|

وقتِ اشاعت :   September 17 – 2017

لکی مروت: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مشرف دور میں امریکا کی ہاں میں ہاں ملائی گئی اور ہمیں ایک غیرضروری اور پرائی جنگ میں دھکیل دیا گیا۔ 

لکی مروت میں ضلعی مجلس عاملہ اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ پاناما کا نہیں ہے اور نا ہی میں نوازشریف کو بچا رہا ہوں بلکہ ملک میں موجودہ سیاسی عدم استحکام امریکی منصوبہ ہے امریکا پاکستان میں عدم استحکام اور سیاسی افراتفری پیدا کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا میں علمائے کرام کو مساجد میں بھرتی کرنا مغربی ایجنڈا ہے جب کہ صوبائی حکومت مستقل استاتذہ سے روزگار چھیننا چاہتی ہے ہم صوبے کے اساتذہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کسی صورت انہیں بے روزگار نہیں ہونے دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ سازش تھی ہم نے اس وقت کہا بھی تھا کہ مسلمانوں کے خلاف اہل کفر کا ساتھ دینا غلط ہے لیکن مشرف دور میں پاکستان نے آنکھیں بند کرکے امریکا کی ہاں میں ہاں ملائی اور ہمیں ایک غیرضروری اور پرائی جنگ میں دھکیل دیا گیا  جب کہ پڑوس میں لگی آگ کوبجھانے کے بجائے پٹرول چھِڑکا گیا۔