|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2017

پنجگور:  بلوچستان نیشنل پارٹی پنجگور کے ترجمان نے اپنی جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ خزانہ لیکس کے بعد جعلی اسٹنٹس اور جعلی اسناد پر تقرریاں نام نہاد مڈل کلاس کی پہچاں بن گئے ہیں حوس زر کے شکار نام نہاد نمائندے جو جعلی الیکشن کے ذریعے بلوچستان کے عوام پر مسلط کئے گئے ہیں ۔

انہوں نے بلوچستان کو جعلی سازی کا مرکز بنادیا ہے حواس زر کیلئے انہوں نے جعلی اودیات اور جعلی اسٹنٹس مہنگے داموں سے خرید کر نہ صرف کروڑ وں روپے کے گھپلے کئے ہیں بلکہ عوام کی قیمتی جانوں کے ساتھ کھیل کرانسانیت کے خلاف سنگیں جرم مرتکب ہوئے ہیں ۔

محکمہ صحت میں جعلی اسناد پر پیرامیڈیکل اسٹاف کی بھرتی بھی رشوت لیکر کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے انکا بھی تحقیقات ہونی چائیے تاکہ بلوچستان کے غریب عوام کو میرٹ ملے میرٹ کی پامالی سے تشدد جنم لیے رہی ہے جن کے ذمہ دار بھی یہی لوگ ہیں جو خواہشات کی بنیاد پر تعلیمی راہ میں رکاوٹ کھڑا کرکے سفارش کلچر کو رواج بنارہے ہیں ۔

جعلی پیرامیڈ کل کی تقرریاں نہ صرف میرٹ کی پامالی ہے بلکہ مریضو ں کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی سوچی سمجھی سازش ہے،جن کے خلاف بی این پی ہر فورم پر آواز اٹھائے گی ۔

انہوں نے کہاہے قومی پرستی کے لباس اوڑھ کر تصور ہی کیانہیں جاسکتا ہے کہ تعلیم یافتہ شعور ی لوگوں صرف پیسوں اور اپنے مفادات کیلئے اس حدتک گر سکتے ہیں جہاں انسانیت لرز جاتی ہے ۔

ترجمان نے مذید کہاہے کہ چیف سیکریٹری بلوچستان اور نیب حکام سے اپیل ہے کہ وہ جعلی ادویات جعلی اسٹنٹس کے ساتھ جعلی اسناد پر پیر امیڈیکل کی تقرریوں کی تحقیقات کریں۔