|

وقتِ اشاعت :   October 12 – 2017

اسلام آباد + کوئٹہ : سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کمی ترقی یافتہ علاقوں کے مسائل کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ صوبہ بلو چستان میں پانی کی کمی کی وجہ سے صوبائی دارالخلافہ کوئٹہ سے شفٹ ہو گا۔

ٹیوب ویلزکیلئے سولر سسٹم کا پی سی ون 68.72 ارب روپے کا ہے جو 30 ہزار ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرے گااس میں واٹر پمپ زیادہ سے زیادہ 20 ہارس پاور کا ہے جبکہ بلوچستان کے کئی اضلاع میں زیر زمین پانی ہزار فٹ سے کم سطح ہے پر جس کیلئے 50 ہارس پاور کے پمپ درکار ہونگے ۔سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے کمی ترقی یافتہ علاقوں کا چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکٹر کی زیر صدارت میں پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاسوں میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد ،فنانس بل2017-18 میں صوبہ بلوچستان کے حوالے سے مختلف منصوبوں کیلئے سفارشات پر عملدرآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

سیکرٹری پلاننگ ڈویژن نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ پلاننگ ڈویژن کے پاس سفارشات متعلقہ وزارتوں کی طرف سے بھیجی جاتی ہیں جن کا جائزہ لے کر فنڈز متعلقہ وزارت کو ہی بھیجے جاتے ہیں تاکہ عملدرآمد کرایا جا سکے ۔

سولر سکیمز پاور ڈویژن سے آئیں گی تو عملدرآمد شروع ہوگا ابھی کوئی تجویز پلاننگ ڈویژن کے پاس نہیں آئی ۔ جوائنٹ سیکرٹری پاور ڈویژن نے فنکشنل کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں زراعت کیلئے30 ہزار ٹیوب ویل بجلی سے چلتے ہیں جن کا سٹینڈرڈ لوڈ480 میگاواٹ ہے ان کے علاوہ ساڑھے نو ہزار ٹیوب ویل ڈیزل پمپ سے بھی چلائے جاتے ہیں ۔ جہاں پانی بہت نیچے ہیں وہاں ہارس پاور پمپ کام نہیں کرتے ۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیوب ویل کو سولر پر منتقل کرنے کا پی سی ون 68 ارب روپے کا تقریباً بن چکا ہے ۔ 15 ہزار پمپس 7 سے12ہار س پاورکے ہیں جبکہ باقی 15 سے20 ہارس پاور کے ہونگے ۔

ٹیکنیکل چیزوں کا جائزہ لیا جارہا ہے ایک ہفتے میں تیار ہوجائے گا جس پر چیئرمین کمیٹی و اراکین نے کہا کہ بلوچستان کے کئی اضلاع میں زیر زمین پانی کی سطح ہزار فٹ سے بھی نیچے ہے جس کیلئے کم ازکم 50 ہارس پاور کا پمپ چاہیے ۔

سینیٹر میر کبیر احمد محمد شاہی نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ بلوچستان میں ٹیوب ویل کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 29 ارب کی اس حوالے سے سبسڈی سالانہ فراہم کر رہی ہے ۔

32 ہزار ٹیوب ویل سولر سسٹم پر منتقل ہونے سے یہ مسئلہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گا اور عوام اور ملک کا بھی فائدہ ہوگا جس پر فنکشنل کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ 15 دن بعد متعلقہ اداروں اور بلوچستان کسان کمیٹی کے کچھ ممبران کو بلا کر معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے گا۔

فنکشنل کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کرو مائیٹ اور کوئلہ کیلئے استعمال ہونے والے ڈمپر زٹرک پر سیلز ٹیکس کی حد میں چھوٹ نہیں دی جا سکتی ۔ کوئلے پر پہلے ہی ٹیکس کم وصول کیاجارہا ہے جس پر چیئر مین کمیٹی سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں میں عوام کو ریلیف دیاجاتا ہے مگر بلوچستان کے عوام پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ان کی معاشی حالات بہتر کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ۔ صو بے میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے زراعت کا شعبہ 80 فیصد تباہ ہو چکا ہے ۔

ہمارے صوبے کا جو حصہ بنتا ہے وہ فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے غریب کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں یہاں حکمرانوں ، وزیروں ، جاگیرداروں،سابق جر نیلوں،تاجروں ،صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے قرضے معاف کیے جاتے ہیں لیکن غریب زمینداروں کے قرضے معاف نہیں کیے جاتے، بلوچستان کے زمینداروں کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں۔

کمیٹی دوبارہ سفارش کرتی ہے کہ ڈمپر ٹرک پر سیلز ٹیکس کم کیاجائے اور ملک کے دیگر حصوں میں جو قانون لاگو ہیں وہی بلوچستان کی عوام کیلئے ہونے چاہیں۔ہمارے صوبے کے وسائل پورا ملک استعمال کرتا ہے مگر جب ریلیف دینے کی باری آتی تو منہ موڑ لیا جاتا ہے ۔ ایوان بالاء سے ہمارے صوبے کیلئے جو سفارشات منظور کی گئی ہیں ان کو ہر حال میں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ چشمہ ژوب ٹرانسمیشن لائن پر جلد کام شروع کیا جائے ۔

ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ یقین دہانی کرائیں کہ آئندہ فنانس کے اجلاس میں زمینداروں کے قرضے معاف کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ضلع ژوب قمر الدین کاریز ، قلعہ سیف اللہ بادینی میں نیشنل بنک کی برانچ کھولے اور کسٹم ہاؤس جلد قائم کیا جائے۔

کسٹم حکام نے کہا کہ نیشنل بنک پاکستان کے حکام سے میٹنگ بھی کی ہے ہماری طرف سے پوری تیاری ہے ۔جس پر کمیٹی نے کہا کہ ضلع موسیٰ خیل کی تحصیل دروگ میں نیشنل بنک کی برانچ قائم کی جائے ۔