|

وقتِ اشاعت :   September 16 – 2017

سکھر: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ (ن) لیگ کے انکارسے کچھ نہیں ہوگا اسے سپریم کورٹ کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔

سکھرمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی دوست دشمن نہیں ہوتا، 1997 میں نواز شریف بے نظیرکے خلاف سخت بیان دیتے تھے، ساری جماعتوں کا اپنا اپوزیشن لیڈرلانے کا حق اور تحریک انصاف اور ایم کیو ایم میں اختلافات ختم ہونا اچھی بات ہے۔

این کے 120 کے حلقے میں جیتنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ حلقے میں ووٹر کا فیصلہ ہے ، میں ووٹر کا دماغ نہیں پڑھ سکتا ہوں۔ انہوں  نے ایک بار پھراسمبلی کی مدت 4 سال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اسمبلی کی مدت 4 سال کرنے پرراضی ہے جب کہ (ن) لیگ نے بھی اگلے الیکشن سے اسمبلی کی مدت 4 سال کرنے پررضامندی ظاہرکی۔

خورشید شاہ نے کہا کہ نیب سے متعلق شکوک وشبہات بڑھ گئے ہیں، نئے چیئرمین نیب کیلئے ابھی کوئی حتمی نام سامنے نہیں آیا اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے بات ہوئی ہے۔

عمران خان کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، اس کے احکامات نہ ماننا اس ادارے کی توہین ہے، عمران خان نوازشریف کیلیے کہتے ہیں کہ وہ اداروں کے فیصلے نہیں مانتے لیکن عمران خان خود بھی تو اداروں کے فیصلے نہیں مانتے۔ عمران خان کے سندھ میں جلسے جلوس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں اگر سندھ جیسا 25 فیصد کام بھی ہوا ہو تو میں عمران خان کو سراہوں گا، سکھرمیں آرٹ اینڈ ڈیزائن کالج بن رہا ہے، 8 ارب کی ایس آئی یو ٹی بن رہی ہے جب کہ 7 ارب کی لاگت سے کینسر اسپتال بن رہا ہے۔