|

وقتِ اشاعت :   5 دِن پہلے

یہ خبر پاکستان سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو نفسیاتی ہیجان میں مبتلا کرنے والے کسی بلیو وھیل گیم کی نہیں بلکہ اصلی اور بڑی بلیو وھیل کی ہے جو پہلی بار پاکستان میں دیکھی گئی ہے۔ 

کراچی کے قریب چرنا جزیرے (جو بلوچستان کا حصہ ہے)  کے پانی میں کچھ روز قبل بہت بڑی نیلی وھیل اور اس کے بچے کا دلفریب نظارہ کیا گیا ہے۔ اور سمندروں کی سب سے بڑی مخلوق کا پاکستانی سمندر میں یہ پہلا نظارہ ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے تربیت یافتہ ماہی گیر سعید زمان نے 11 ستمبر کو چرنا کے قریب ٹیونا مچھلی کے شکار کے دوران خوبصورت نیلی وھیل اور اس کے بچے کو دیکھا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق وھیل کی لمبائی 17 میٹر تک تھی جبکہ اس کا بچہ گہرے پانی سے اوپر نہیں آیا جس کا مکمل نظارہ نہ کیا جا سکا۔  

اس سے قبل پاکستانی پانیوں میں بلیو وھیل کی ہڈیاں دیکھی جا چکی ہیں جبکہ اگست 2014 کو سندھ ڈیلٹا کے کھڈی کریک میں مردہ وھیل بھی پائی گئی تھی۔

اس ضمن میں سال 2016 بہت اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان میں بالین وھیل (بڑی اور دانتوں کے بغیر وھیل) کی کئی اقسام کو 47 مرتبہ دیکھا گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی بلیو وھیل نہیں تھی۔ اس سال 10 ستمبر کو ڈبلیوڈبلیو ایف کے تربیت یافتہ مچھیروں نے بلوچستان کے پانیوں میں اسپرم وھیل بھی دیکھی تھی۔

بلیووھیل کی لمبائی 30 میٹر تک ہو سکتی ہے اور پوری دنیا میں ان کی آبادی 10 سے 25 ہزار کے درمیان ہے۔ اسی بنا پر انٹرنیشنل کنزورویشن آف نیچر(آئی یو سی این) نے وھیل کو سرخ فہرست (ریڈ لسٹ) میں شامل کیا ہے۔

ایک بلیو وھیل ہر سال دو سے تین بچوں کو جنم دیتی ہے اور اس کی مدتِ حمل 10 سے 12 ماہ ہوتی ہے۔

اس کا بچہ عموماً ڈھائی ٹن وزنی اور لمبائی 7 میٹر تک ہوتی ہے۔ اپنی جسامت کے باوجود بلیو وھیل چھوٹے شرمپ نما جانوروں مثلاً کِرل اور پیلاجک شرمپ کھانا پسند کرتی ہے۔ اندازاً ایک روز میں بالغ بلیو وھیل چار ٹن کرل کھا جاتی ہے۔

کراچی کے قریب بحیرہ عرب میں شرمپس بے تحاشہ پائے جاتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے وھیل یہاں بڑی تعداد میں رخ کر رہی ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تیکنیکی ایڈوائزر معظم علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نیلی وھیل اور اس کے بچے کو دیکھنا ایک اہم واقعہ ہے جو پاکستانی ساحلوں میں جانداروں کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔

معظم علی خان  نے کہا ڈبلیو ڈبلیو ایف نے 100 سے زائد مچھیروں کو خاص تربیت فراہم کی ہے تاکہ وہ سمندری حیات کی حرکات و سکنات کو ریکارڈ بھی کر سکیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں وھیل، ڈولفن، وھیل شارکس، موبیولا رے فش، ٹرٹلز اور سن فش ریکارڈ کی گئی ہیں اور ایسے جانوروں کے جال میں پھنسنے کے بعد انہیں بحفاظت سمندر میں چھوڑا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام کے تحت اب تک مچھیرے جال میں آنے والی 60 وھیل شارک، 45 موبیولس رے، 25 سن فش، 6 ڈولفن، 5 وھیل، 25 سمندری سانپ، سمندری پرندے اور ہزاروں گرین ٹرٹلز دوبارہ پانی میں چھوڑ چکے ہیں۔

اس موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز رب نواز نے مچھیرے کی جانب سے وھیل کی ویڈیو بنانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق چرنا اور اس کے اطراف کا علاقہ حیاتیاتی دولت سے مالامال ہے، یہاں وھیل، وھیل فِش اور سن فش دیکھی گئی ہیں۔

ہمارا ادارہ کئی غیرسرکاری تنظیموں، وزارتِ ماحولیات و کلائمٹ چینج، وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ اور حکومتِ بلوچستان کے ساتھ مل کر کوشش کررہا ہے کہ چرنا کو آبی تحفظ کا علاقہ (مرین پروٹیکٹڈ ایریا) قرار دیا جاسکے لیکن عدم توجہی اور آلودگی سے کراچی کے قریب بہترین ساحلی مقامات تیزی سے تباہ ہو رہے ہیں۔

رب نواز نے تمام فریقین پر زور دیا کہ جتنا جلدی ممکن ہو چرنا کو ایم پی اے کا درجہ دیدیا جائے کیونکہ یہ سمندری حیات سے مالا مال ہے۔ اس طرح کئی سمندری جانور اپنی نسل اور بقا کے لیے اس علاقے کا رخ کریں گے۔

واضح رہے کہ چرناکے اطراف کورال ریفس یعنی مرجانی چٹانیں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اب وہاں کمرشل ادارے اسنارکلنگ، واٹر اسپورٹس اور اسکوبا سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں جس سے ماحولیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔