|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2017

کوئٹہ:  نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے منتقلی اختیارات کے چیئرمین سینیٹر میر کبیر محمد شہی نے کہاہے کہ بلوچستان کے کوٹے پر وفاقی محکموں اور ساٹھ سے زائد کارپوریشنوں میں جعلی ڈومیسائل پر جعل سازی اور دھوکہ دہی کے ذریعے نوکریاں حاصل کرنے والوں کے خلاف مکمل تحقیقات کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔ 

ایوان بالا میں بلوچستان کے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعے بھرتی ہونیوالے دوسرے صوبوں کی لوگوں کی جعلی ڈومیسائل کی دوبارہ تصدیق کا عمل شروع کرنے کے متعلق میری قرار داد پاکستان پیپلزپارٹی ، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز کی حمایت کے سینیٹ سے منظور ہوگئی ہے جس کے بعد جعلی ڈومیسائل پر بھرتی ہونیوالے افراد کی ڈومیسائل کی ری چیکنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوجوانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سینیٹر میر کبیر محمد شہی نے بلوچستان کے تمام ڈپٹی کمشنرز سے مطالبہ کیا کہ وہ پوری ایمانداری ، نیک نیتی اور اخلاق سے کسی دباؤ میں آئے اور سفارش کے بغیر بلوچستان سے جاری ہونیوالے جعلی ڈومیسائل کی سینیٹ سیکرٹریٹ کی ہدایت پر دوبارہ تصدیق کا عمل جلدسے جلد باریک بینی سے مکمل کریں تاکہ ہمارے کوٹے پر جعل سازی نوکریاں حاصل کرنے والے دوسرے صوبے کے لوگوں کو بے نقاب کیاجاسکے ۔ 

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے موجودہ جاری سیشن میں میں نے سوال جمع کرایا ہے کہ وفاقی حکومت بتایئے کہ اب تک کتنے محکموں اور خود مختیار کارپوریشنوں میں بلوچستان کے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل پر تعینات لوگوں کے ڈؤمیسائل دوبارہ ری چیک کیے گئے ہیں ۔

سینیٹر میر کبیر محمد شہی نے کہا کہ ملازمتوں اور سکالرشپ سمیت غیر ملکیوں یونیورسٹیوں پر بلوچستان کے کوٹے پر داخلوں میں بڑی تعداد میں جعلی ڈومیسائل کے حامل افراد دوسرے صوبوں کے لوگوں کو جعل سازی اور فراڈ کے ذریعے نوازا گیا ہے جس پر خاموش نہیں رہ سکتا ہوں ۔

بلوچستان کے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعے تعینات ایک بھی غیر بلوچستانی شخص موجودگی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا کیونکہ صوبے کے ہزاروں تعلیمی یافتہ نوجوان بیروزگار ہیں ان کی آواز سینیٹ کے فلور پر اٹھانا میرے ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے جسے احسن طریقے سے نبھانے میں بھرپور کردار ادا کرتا رہوں گا۔