|

وقتِ اشاعت :   September 16 – 2017

اسلام آباد :  سینٹ کوبتایاگیا ہے کہ بلوچستان میں کرکٹ فروغ کے لئے مزید سٹیڈیم بنائے جائیں گے ٗ جی ٹی روڈ پر سنگ جانی ٹول پلازہ کو واپس پہلے مقام پر منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے ٗفزیبلٹی رپورٹ آتے ہی بشام تا خوازہ خیلہ ایکسپریس وے کا تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔ 

جمعہ کو وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ سنگ جانی ٹول پلازہ سے قبل پنڈنوشہری کی طرف سے سڑک نکلتی تھی جسے لوگ استعمال کرتے تھے اس لئے ٹول پلازہ کی جگہ تبدیل کی گئی۔ 

انہوں نے کہا کہ جب سنگ جانی ٹول پلازے کو منتقل کیا گیا تھا تو اس وقت سیکٹر ڈی 17 میں کسی قسم کا ترقیاتی کام نہیں ہو رہا تھا، مذکورہ ٹول پلازے کو واپس پہلے مقام پر منتقل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں کیونکہ یہاں پر محصولات کی وصولی اطمینان بخش ہے۔

وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ وزیراعظم نے مئی 2015ء میں دورہ سوات کے موقع پر بشام تا خوازہ خیلہ ایکسپریس وے کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس پر فزیبلٹی رپورٹ آتے ہی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ فزیبلٹی رپورٹ 4 ماہ میں آنی تھی ابھی یہ رپورٹ نہیں آئی۔ فزیبلٹی کیلئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 

وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ بلوچستان میں کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے مزید سٹیڈیم بنائے جائیں گے، اب وہاں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہے، وہاں کھیلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، ہمارا سپورٹس سسٹم ریجن اور ضلع کی بنیاد پر قائم ہے، ڈسٹرکٹ تنظیمیں ٹورنامنٹس کراتی رہتی ہیں۔

معاملہ صوبوں کے پاس ہے لیکن ہم بھی مدد کرتے رہتے ہیں، جتنے زیادہ سے زیادہ ریجن بنیں گے سپورٹس کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ہاکی کی تربیت کے لئے کھلاڑیوں کو باہر بھجوایا، فٹ بال کے کھیل کا معاملہ عدالتوں میں ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ فیفا کے رولز نظر انداز نہ کریں، فٹ بال پاکستان میں بھی مقبول ترین کھیل ہے، ہمارے کھلاڑی بہت اچھا کھیل رہے ہیں۔ 

وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ لورا لائی بائی پاس پر تعمیری کام حتمی الاٹمنٹ، اخراجاتی تخمینے، ڈیزائن کے خاکے، ٹینڈر اور ٹھیکہ دینے کے عمل کی تکمیل کے بعد شروع ہو گا۔ لورا لائی بائی پاس کے لئے الاٹمنٹ سروے پر کام جاری ہے۔ 

ارکان کے مختلف ضمنی سوالات کے جوابات میں انہوں نے بتایا کہ کوئی کمپنی ٹھیکہ لے کر آگے کسی اور کو ٹھیکہ نہٰں دے سکتی، البتہ کچھ کام جیسے کھدائی وغیرہ وہ کسی اور سے کرا سکتی ہے۔

چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے ایوان میں موجود نہ ہونے کے باعث اجلاس کچھ وقت کے لئے ملتوی کر دیا۔

وقفہ سوالات کے بعد دو توجہ مبذول نوٹس وزیر کیڈ سے متعلق تھے جو اس وقت ایوان میں موجود نہیں تھے جس پر چیئرمین نے اجلاس کچھ وقت کیلئے ملتوی کر دیا۔ 

بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ سینٹ کا احترام ہے، 10 سے 11 بجے تک وقفہ سوالات ہوتا ہے اس لئے میں نے 11 بجے اس ایوان میں آنا تھا۔ قومی اسمبلی میں بھی میرے کئی سوالات تھے، سپیکر سے اجازت لے کر اس ایوان میں جواب دینے کیلئے آیا ہوں۔

اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان کی مختلف شاہراہوں پر موٹروے پولیس کی تعیناتی کا معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر عثمان کاکڑ کے سوالات کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بتایا کہ کچلاک، ژوب اور سارانن اور چمن ہائی وے پر موٹروے پولیس کی تعیناتی کے لئے وزیراعظم نے منظوری دیدی ہے۔

یہ کیس اب فنانس ڈویژن کے پاس ہے کیونکہ نئی بننے والی کئی شاہراہوں پر مزید پولیس اور گاڑیوں کی ضرورت ہے۔ چیئرمین نے یہ معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔