|

وقتِ اشاعت :   September 12 – 2017

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں ہوا اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ایوان میں تحریک استحقاق کا نوٹس دیتے ہوئے کہا ہے کہ 25 اگست کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین عبدالمجید خان اچکزئی نے اسمبلی میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر الزامات لگایا ہے کہ میں نے بحیثیت وزیراعلیٰ بلوچستان گوادر میں31 سو ایکڑ اراضی الاٹ کی ہیں جس کا میں پر زور تردید کر تا ہوں ۔

میں گوادر میں 31 ہزار ایکڑ اراضی اپنے دور حکومت میں الاٹ نہیں کی ہیں معزز رکن اسمبلی کے اس بیان سے میرا استحقا ق مجروح ہوا ہے لہٰذا میری تحریک استحقاق کو باضابطہ قرار دیتے ہوئے مزید کا رروائی عمل میں لائی جائے انہوں نے کہا ہے کہ میرے دور حکومت میں گوادر میں ایک پلاٹ بھی کسی کا الاٹ نہیں ہواگوادر کی31سو ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ میرے دور کے بعدہوئی اگر کوئی ثابت کریں تو میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔

نیشنل پارٹی نے انتخابات کے دوران انتخابی منشور دیا اور نیشنل پارٹی نے اپنے منشور کے مطابق عوام کے مفادات کے فیصلے کئے پسنی میں غیر قانونی الاٹمنٹ کو کینسل کر دی گئی گوادر میں بڑے موضوعات پر غیر قانونی الاٹمنٹ ہوئی تھی ان کو بھی کینسل کر دیا مجید خان اچکزئی میرے لئے قابل احترام ہیں وہ اس وقت ایوان میں نہیں ہے اس لئے کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ہمارے لئے قابل احترام ہے ان کو وزیراعلیٰ بنانے میں ہماری پارٹی اور محمود خان اچکزئی نے بڑا کردار ادا کیا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مخلوط حکومت اور صوبے کے حقوق کے تحفظ کریں گے ایک سوال ہے بات یہ ہے کہ ریونیو سے ریکارڈ مانگا جیونی، گوادر اورماڑہ میں کتنے زمینیں الاٹ اور کینسل ہوئی کیس عدالت اور ریونیو میں چل رہی ہے ۔

پشتون بلوچ صوبے میں حکومت کی کوئی زمین نہیں ہے اور نہ ہی سٹے پراپرٹی ہے موجودہ حکومت میں جو کچھ ہوا ان کے ذمہ داری ہم سب ہے ریونیو ریکارڈ آجائے گااس کے بعد فیصلہ ہو جائیگا معذرت میں اس وقت کرونگا جب ریکارڈ آئے گا ۔

انہوں نے کہا ہے کہ گوادر میں زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرکے دوبارہ الاٹ ہوئی اگرریونیو ریکارڈ میں میری بات غلط ثابت ہوئی تو معذرت کرونگاپشتونخواملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ گوادر کی الاٹمنٹ پر پہلے بھی باتیں ہو چکی ہیں 31 ہزار ایکڑ موجودہ دور حکومت میں الاٹ نہیں ہوئی بلکہ موجودہ حکومت نے پچھلے حکومت میں الاٹ کی گئی زمینوں کے الاٹمنٹ کو منسوخ کیا گیا ۔

اخباری بیانات پر اتنا زور نہیں دینا چا ہئے یہ الزام ہے جو بھی تحقیقات ہونگے ہم ساتھ ہے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا ہے کہ مجید خان اچکزئی ذمہ دار شخص ہے اور مجید خان نے بحیثیت چیئرمین ڈاکٹر مالک سمیت کئی لو گوں پر الزامات لگائے جب تک کوئی ثبوت نہیں کسی پر الزام نہیں لگانا چا ہئے چیئرمین کو چاہئے کو الزامات لگانے سے پہلے تحقیقات کریں بعد میں اسپیکر صوبائی اسمبلی نے رائے شماری کے بعد تحریک استحقاق کمیٹی کے سپرد کردی۔

علاوہ ازیں اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈرپر کہا کہ گزشتہ روز پنجگور میں ہماری پارٹی کا ایک پروگرام ہونا تھا جس کی قیادت صوبائی وزیر صحت رحمت بلوچ اور رکن اسمبلی حاجی اسلام بلوچ نے کرنی تھی پروگرام سے قبل پارٹی دفتر پر ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا گیا اور فائرنگ بھی کی گئی شکر ہے کہ ا س میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا مگر دو روز قبل تربت میں ہمارے ایک کارکن کو قتل کیا گیا ہماری پارٹی کے ساتھ یہ سب کچھ آزادی اور انقلاب کے نام پر کیا جارہا ہے ۔

اب تک ہمارے پچاس رہنماء اور کارکن شہید ہوچکے ہیں جس کی میں مذمت کرتا ہوں اور واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری پارٹی پارلیمانی جمہوری جدوجہد کرنے میں پوری طرح سنجیدہ ہے اور اس ملک میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی پارلیمان کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

بندوق کے ذریعے کوئی ہمیں ہماری جدوجہد سے دور نہیں کرسکتا اگر اس طرح سے جدوجہد سے دستبردار ہونا ہوتا تو بہت پہلے ہوچکے ہوتے ہم آزادی اور انقلاب کے نام پر یہ سب کچھ کرنے والی قوتوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بندوق کے زور پر نہ ہم اپنی جدوجہد سے دستبردار ہوں گے نہ ان کے ایجنڈے پر آئیں گے