|

وقتِ اشاعت :   October 12 – 2017

اسلام آباد: جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کے عہدے کا با ضا بطہ چارج سنبھال لیا۔

چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب کے سینئر افسران سے ملاقات کی، جن میں ڈائریکٹر جنرل آپریشنز، ڈائریکٹر جنرلز اور پراسیکیوشن ونگ کے افسران شامل تھے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے افسران کو پہلا ٹاسک دیتے ہوئے انہیں تمام ریفرنسز، انکوائریز اور اب تک کی پیش رفت کے حوالے سے سارا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

بعدازاں چیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال انسانی حقوق کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں میڈ یا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی صرف چارج سنبھالا ہے کوئی بریفنگ نہیں لی، آئندہ ایک دو روز میں بریفنگ لوں گا اور اپنے کام کا باقاعدہ آغاز کروں گا۔

تما م سیا سی جماعتو ں کے کیسز کے حوالے سے بلا تفریق کا روائی کر یں گے ،چیرمین نیب سے لاپتا افراد کمیشن کی سربراہی سے متعلق سوال کیا گیا جس پر انہوں نے کہا کہ فی الحال لاپتا افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑ رہا، لاپتا افراد کمیشن میں 3 سال بہت محنت کی ہے، اس کی رپورٹ حتمی مرحلے میں ہے، اب اس رپورٹ کو انجام تک پہنچا کر ہی کمیشن کی سربراہی چھوڑوں گا اور پھر پوری توجہ نیب پر ہو گی۔

اسامہ بن لادن کمیشن سے متعلق پوچھے گئے سوال پر چیرمین نیب نے کہا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کمیشن کا نتیجہ نکال کر دے دیا تھا اب حکام کا کام ہے اس پر کام کریں۔

چیرمین نیب کا کہنا تھا کہ انہیں کام میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کام سرانجام دیں گے۔

جاوید اقبال نے مزید کہا کہ قانون کے مطابق کام کرتے ہوئے اپنی بہترین قابلیت کو بروئے کار لائیں گے اور انشاء اللہ نیب کیسز کا بھی نتیجہ نکلے گا،قومی احتساب بیورو کے نئے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ان سے ایسی توقعات وابستہ کی جائیں جو قانون کے مطابق ہوں،خود پراسیکیوشن کی مانیٹرنگ کروں گا اور محکمے میں موجود خامیوں کو دور کیا جائے گا،زیر التوا مقدمات کو فوری منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق جو بھی کام ہوا وہ خود کریں گے اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔

نیب چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا کہ جب وہ سپریم کورٹ کے جج تھے تو انہوں نے کہا تھا ’’انصاف سب کے لیے‘‘ اور اب وہ یہ کہتے ہیں ’’احتساب سب کے لیے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے در پردہ تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن وہ یقین دلاتے ہیں کہ نیب میں تمام کارروائی قانون کے مطابق ہوگی۔

نیب چیئرمین کے مطابق انہوں نے ایبٹ آباد کمیشن کے معاملے پر بھی اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی اور اس کی حتمی رپورٹ حکومت کو بھجوا دی تھی تاہم اس رپورٹ کو منظر عام پر لانا حکومت کی صوابدید ہے۔

ا نہوں نے کہا کہ نیب میں زیر التوا مقدمات کو بھی فوری منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔جسٹس (ر)جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ان کے کردار پر آج تک کوئی انگلی نہیں اٹھی اور اگر ایسی نوبت آئی تو وہ نیب کے چیئرمین اور لوگوں کی جبری گمشدگی کے لیے بنائے گئے کمیشن کی سربراہی سے بھی مستعفی ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا میں نے زندگی میں بہت دبا ؤبرداشت کیا ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز شرف کے دور میں مجھ پر سب سے زیادہ دبا ؤتھا اور میں ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے سابق فوجی صدر کے تین نومبر 2007 کے اقدام کو اسی روز غیر قانونی قرار دیا تھا

دریں اثناء چیئرمین نیب جسٹس (ر )جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لیے ایمانداری سے کام کرنے کے ساتھ احتساب کے کلچر کو فروغ دینے اور میرٹ پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔

تمام جماعتوں نے بطور چیئرمین نیب میرے نام پر اتفاق کرکے میرے اوپر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاؤں گا ۔بلوچستان کی حسین وتابندہ روایات اور کلچر مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کو عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد ’’اے پی پی‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ بلوچستان کی مٹی اور سرزمین کا مجھ پر قرض رہا ہے زندگی میں جب بھی موقع ملا یہ قرض چکانے کا حق ادا کرونگا ۔

انہوں نے کہاکہ اسلامیہ ہائی سکول کوئٹہ کے اساتذہ اور اپنے ماں باپ کی دعاؤں کی بدولت آج اس مقام پر ہوں جس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں،چیئرمین نیب نے کہا کہ ٹیم ورک اور قانون کے مطابق اپنے فرائض منصبی سرانجام دونگا ۔

جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا کہ میں کوئٹہ کے اسلامیہ ہائی سکول میں زیرتعلیم رہاہوں اور اپنے اساتذہ ماں باپ اور معاشرے کے بے سہاراافراد کی دعاؤں کی بدولت جب بھی مجھے کوئی ذمہ داری سونپی گئی تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر متوکل اورمکمل بھروسہ کرتے ہوئے ایمانداری اور خود اعتمادی سے بخوبی اپنی خدمات سرانجام دی ہیں ۔

بطور چیئرمین نیب بھی اپنی ذمہ داریوں سے بہتر طور پر نبردآزما ہونے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاؤنگا ۔