|

وقتِ اشاعت :   September 16 – 2017

اسلام آباد :  اراکین سینٹ نے کہاہے کہ افغان جنگوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہم کئی مشکلات کا شکار ہوئے، ہمیں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔

بلوچستان میں چھوٹے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے ٗہمیں جمہوریت کے علاوہ تعلیم اور معیشت کے حوالے سے بھی میثاق کرنا چاہیے ٗ فاٹا کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، سی پیک کے منصوبوں سے سب کو فائدہ ہونا چاہیے ٗ فاٹا اصلاحات کے لئے پارلیمان کی آواز کو سنا جائے۔ جمعہ کو سینٹ میں صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ صدر کا عہدہ جلیل القدر ہے۔

باوجود اس کے کہ ان کے گورننس کے اختیارات نہیں ہیں، صدر نے اپنے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں اہم امور پر بات کی اور حکومت کی رہنمائی کی، ہمیں جمہوریت کے علاوہ تعلیم اور معیشت کے حوالے سے بھی میثاق کرنا چاہیے ٗسابق وزیراعظم کے جانے سے معیشت کے ردہم میں فرق آیا ہے، ایسے ملک میں جہاں موبائل فون کا چارجر بھی نہیں بنتا وہاں جے ایف 17 تھنڈر ہم بنا رہے ہیں جو خوش آئند ہے۔

عسکریت پر قابو پانے اور لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے میں ہم نے بہت کامیابی حاصل کی ہے، پاکستان کا وقار بڑھا ہے، سی پیک بہت بڑا منصوبہ ہے، کھیل بحال ہو رہے ہیں، ہمیں جوڈیشل ریفارمز کرنی چاہئیں، چاروں صوبوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے اس میں ہم بہت پیچھے ہیں اور تعلیم پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ 

صدر مملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ صدر مملکت نے سیاحت، تعلیم کی اہمیت کا ذکر کیا ہے، قوم صدر کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ آئین کا لحاظ سے وہ سپریم ہیں۔

صدر نے کاروبار اور تاجروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، ان کی تقریر اچھی تھی لیکن انہیں کاروباری طبقے کے مسائل کے حوالے سے بات کرنی چاہیے تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی سینیٹر نگہت مرزا نے کہا کہ کراچی میں کچرے کے ڈھیر ہیں، ہر طرف بدبو اور تعفن ہے، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، پانی نہیں ہے، وہاں پانی پر لوگ لڑ رہے ہیں۔

صحت اور تعلیم کی سہولیات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو آفت زدہ عالقہ قرار دیا جائے اور ٹیکس سے مستثنیٰ کیا جائے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان جنگوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہم کئی مشکلات کا شکار ہوئے۔

ہمیں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانے ہوں گے، بلوچستان میں چھوٹے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، یہ بن جائیں تو ایران سے بجلی لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیم کی حالت بہت خراب ہے، 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے میں تعلیم پر توجہ نہیں ہے، بلوچستان میں سیاحت کو بہتر بنایا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر عثمان سیف اللہ نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دیتا نظر آ رہا ہے، صدر مملکت نے اپنے خطاب میں معاشی صورتحال کا ذکر کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم ایک صارف قوم بن چکے ہیں، توانائی کے شعبے میں نئے سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہوا ہے، صحت کی سہولیات کی حالت خراب ہے، اس پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں سے سب کو فائدہ ہونا چاہیے اور اس میں زیادہ شفافیت ہونی چاہیے، فاٹا کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔