|

وقتِ اشاعت :   5 دِن پہلے

تربت:  نیشنل پارٹی کے بلوچستان وحدت کے صدر سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی و سابق صوبائی وزیر کہدہ میر اکرم دشتی ، کیچ کے ضلعی صدر معمد جان دشتی، مرکزی رہنماء مہیر تربت میونسپل کارپوریشن قاضی غلام رسول بلوچ، مرکزی نائب صدر برائے سندھ انجینئر حمید بلوچ ، اراکین بلوچستان وحدت کمیٹی ملا برکت بلوچ ، ٹھیکہ دار زبیر احمد نے کہا ہے کہ پندرہ سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ایک پرائمری اسکول تک قاہم کرنے کی توفیق نہ کرنے والے آج کس منہ سے یونیورسٹی جیسے عظیم تعلیمی ادارہ کے قیام کی کریڈٹ لینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔

ذی شعور عوام اچھی طرح ادراک رکھتے ہیں کہ فروغِ تعلیم سے انکا کوسوں دور کا تعلق بھی نہیں ہے، ان کے ایجنڈے اور مقاصد سے عوام اچھی طرح باخبر ہیں جو کہ عوامی فنڈز کو ہڑپ کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ موصوف دعویٰ کرتا ہے کہ انہوں نے علامہ اقبال کی طرح یونیورسٹی کا خواب دیکھا پھر اسمبلی میں قرارداد پیش کی اور یونیورسٹی بن گء، ان کا یہ دعویٰ سورج کی روشنی کو انگلی سے چھپاننے کی سعی لاحاصل کے سوائکچھ بھی نہیں کیونکہ عوام اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں کہ اس ملک میں اسمبیلوں کی قراردادں کو کیا حیثیت اور اھمیت حاصل ہے، یہاں پر ہر اسمبلی اجلاس میں درجن بھر قراردادیں پاس ہوتی ہیں مگر انکا پرسان حال کیا ہے عوام اچھی طرح باخبر ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ موصوف اپنے جس قرارداد کی بات کرتے ہیں اس میں لوراراء میں یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ بھی شامل تھا، اگر واقعی کیچ میں یونیورسٹی کا قیام انکی قرارداد کا نتیجہ ہے تو آج لورارء میں بھی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آچکا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ آج اس آفاقی حقیقت اور سچاء کو جھٹلانا ممکن نہیں ہے کہ یونیورسٹی نیشنل پارٹی کے قومی پالیسیوں اور ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ذاتی دلچسپی، سرپرستی ، معنت اور لگن کا نتیجہ ہی ہے کیونکہ آج کے دور میں دو ڈھاء سال کے قلیل عرصہ میں ایک اسکول کی عمارت کا قیام بھی ممکن نہ ہے جبکہ اس قلیل عرصہ کے اندر یونیورسٹی جیسے عظیم ادارہ کی عمارت کا قیام یقینی طور پر ڈاکٹر مالک کے ذاتی دلچسپی اور سرپرستی کی ہی مرہون منت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگری کیس میں ملکی عدالتوں سے نااہل ہونے والا شخص آج ایک مرتبہ پھر بہروپیا کا روپ دھارتے ہوئے عوام اور علاقے کے مستقبل سے کھیلنے کے درپہ ہے کہ جسکی اجازت انہیں یہاں کے باشعور عوام کبھی نہیں دے سکتے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آبسر کولواء بازار یونٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، یونٹ اجلاس ضلعی صدر معمد جان دشتی کی صدارت میں ملابرکت ہاوس میں منعقد ہوا کہ جسمیں کثیر تعداد میں کارکنان اور ذمہ داران نے شرکت کرتے ہوئے تنظیمی ، سیاسی اور حکومتی اموْر پر سیر حاصل بحث و مباحثہ کی، پارٹی رہنماوں نے اجلاس سے خطاب کیا 

انہوں نے کہا کہ دس سال تک مسلسل صوباء وزیر رہنے کے باوجود موصوف کو ایک لمعہ کے لیے بھی اپنے گھر کے سامنے گٹر لاہن کی تعمیر کا خیال نہ آیا، وہ بھی نیشنل پارٹی نے تعمیر کرکے علاقہ کے عوام کو پکی اور صاف سڑک کا تحفہ دیا، جبکہ آج یونیورسٹی کے قیام کا دعویٰ کرکے دراصل وہ اپنی ہی جگ ہنساء کرانے کا موجب ثابت ہورہے ہیں۔ 

مقررین نے کہا کہ موصوف جعل سازی میں اپنا کوء ثانی نہیں رکھتا، ہر الیکشن میں کوء نہ کوء جعلی ڈگری پیش کرتے رہتے ہیں ، کبھی مدرسہ کی جعلی سند کے ذریعے مولوی اور مفتی بن جاتے ہیں تو کبھی کسی فراڈیہ تعلیمی ادارہ سے ایم بی اے کی جعلی ڈگری کے زریعے ماہر انتظام کار برائے تجارت بن جاتے ہیں ۔

انہی جعل سازیوں کی وجہ سے وہ قانون کی گرفت میں پھنس گئے اور نااہل ہوگئے مقررین نے کہا کہ دس سال تک مسلسل اقتدار میں رہنے کے باوجود علاقے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک اینٹ کی ترقیاتی کام نہ کرنے والا آج رنگین نعروں کیساتھ عوام کو بے وقوف بنانے کے چکر میں مارے مارے پر رہا ہے مگر وہ بھول گیا ہے کہ آج انفارمیشن کا دور ہے عوام بخوبی جانتے ہیں ۔

کنبہ پرست تاجر نے دس سال مسلسل حکومت میں ہونے کے باوجود نہ ایک اسکول قاہم کی، نہ ایک اسکول مرمت کی، نہ کسی اسکول میں اضافی کمرہ بنایا، نہ ایک واٹر سپلاء اسکیم قاہم کی، نہ ایک سڑک تعمیر کی اور نہ کسی معلہ میں ایک گٹرلاہن بنایا کیونکہ کنبہ پرست تاجر اور اسکے عوام دشمن ٹولہ کا ایجنڈا عوامی فنڈز کا ہڑپ کرنا ہی رہا ہے اور انکا دور علاقے اور عوام کے لیے بھاری اور سخت ترین دور تھے، تربت شہر عملاً کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی تھی ۔

مقررین نے کہا نیشنل پارٹی نے آتے ہی اہرپورٹ چوک تا ڈی بلوچ سڑک کو کشادہ کیا جو کہ علاقہ کا اھم مسلہ تھا جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر حادثات رونما ہوتے تھے اور ہمارے بہت سے قیمتی جانیں اس میں ضاہع ہو? ، دس سالہ اقتدار میں انکو یہ خیال کبھی بھی نہ آیا کہ اس خونی سڑک کو کشادہ کیا جائے کیونکہ عوام کے مفادات سے انکا کوسوں دور کا بھی تعلق نہیں ہے اور انکی سوچ اپنی ذاتی مفادات کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے