|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2017

 اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے قوانین میں ترامیم کی جاسکتی ہیں جب کہ سلامتی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ علمی اور عملی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

این ڈی یو میں نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ سے خطاب کے دوران صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں داخلی اور خارجی سلامتی کے لیے چند غیر روایتی خطرات سامنے آئے، موجودہ صورت حال میں قومی سلامتی کے تصورات بدل چکے ہیں، سلامتی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ علمی اور عملی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

بعض عناصر گمراہی پر مبنی بیانیہ پھیلانے میں ناکام رہے، مذہب اور انتہاپسندی کو ملانا گمراہی ہے، انتہاپسندی سے نمٹنے کے لیے ذرائع ابلاغ بھی کردار ادا کریں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے قوانین میں ترامیم کی جا سکتی ہیں جب کہ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں جمود کا خاتمہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعداد اور اہلیت میں اضافہ ناگزیر ہے۔

کسی طبقے یا مکتبہ فکر کو نظر انداز کرکے قومی مسائل کا حل ممکن نہیں، نیشنل ایکشن پلان کی اثر انگیزی میں اضافے کے لیے مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے جب کہ داخلی صورت پر اثر انداز ہونے والے خارجہ امور پر ازسر نو غور کرکے دانش مندانہ حکمت عملی ترتیب دی جائے، عوام خاص طور پر نوجوانوں میں ریاست کے لیے احساس ملکیت مضبوط بنایا جائے۔