|

وقتِ اشاعت :   5 دِن پہلے

 اسلام آباد: وزیر ریلوے سعد رفیق کا کہنا ہے کہ نا تو ہماری قیادت گاڈ فادرہے اور نہ ہی ہمارا مافیا سے کوئی لینا دینا ہے اس لئے عدالتی ریمارکس اور ہرزہ سرائی جیسے الفاظ کو مسترد کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر ریلوے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ انصاف کے لیے نظر ثانی کی اپیل دائر کی تاہم انصاف کی امید کے باجود نتائج کا اندزہ تھا، جے آئی ٹی کے طریقہ کار پر تحفظات تھے جب کہ عدالتی فیصلوں سے اختلاف سے انتشار پھیلتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملتان اور لاہور میں وکلا کے جھگڑے اور عدالت میں ہونے والے ہنگامے پر حکومت نے قانون کے مطابق عدلیہ کو تحفظ دیا، ہمیں یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بعض حلقے معزز جج صاحبان کو رپورٹ دے رہے ہیں کہ وکلا کو حکومت میں موجود ایک شخصیت کی سپورٹ حاصل ہے تاہم ان شخصیت نے اپنی پوزیشن کو واضح کیا، عدلیہ کے وقار کو تحفظ اور لاقانونیت کو روکنا حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔

سعد رفیق نے کہا کہ جو ریمارکس پھر دیے گئے یہ نامناسب ہیں اور ہم ہرزہ سرائی جیسے الفاظ کو مسترد کرتے ہیں، نہ ہماری لیڈر شپ گاڈ فادرہے، نہ ہمارا مافیا سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی ہمارے بارے میں ہرزہ سرائی کے الفاظ استعمال کیے جائیں، معزز جج صاحبان کا وقار اور احترام سر آنکھوں پر لیکن منتخب حکومتوں اور پارلیمنٹ کا وقار بھی سب پر لازم ہے، بغیر ثبوت اور دلیل کے اس طرح کے الفاظ استعمال کیے جائیں تو اس طرح کے غیر پارلیمانی الفاظ کو نہ تسلیم کیا جائے گا اور نہ قبول کیا جائے گا۔

خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے وقار کے ساتھ ہمیں اپنے ادارے اور اپنا وقاربھی ملحوظ خاطر ہے، ہماری بھی عزت نفس ہے اور ہمیں اس کا تحفظ کرنا آتا ہے اور ہم کریں گے۔ پاکستان ادارہ جاتی جھگڑے کا متحمل نہیں ہوسکتا، اس وقت داخلی اور خارجی خطرات ہیں، ملک میں کوئی انتشار ہو یہ صرف ہماری نہیں بلکہ سب کی ذمہ داری ہے، ملک میں الزام تراشی اور جواب در جواب کا سلسلہ جاری رہے گا تو اچھا نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کسی طرح یہ جمہوریت منہدم ہوجائے یا اس کی شکل مسخ کردی جائے تو وہ اس خیال کو جھٹک دیں، کرپشن ختم کرنے کے نام پرجو یک طرفہ روڈ رولر چلایا گیا ہے کیا یہ پاکستان کو آگے لے جائے گا، یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے کہ ہم یہ سب دیکھ رہے ہیں اور اس کے باوجود ہم قانون کا دامن بھی نہیں چھوڑتے اور نہ آئین کے دائرے سے بھی باہر نہیں نکلتے، ہمیں غلطی کو دہرانے کے بجائے اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔