں اور صرف قومی اور ملکی معاملات پر اپنی توانائی خرچ کریں ۔

سابق وزیراعظم کا طرز حکمرانی شاہانہ تھا وہ بادشاہوں کی طرح حکمرانی کرتے تھے شاید وہ سعودی اور دیگر فرمانرواؤں سے بہت زیادہ متاثر تھے اور ان کی نقالی کرتے تھے اس لیے وہ کابینہ کا کم سے کم اجلاس بلاتے تھے، کابینہ سے کوئی مشورہ نہیں کرتے تھے صرف کچن کابینہ پر انحصار کرتے تھے اس وجہ سے ان کو یہ مشکل ترین دن دیکھنے پڑے ۔

مگر موجودہ وزیراعظم نے ایک احسن فیصلہ کیا ہے کہ کابینہ کا اجلاس ہر ہفتے ہوگا۔ یہ اجلاس شام کو ہوا کریں گے تاکہ دفتری اوقات کار میں خلل نہ پڑے ۔

سب سے بڑھ کر سابق وزیر اعظم ہمہ وقتی تاجر تھے زیادہ تر وقت اپنی تجارت اور تجارتی مفادات کا تحفظ کرتے تھے وہ جز وقتی سیاستدان تھے وہ صرف ان لوگوں سے ملتے تھے جن سے ان کو کسی قسم کا فائدہ ملنے کی توقع تھی ۔

ان کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ دن بیرون ملک گزاریں اسی وجہ سے انہوں نے کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں رکھا ۔

صرف چار سال کے مختصر عرصے میں انہوں نے 80ممالک کے دورے کیے، سربراہان مملکت اور حکومتوں سے ذاتی تعلقات استوار کرنے کے لئے اپنی پوزیشن کو غلط استعمال کیا ۔

قومی دولت کا بے جاا صراف کیا ۔ اگر موصوف ہمہ وقتی وزیر خارجہ مقرر کرتے تو ایک وزیر خارجہ اور انکا ضروری اسٹاف ہوتا جبکہ سابق وزیراعظم خود وزیر خارجہ بن کر ہر غیر ملکی دورے پر اپنے پورے خاندان کے علاوہ بھی بہت بڑا وفد اور اسٹاف ممبران کو ساتھ لے جاتے تھے جس سے قومی خزانہ کو زبردست نقصان پہنچا ۔

موجودہ وزیراعظم نے اس غلطی سے بچنے کے لئے خواجہ آصف کو ہمہ وقتی وزیر خارجہ مقرر کردیا جو ایک احسن اقدام ہے ۔

ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ موجودہ وزیراعظم اور ان کی حکومت حزب اختلاف کی تنقید کا بغور جائزہ لے گی اور اس کو اس بناء پر رد نہیں کرے گی کہ یہ حزب اختلاف کی طرف سے آیا ہے ۔