|

وقتِ اشاعت :   October 12 – 2017

اسلام آباد :  سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر نسرین جلیل کی صدارت میں منعقد ہونے والے اجلاس میں لاپتہ افراد کے بارے میں کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے لاپتہ افراد سے متعلق تحقیقات اور ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ میں بتایا کہ لاپتہ افراد کے کل سامنے آنے والے واقعات کی تعداد 4329ہے ۔ جن میں سے 2899مقدمات نمٹادیئے گئے۔

اسلام آباد کے 44سندھ کے 115خیبرپختونخوا کے 793بلوچستان 115فاٹا 52آزاد جموں کشمیر15گلگت بلتستان کے 5اور پنجاب کے 247مقدمات جن کی کل تعداد 1386ہے ۔

بلوچستان میں نان اسٹیک ایکٹرز بیرونی مداخلت کے علاوہ ایک دو ہمسایہ ممالک کی بھی مداخلت کے مکمل شواہد موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضابطہ فوجداری میں جو شقیں موجو د ہیں ۔ جب تک بلخصوص 362میں ترمیم نہیں ہوتی ، لاپتہ فرد اور جرم کے بارے میں مکمل تشریح نہیں ہوتی ، مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔ قانون میں سقم کو صرف پارلیمنٹ دور کرسکتی ہے۔ قانون سازی کے ذریعے حل نکلنا چاہیے۔

لاپتہ افراد کے بارے میں جسٹس (ر)کمال منصور کی سربراہی میں بننے والے پہلے کمیشن کی رپورٹ عام کی جائے ۔ایک رپورٹ تیار کی لیکن عمل درآمد کا میرے پاس اختیار نہیں ۔ اس حوالے سے خود کو بے بس محسوس کرتا ہوں ۔ حکومت رپورٹ عام کرے تو 80فیصد مسائل حل ہوجائیں گے۔

بغیر وجہ کسی ادارے پرالزام تراشی درست نہیں ۔ لاشیں ملنے کا تاثر درست نہیں ۔ لاپتہ ہونے کے مختلف اسباب ہیں جن میں زن ،زر، زمین ، اغواء برائے تاوان بھی شامل ہیں ۔پنجاب میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

جبری لاپتہ افراد کی تعداد 247ہے۔ لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ نومبر میں پیش کی جائے گی۔ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے بچوں کی سکول فیس اور گھر کا خرچہ دلوانے کی کوشش کررہے ہیں ۔

2017ایکٹ کے تحت حکومت رپورٹ کے مکمل یا کچھ حصے عام کرسکتی ہے ۔پارلیمنٹ جرائت مندانہ اقدامات اٹھائے ۔رپورٹ عام کرے۔ بہت سی چیزوں میں بہتری آجائے گی۔ کمیشن کے پاس ضرورت کے مطابق اپنی پولیس ، دفاتراور عملہ نہ ہونے کے باوجود کارکردگی بہتر ہے۔

بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کے بارے میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک رکنی کمیشن نے ذمہ داران کا تعین کردیا ہے۔ پارلیمنٹ توجہ دے۔تفتیشی مراکز کا خود دورہ کیا ۔کسی نے جانے سے نہیں روکا ۔

ثبوت نہ ہوتو کس کے خلاف کارروائی کریں۔کمیشن ہر ماہ عارضی رپورٹ متعلقہ اداروں کو بجھوا رہا ہے ۔ بہت سے مقدمات چل رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی گائیڈ لائن کی روشنی میں مزید بہتری لائیں گے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن کا پرفارمنس آڈٹ کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کمیشن نے قانون کے تحت ذمہ داریوں کو کس حد تک نبھایا ۔

لاپتہ افراد کے سلسلے میں اشخاص اور اداروں کی ذمہ داریوں کا تعین کرنا اور ان افراد اور اداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا ، جو اس میں ملوث پائے گئے ہوں ، کمیشن یہ دونوں ذمہ داریاں پوری کرے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمان قانون سازی کرے تاکہ لوگوں کو لاپتہ کرنے کو جرم قرار دیا جائے۔ ذمہ دار افراد کو سزا ۔ بازیاب ہونے متاثرین کو بحال کرنے کے لیے امداد دی جائے ۔

کمال منصور کمیشن رپورت شائع کی جائے۔ جو لوگ بازیاب ہوگئے ہیں ان کے مقدمات میں تحقیقات کی جائے کہ ان کو کس نے اٹھایا ، کہاں سے اٹھایا ، کس جرم میں رکھا گیا ،صرف یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ان کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اگر ریکارڈنہیں کیا گیا تو کیوں۔

کمیشن خیبر پختونخوا اور فاٹا کے تفتیشی مراکز دورہ کرکے تمام گرفتار شدگان کے بارے میں مکمل کوائف حاصل کے کہ کس کو کب کس جرم میں پکڑا گیا ، کہاں رکھا گیا تفتیشی مرکز میں کب منتقل کیا گیا ۔ مقدمات کن عدالتوں میں چل رہے ہیں یا وہ اسی طرح تفتیشی مراکز میں پڑے ہوئے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے 4مقدمات کا نوٹس لیا۔سینیٹر نثارمحمد نے کہا کہ لاپتہ افراد اور جرم کے بارے میں قانون کی تعریف کے لیے حساس اداروں کے ذمہ داران کو بھی کمیٹی اجلاس میں شریک کرکے تجاویز لی جائیں تاکہ بہتر قانون سازی ہو ۔

سینیٹر محسن لغاری نے لاہور سے ترک اساتذہ کے لاپتہ ہونے پر کہا کہ کمیٹی ممبران کو پیغامات اور ای میلزکے ذریعے بتایا جارہا ہے کہ دوسرے لوگوں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔

سینیٹر مفتی عبدالستار نے کوئٹہ شہر سے علی محمد ابوتراب کے اغواء کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت کے امیر کو اس جگہ سے اٹھایا گیا جہاں ہروقت پولیس اور ایف سی موجود ہوتی ہے۔

سینیٹر سحرکامران نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے جرائم اور شواہد منظر عام آنے چاہیے۔ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ لاہور واقع کا اگلے دن نوٹس لیا ۔ چند دنوں میں معاملہ حل ہونے کی امید ہے ۔

بلوچستان حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ کسی فرد واحد کا نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ بلا گرزکو لاپتہ کیا جاتا ہے ۔ ظلم ہے کہ ترک خاندان کو اٹھا لیا گیا۔ضابطہ فوجداری پر کام کریں گے۔

لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ میڈیا میں گردش کرنے والے اعداد وشمار من گڑھت ہیں ۔جن کو پھیلانے میں غیرسرکاری تنظیمیں (NGOs) بھی ملوث ہیں۔

ماماقدیر نے جب بلوچستان سے پیدل مارچ شروع کیا اور راستے میں پریس کانفرنسز کے ذریعے گم شدہ افراد کی تعداد 25ہزار بتانا شروع کی تو میں نے ذاتی طور پر ملاقات کرکے گم شدہ افراد کے نام ، پتے رائش درج کردہ ایف آئی آر کی معلومات کا کہا تو ماما قدیر کے پاس تسلی بخش جواب نہیں تھا۔

تنقید سب کا حق لیکن جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے او رتنقید تعمیری ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی تعداد بڑھاچڑھا کر پیش کی جاتی ہے۔ ملک کے تشخص کو ترجیح بنایا جانا چاہیے۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے تصدیق شدہ 115واقعات ہوئے ہیں۔ ہر ماہ میں بازیابی جاری ہے۔ لاپتہ افراد کمیشن کی کوششوں سے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

چیئرمین کمیشن نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ہر معاملے میں اہم ترین کردار پارلیمنٹ کا ہے۔ پارلیمنٹ ہی بالاتر تھی ہے اور رہے گی۔ جب تک باقاعدہ قانون سازی نہیں ہوگی بہتر نتیجہ نہیں نکل سکے گا۔

کمیشن کا مینڈیٹ دائرہ کا سفر ہے۔ لامتناعی اختیارات نہیں۔جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ گھر کمزور ہوتو صحن سے ہمسائے رستہ بنالیتے ہیں ،کمزوریوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔

صوبہ بلوچستان کے ضلع چمن میں ایسے گھر موجود ہیں جن کے دو کمرے پاکستان اور تین افغانستا ن میں ہیں۔

چمن سے جاکر تورخم سے واپس آجاتے ہیں۔ اس کے باوجود 2900سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی بڑی کامیابی ہے۔

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والوں کے خلاف افواج پاکستان کے شروع کردہ آپریشنز کے ذریعے ریاست کی رٹ قائم کی گئی۔

مولوی فضل اللہ ، صوفی محمد ، منگل باغ کے ساتھ جانے والے لشکر کے لوگوں کی تعداد کیا تھی ، کون تھے ، کہاں سے آئے ، کہاں گئے ، کدھر غائب ہیں ۔

اس وقت کے نادرا نظام میں بھی ریکارڈ موجود نہیں۔ چیئرمین لاپتہ افراد کمیشن نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے بلا سوچے سمجھے الزامات حساس اداروں پر لگا دیئے جاتے ہیں۔

جو لا بلا گردن ملاّ والی بات ہے اور مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد سے سرکاری محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی بیوی سے ناچاقی کو بھی لاپتہ افراد سے جوڑ دیا گیا۔ پاکستا ن پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا ایک مشکل مرحلہ تھا جب اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے لاپتہ افراد کی زائد تعداد بتانی شروع کی ۔

جنیوا کو جواب میں بتایا کہ کل تعداد 368ہے ۔ اکثریت جیل میں تھی یا مقدمات چل رہے تھے۔

پہلی بار ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے اجلاس میں پاکستان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال نے بتایا کہ ایم آئی ، آئی ایس آئی اور فرنٹیئر کور کے برگیڈیئر سطح کے افسران کا مکمل تعاون حاصل ہے۔

جب چاہوں ہدایت دیتا ہوں ۔ ایبٹ آباد کمیشن پر اٹھارہ ماہ دیانتداری سے کام کیا ۔ رپورٹ الماری میں بند ہے آج تک اس رپورٹ نے دن کی روشنی نہیں دیکھی ۔ شائع کی جائے ۔ 71لاکھ اخراجات آئے ۔

ایک پیسہ وصول نہیں کیا۔ تمام بنائے گئے کمیشنزکی رپورٹس کی تاریکی کو ختم صرف پارلیمنٹ کرسکتی ہے۔ رپورٹس شائع ہونی چاہیے۔

کمیشن کے سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبہ پنجاب میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں مقدمات کی سماعت کی جاسکے۔

ایوان اقبال لاہور میں ایک طرف میوزک شو اور تقاریر ہورہی ہوتی ہیں میں ایک کمرے جس میں باتھ روم نہیں ۔

دوسری طرف کے پروگرام کے ختم ہونے کا انتظار کرتا ہوں ۔سیکرٹری اور ریسرچ آفیسر بھرتی کرنے پر وضاحت مانگی گئی ۔ پارلیمنٹ جب چاہے تمام حقائق بیان کرنے پر رضامند ہوں ۔

حساس معاملات کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ پر بھی تیار ہوں۔ اجلاس میں سینیٹرز فرحت اللہ بابر، نثار محمد ، محسن لغاری، مفتی عبدالستار، سحر کامران کے علاوہ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال کے علاوہ وزارت انسانی حقوق اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔