|

وقتِ اشاعت :   September 14 – 2017

کوئٹہ: کمشنرکوئٹہ ڈویژن امجد علی خان نے کہا ہے کہ انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری والدین پر خصوصی توجہ دینے اور اپنے اپنے محلوں کو مکمل پولیو وائرس سے پاک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈویژنل ٹاسک فورس برائے پولیوکے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ایمر جنسی آپریشن سینٹر کے سید فیصل احمد، ڈاکٹر افتاب کاکڑ،ای او سی کے ٹیکنکل فوکل پرسن ڈاکٹر مسعود جوگیز ئی،ڈپٹی کمشنر کوئٹہ،پشین،قلعہ عبداللہ،نوشکی اور چاغی کے علاوہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران بھی موجود تھے۔

کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا کہ 17ستمبر 2017ء سے شروع ہونے والی پانچ روزہ انسدادپولیو مہم کے دوران جو بچے پولیو کے قطرے کسی وجہ سے پلانے سے رہ جائیں ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر ز کو ہدایات دیں کہ پولیو پلان کے مطابق انکاری اور کسی وجہ سے پولیو قطرے پلانے سے رہ جانے والے بچوں کو خصوصی طور پر دوران مہم پولیو قطرے پلائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے۔جس میں عالمی ادارہ صحت ،یونیسف اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندے شامل ہوں ۔

کمیٹی پولیو کے حوالے سے ٹیمیں تشکیل دے گی اوراس سلسلے میں ورکرز کا چناؤ اور کار گردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے کہا ہے کہ پولیو سے انکاری والدین کو رضامندکیا جائے تاکہ نہ صرف ان کے بچے بلکہ دیگر بچے بھی پولیو کے مضراثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ اور اس حوالے سے کو ئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اس موقع پرصوبائی کوارڈینٹرایمر جنسی آپریشن سینٹر سید فیصل احمد نے انسداد پولیو مہم کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ ماہ اگست میں کوئٹہ ،پشین اور قلعہ عبداللہ سے نکاسی آب کے پانی نمونے لئے گئے ان نمونوں میں پولیو وائرس کے کوئی اثار نظر نہیں آئے جوکہ پولیو کے وائرس کے تدارک کیلئے مثبت پہلوہے۔

اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن امجدعلی خان نے اجلاس کے شر کاء کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران رکاوٹ بننے والے عناصر اور کوتاہی کر نے والے عملے کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔قبل ازیں اجلاس کو ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسران نے اپنے اپنے اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ہونے والے سے پیشرفت سے بھی آگاہ کیا۔