|

وقتِ اشاعت :   October 13 – 2017

 کراچی: میئرکراچی وسیم اخترنے کہا ہے کہ چھری مار کو پکڑنے کی ذمہ داری سونپی جائے تو ہم یہ کام کرسکتے ہیں۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اخترنے کہا کہ خواتین پرچاقو کے حملے چھوٹی بات ہے، ہم نے تو بڑے بڑے دہشت گرد نمٹادیے ہیں، چھری مار کو پکڑنے کا کام ہمارے حوالے کیا جائے تو ہم یہ کام کرسکتے ہیں، سٹی وارڈنز ہمہ وقت ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں وہ چاقو وار کو پکڑنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

شہر کی صورت حال پر میئر کراچی نے کہا کہ کے الیکٹرک اپنی مرضی کرتا ہے، واٹربورڈ کسی کو جواب دہ نہیں ہے۔

سیوریج کا مسئلہ عروج پر ہے، کئی علاقوں میں تین ماہ سے پانی نہیں ہے، اسپتالوں میں دوائیاں نہیں ہیں، کے ایم سی کے پاس وسائل نہیں کہ اسپتالوں میں سہولیات دے، حکومت سے درخواست ہے کہ وہ کراچی کے منتخب نمائندوں کا ایک اجلاس بلائے۔

انہوں نے کہا کہ کے ایم سی بحریہ ٹاؤن کی انتطامیہ سے کوئی پیسہ نہیں لے رہی، صفائی کےلیے بحریہ ٹاؤن اپنا پیسہ خود لگا رہا ہے، تین سال میں 10 ارب روپے بحریہ ٹاؤن خرچ کرے گی، دس ارب لگانے کےلیے ملک صاحب کو پلان تشکیل کرکے دیں گے۔