|

وقتِ اشاعت :   September 14 – 2017

کوئٹہ: پارٹی رہنماؤں وکارکنوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی صف بندیاں کر لی گئی ہیں ہماری جدوجہد سے اگر کوئی خائف ہے بی این پی پرپابندی عائد کرے ڈیتھ سکواڈ کو سرگرم کر کے خون کی ہولی کھیلنے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں دھونس دھمکیوں کے ذریعے پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوشش تیز ہو چکی ہیں ۔

پارٹی کی مقبولیت سے بی این پی مخالف قوتیں خائف ہیں مسلمہ اصول ہے کہ سیاسی تحریکوں ، جدوجہد اور عوامی سیاسی قوتوں کو دھونس دھمکیوں سے ختم کرنا ممکن نہیں عام انتخابات میں بی این پی کا راستہ روکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں ہم نے بلوچ اور بلوچستان کی جدوجہد کو غیر متزلز ل انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں اور بلوچ ہمارے قوم ساتھ ہیں ہمارے جدوجہد کا محور و مقصد بلوچستان اور بلوچ قوم ہے ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر پارٹی کیخلاف صف بندیاں کی جا رہی ہیں اور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کو دھونس دھمکیوں کے ذریعے وفاداریاں تبدیل کرانے کی کوششیں زور پکڑ رہی ہیں جنہوں نے بلوچستان میں قتل و غارت گری اور بے گناہ نہتے رہنماؤں کارکنوں کو جھالاوان میں نشانہ بنایا ان کو ایک بار پھر سرگرم کر کے باقاعدہ طور پر ان کی پشت پناہی کی جا رہی ہے ۔

پارٹی کے بلوچستان بھر میں عظیم الشان تاریخی جلسوں ، عوام رابطہ مہم اور بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے اسٹیلبشمنٹ و ریاستی ادارے خصوصا بی این پی مخالفین ایک پیج پر آ کرپارٹی کو دیوار سے لگانے اور کمزور کرنے کی ٹھان رکھی ہے تاکہ پارٹی کو ختم کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کابلوچ اور بلوچستانیوں کے حوالے سے اصولی اور حقیقی موقف ہے اسی پاداش میں پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کو اس سے قبل بھی شہید کیا گیااور اس خام خیالی میں تھے کہ وہ قتل وغارتگری اور انسانی حقوق کی پامالی کر کے پارٹی کو دیوار سے لگائیں گے۔

لیکن ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور اخلاقی شکست انہیں ہوئی پارٹی مزید مضبوط اور مستحکم ہو رہی ہے اکیسویں صدی میں بلوچ عوام باشعور ہیں اور بخوبی علم رکھتے ہیں کہ کون سی سیاسی قوت ہے جواصولی موقف اور ثابت قدمی پر عمل پیرا ہیں ۔

جھالاوان ، خضدار بالخصوص وڈھ میں پارٹی مخالف صف بندیوں کو دوام دیا جا رہا ہے اور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کوپارٹی سے دور رکھنے کیلئے باقاعدہ طور پر بلا کر دھونس دھمکیاں دی جا رہی ہیں یہاں تک کہ انہیں یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے وفاداری نہ بدلی تو ان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ چند سال قبل جو دالخراش واقعہ خضدار ، وڈھ میں رہنماؤں کارکنوں کے ساتھ پیش آئے اور خونی کی ہولی کھیلی گئی ہماری قومی جمہوری وطنی سیاست کی راہ روکنے کیلئے مظالم ڈھائے گئے انسانی حقوق کی پامالی کی گئی تاکہ پارٹی کے رہنماؤں و کارکنوں کے بلند حوصلوں کو پست کیا جا ئے ایسا نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلنے کیلئے ان قوتوں کو سرگرم کیا جا رہا ہے ان تمام حربوں کا مقصد یہی ہے کہ آنے والے انتخابات سے قبل بی این پی کا راستہ روکا جائے ہماری مقبولیت سے خائف ہیں تو برملا طور پر یہ اعلان کیا جائے کہ بی این پی کو الیکشن میں حصہ لینے نہیں دیا جائیگا ماضی میں جس طرح سلیکشن کی گئی اسی طرح ایک بار پھر انہی ضمیر فروشوں کو اقتدار پر براجمان کیا جائے جس طرح نیپ پر پابندی لگائی گئی ۔

اب بی این پی پر پابندی لگائی جائے تاکہ بلوچستانی عوام پر واضح ہو جائے کہ ہمیں سیاست کا حق بھی نہیں ڈیتھ سکواڈ اور ان لوگوں کو سرگرمیوں کیا جا رہا ہے جنہوں نے بلوچستان میں بے گناہ انسانوں کو قتل و غارت گری کا نشانہ بنایا وڈھ ، خضدار میں ایک بار پھر خونی کی ہولی کھیلنے کی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لا کر صف بندیاں کر لی گئی ہیں ان کے پیچھے مکمل طور پر اسٹیلبشمنٹ اور ریاستی اداروں کا ساتھ ہے اور ان قوتوں کیلئے معاون و مددگار ثابت ہو رہے ہیں ۔

واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں و کارکنوں کو اگر کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہو گی جو مکمل طور پر پارٹی کے خلاف سازشوں میں شامل ہیں اور پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کو فردافردا بلا کر پارٹی سے دور رہنے کی ترغیب دے رہے ہیں انہیں ذہنی کوفت سے دوچار کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست کا محور و مقصد بلوچ و بلوچستان کی قومی جدوجہد ہے اقتدار اور مراعات کی سیاست نہ ماضی میں کی اور نہ اب کریں گے ہمارے لئے سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ہمیں بلوچ اور بلوچستانی عوام کی تائید و حمایت حاصل ہے جو ہماری سیاسی و اخلاقی کامیابی ہے ۔