|

وقتِ اشاعت :   5 دِن پہلے

 لاہور: پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل آزادی کپ سیریز کا آخری میچ آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ورلڈ الیون اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے مابین آزادی کپ سیریز کا پہلا میچ میزبان ٹیم نے20 رنز سے جیتا تھا،گرین شرٹس نے 5 وکٹ کے نقصان پر 197 رنز بنائے تھے۔ بابر اعظم نے بھرپور فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے 86 رنز اسکور کیے، جواب میں ورلڈ الیون 177 تک محدود رہی۔

دوسرے میچ میں ورلڈ الیون 7 وکٹ سے سرخرو ہوئی، پاکستان نے 6 وکٹ پر 174کا مجموعہ حاصل کیا، بابر اعظم 45رنز بنانے میں کامیاب رہے، مہمان ٹیم نے ہدف ایک گیند قبل صرف تین وکٹ پر حاصل کیا، تھشارا پریرا نے 19 گیندوں پر 5 چھکوں سمیت 46 رنز جڑ کر گرین شرٹس کو فتح سے محروم رکھا،اوپنر ہاشم آملا 72 پر ناقابل شکست رہے، سہیل خان نے 4 اوورز میں 44 رنز کی پٹائی برداشت کی، رومان رئیس سمیت دیگر بولرز بھی اختتامی اوورز میں رنز کا سیلاب روکنے میں ناکام رہے۔سیریز کی فاتح ٹیم کا فیصلہ جمعے کو تیسرے میچ سے ہوگا۔

کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے والے مہمان کرکٹرز نے پہلے مقابلے کی بانسبت دوسرے میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بولرز نے گرین شرٹس کیلیے رنز کا حصول مشکل بنایا تو بیٹسمین بھی ثابت قدم رہے،فیصلہ کن میچ میں کانٹے دار مقابلے کی توقع ہورہی ہے،پاکستان نے بدھ کوکمر کی تکلیف کا شکار حسن علی کی جگہ عثمان شنواری کو میدان میں اتارا لیکن انھیں ایک ہی اوور دیا گیا،چیمپئنز ٹرافی کے ہیروکی واپسی میزبان بولنگ لائن اپ میں تقویت کا باعث بن سکتی ہے۔

فہیم اشرف کو ڈراپ کرکے محمدنواز کو شامل کیا گیا تھا،ان کی کارکردگی بھی توقعات کے مطابق نہیں تھی،دونوں ٹیموں میں تبدیلیاں متوقع ہیں،بیٹنگ کے پاور شو میں پاکستان کی امیدوں کا مرکز بابر اعظم،احمد شہزاد، شعیب ملک اور فخرزمان ہونگے،ورلڈ الیون ہاشم آملا، فاف ڈوپلیسی،ڈیوڈ ملر اور تھشارا پریرا کی جارحانہ بیٹنگ پر انحصار کرے گی۔

بولنگ میں شاداب خان مہمان ٹیم کو پریشان کرسکتے ہیں،حسن علی فٹ ہوئے تو حریف کو رنز بنانے سے روکنے میں مدد ملے گی،ورلڈ الیون بین کٹنگ کے ساتھ عمران طاہر کی بھرپور فارم کی متلاشی ہے۔دوسری طرف سیریز کے آخری میچ کے پُرامن انعقاد کیلیے قذافی اسٹیڈیم اور اطراف میں بدستور سخت سیکیورٹی حصار قائم ہے، آرمی، رینجرز، پولیس اور دیگر فورسز کے دستے اپنی ڈیوٹیاں سنبھالے ہوئے ہیں۔

گزشتہ روز نشتر اسپورٹس کمپلیکس کی تمام سٹرکیں سنسان نظر آئیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں، پی سی بی عہدیداروں اور میڈیا کے نمائندوں کے سوا کسی کو اس علاقے میں آنے کی اجازت نہیں تھی، سخت چیکنگ اور سرچ آپریشن بھی کیا گیا، جمعے کو قذافی اسٹیڈیم، اطراف اور ٹیموں کی آمدورفت کے روٹس پر 24 ایس پیز، 52 ڈی ایس پیزاور 114ایس ایچ اوز کی نگرانی میں 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار ہونگے، رسپانس یونٹ کی گاڑیاں اور ڈولفن اسکواڈ بھی پٹرولنگ کیلیے موجود ہونگے، تمام علاقے کی فضائی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ بھی ہوگی۔موسم بہتر ہونے کی وجہ سے سیریز کے آخری میچ میں زیادہ شائقین آنے کی توقع ہو رہی ہے۔