|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2017

کوئٹہ : سینیٹ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی صدر سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ صوبے کے وفاقی محکموں میں کوٹے پر 50فیصد جعلی ڈومیسائل پر تعینات دوسروں صوبوں کے لوگوں کے ذمہ دار چیف سیکرٹری ،ڈی ایم جی وپی اے ایس گروپ کے کمشنرز،ڈپٹی کمشنرز اور پولیس آفیسران ہیں۔

کیونکہ یہ آفیسران ہمارے صوبے کے عوام کی مفادات کی بجائے اسلام آباد اور پنجاب کے حکمرانوں کے مفادات کے تابع ہیں جوکہ خطرناک عمل ہے ۔

ہمارے بعض سردار ،نواب اور ملک صاحبان بھی اس عمل میں اپنی ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ان آفیسران کے ساتھ ذمہ دار ہے ،18ویں ترمیم کے بعد صوبوں اور قومی وحدتوں پر اپیکس کمیٹیاں مسلط کی گئی پشتون بلوچ صوبے میں منی مارشل لاء ہے ۔

یہاں منتخب حکومت کے مقابلے میں ایک متوازی حکومت کام کررہی ہے جبکہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی کوئی حیثیت نہیں اصل حکومت اسٹبلیشمنٹ اور اشرافیہ کی ہے جوکہ خطرناک ہے کیونکہ جمہوریت میں حکومت ایک ہوتی ہے جوعوام کی منتخب کردہ ہے اور تمام ادارے اس کے ماتحت کام کرتے ہیں مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔

،سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے مگر پنجاب ابھی تک اسے ون یونٹ کے طور پر چلارہا ہے اور قرارداد پاکستان سے پنجاب منحرف ہوگیا ہے اس لیے ناگزیر ہے کہ 1940کے قرارداد کے مطابق ملک کو چلایا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (NFCایوارڈ)کا اجلاس جلد بلایا جائے اور NFCایوارڈ کی تقسیم غربت،پسماندگی ،اور رقبے کی بنیاد پر ہونی چاہیے کہ آبادی کی بنیاد پر کیونکہ جب تک غربت ،پسماندگی کی بنیاد پر NFCایوارڈ تقسیم نہیں ہوگا تو پشتون بلوچ مشترکہ صوبہ ،خیبر پشتونخوا ،سندھ اور فاٹا کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کو جلد صوبوں اور قومی وحدتوں کی منتقل کیا جائے گااور مشترکہ مفادات کونسل (CCI)کے تین ممبران کے انتخاب کا اختیار وزیراعظم سے واپس لینا چاہیے ۔