|

وقتِ اشاعت :   August 30 – 2017

 لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث شرجیل خان پر 5 سال کی پابندی عائد کردی گئی۔

جسٹس (ر) اصغر حیدر کی سربراہی میں جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق کپتان وسیم باری پر مشتمل 3 رکنی ٹریبیونل نے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے شرجیل خان پر پانچ سال کی پابندی لگائی۔

شرجیل خان پر اینٹی کرپشن کوڈ کی 5 شقوں کے تحت مشکوک افراد سے ملنے، پی سی بی کو مطلع نہ کرنے اور مشکوک افراد کی جانب سے خراب کارکردگی کےلیے رقم کی پیشکش قبول کرنے جیسی خلاف ورزیوں کے الزامات ثابت ہوگئے تھے۔ کرکٹرکو پانچ سالہ معطلی کی سزا دی گئی ہے، ڈھائی سال سزا ہو گی جبکہ اگلے ڈھائی سال انہیں زیر نگرانی رکھا جائے گا۔ شرجیل ڈھائی سال بعد کرکٹ کھیل سکیں گے جس کی اجازت اچھے چال چلن سے مشروط ہوگی۔ پابندی کا اطلاق 10 فروری 2017 سے ہو گا۔

واضح رہے کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث محمد عرفان کو ایک ماہ معطلی کی سزا دی چکی ہے، جب کہ خالد لطیف، شاہ زیب حسن اور سہولت کاری کے ملزم ناصرجمشید کے معاملات ٹریبیونل میں زیرسماعت ہیں اور عید کے بعد ان کے فیصلے بھی متوقع ہیں۔