|

وقتِ اشاعت :   October 12 – 2017

کوئٹہ :  سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا ہے کہ حکومت نے ختم نبوت ؐ کے حوالے سے جو سازش کی اب اپنا سامان اٹھایا اور اب واپسی کا فیصلہ کر لیا گیا پارلیمنٹ میں نہ بولتا تو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیتا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ختم نبوت ؐ ایک طرف اگر ملک کے خلاف بھی اس طرح کی سازشیں ہوتی تو میں کسی کو بھی بھی معاف نہیں کرتا ہم نے ختم نبوت ؐ کے معاملے پر وزیراعظم سے بات چیت کی وزیراعظم میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ اتنا بڑا فیصلہ کریں ختم نبوتؐ پر سمجھوتہ نہیں اس لئے گھر جارہا ہے اور اپنا سامان اٹھایا اور واپسی کا فیصلہ کر لیا ۔

37 سال سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ؐ کے گھر جاتا ہوں پارلیمنٹ میں نہ بولتا تو اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیتا انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر زاہد حامد نے کہا کہ کمیٹی کا فیصلہ ہے جس نے بل پاس کیا وہ بھی بری الذما نہیں بل کو پڑھے بغیر کیسے پاس کیا گیا ۔

اکیلا وزیر اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرسکتا اسمبلی میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ملک میں کرپشن کرکے کہیں کا نہیں چھوڑا صرف پاکستان کا نام باقی ہے ان کو بھی نہیں چھوڑ رہا ذاتی بزنس اور سیاست نہیں چل سکتی لوگ سیاست کریں یا بزنس کریں۔