|

وقتِ اشاعت :   September 14 – 2017

کوئٹہ: انسداد رشوت ستا نی کی خصوصی عدالت بلو چستان کے جج جنا ب بشیر احمد با دینی نے محکمہ خو را ک بلو چستان میں جعلی بلوں کے ذریعے ویٹ پریکیور منٹ کے لئے مختص فنڈز میں سے کروڑوں روپے خرد بر د کر نے کے مقد مہ میں نا مز د2ملز ما ن کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری خارج کرنے کے احکامات دے دئیے ہیں جس کے بعد دونوں نامزد ملزمان کو اینٹی کرپشن پولیس نے حراست میں لیکر تفتیش شروع کردی ہے ۔

استغاثہ کے مطابق محکمہ خوراک کے سپروائزر شاہد حسین اور عیسیٰ خان نے مفرور ملزمان عزت علی ،اللہ بخش اور گرفتار ملزمان بینک منیجر اختیار خان اور منظور علی ودیگر کے ہمراہ ملی بھگت سے ویٹ پریکیورمنٹ کیلئے2007ء میں مختص کردہ 3کروڑ25لاکھ روپے اوستہ محمد بینک سے2اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کئے اور پھر جعلی بلوں کے ذریعے مذکورہ رقوم میں سے ایک کروڑ92لاکھ روپے نکالے اس بات کے انکشاف کے بعد نہ صرف اکاؤنٹ کو بلاک کیا گیا ۔

بلکہ ملزمان مذکور کے خلاف زیر دفعات468,471,109ppc 409,420,467,اور اینٹی کرپشن ایکٹ 1947کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی،کیس میں نامزد بینک منیجر اختیار خان اور منظور علی کو پہلے ہی گرفتار کیاجاچکاتھا جبکہ ملزمان شاہد حسین اور عیسیٰ خان مری نے ضمانت کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس سے گزشتہ روز عدالت نے خارج کرنے کے احکامات صادر کئے جس پر اینٹی کرپشن پولیس نے دونوں ملزمان کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کردی ہے ۔

واضح رہے کہ مذکورہ کیس میں نامزد دو مرکزی ملزمان عزت علی اور اللہ بخش تاحال مفرور ہے جن کی گرفتاری کیلئے اینٹی کرپشن پولیس کی جانب سے کوششیں جاری ہیں ۔