|

وقتِ اشاعت :   October 14 – 2017

کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولاناعبدالغفورحیدری نے کہاہے کہ عالم اسلام کے انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے استعماری قوتیں طرح طرح سے ہمارے عقیدے اور تہذیب پر حملہ آور ہیں ان قوتوں کا مقابلہ کرنے اور ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے دینی جماعتوں کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے مفتی محمود ؒ کی امریت کے خلاف جدو جہد تاریخ کا لا زوال ایک حصہ ہے مفتی محمودؒ حقیقت میں عظیم اسلاف کی یادگار تھے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے14اکتوبر مفتی محمود ؒ کے یوم وفات پر مفکر اسلام مو لا نا مفتی محمود ررحمہ اللہ علیہ کو ان کی علمی ،دینی،سیاسی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ مفتی محمود نوراللہ مرقدہ ایسی شخصیت تھے کہ اس کے شجر سایہ دار تلے پہنچ کر ہر کس و ناکس راحت وسکون پاسکتا تھا ۔

مولانا مفتی محمود نوراللہ مرقدہ کی شخصیت دل نواز ، حیات افروز اور باغ و بہار تھی مولانا مفتی محمود نوراللہ مرقدہ کا شمار ایسے ہی علمائے حق میں ہوتا ہے جنہوں نے پوری زندگی علوم دینیہ کی خدمت اور امت مسلمہ کی اصلاح میں صرف فرمائی۔ وہ نہ صرف مفسرعہد مدبر عصر، عالم بے بدل ، فاضل اجل اور فقیہ دوراں تھے بلکہ راہ سلوک کے بے مثل امام تھے۔ 

ان کی وفات سے نہ صرف علمی دنیا اجڑ گئی بلکہ دنیائے سلوک کا آفتاب غروب ہوگیا۔ وہ حقیقت میں ہمارے عظیم اسلاف کی یادگار تھے۔مولانا مفتی محمود نوراللہ مرقدہ ان عظیم ہستیوں میں سے ایک ہیں جن سے اللہ رب العزت نے بڑے بڑے کام لئے جن کا وجود پورے ملک کیلئے ایک عظیم نعمت تھا جن کے کردار پر آج تک کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکا دوست تو دوست دشمن بھی انکے کردار کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔

مفتی محمودؒ نے ملک میں اسلام کے نفاذ کے لئے عملی جدو جہد کی، وہ جید عالم دین، نڈر اور بیباک سیاستدان تھے، مفتی محمود ؒ کی امریت کے خلاف جدو جہد تاریخ کا لا زوال ایک حصہ ہے۔مفتی محمود کی قومی سیاست، جمہوریت اور جمہوری جدوجہد، آئین پاکستان کی تشکیل ، عقیدہ ختم نبوت اور نظام مصطفی کی تحریک ، دینی مدارس کی حفاظت اور دینی جماعتوں میں عقیدت و محبت پیدا کرنے کے لئے بے پناہ خدمات اور دوررس اثرات ہیں۔ 

مفتی محمود ایک بہادر، علم سے مالا مال اور دلیل سے بات کرنے والے تھے۔ دین کے لئے ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کی دینی وسیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام غالب ہوکر رہے گا۔ مزید انہوں نے کہا کہ اس وقت مدارس ، مساجد اور منبر و محراب کو ہر طرح کے خطرات درپیش ہیں۔ علماء اور دینی سیاسی قیادت کو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

اگر دینی جماعتیں متحد ہوں تو کوئی پاکستان کو لبرل، سیکولر اور لادین نہیں بنا سکتا۔ دینی جماعتیں سیکولرازم کے راستے میں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار پاکستان کی تہذیب و ثقافت اورا قدار پر حملہ آور ہے۔ 

ان کا مقابلہ کرنے اور ان کو شکست فاش دینے کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمود نے 1971ء کے دستور کو اسلامی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ نظام مصطفی کی تحریک میں وہ سب سے آگے ہوتے تھے۔ ان کی اور دینی قوتوں کی جدوجہد سے پاکستان اسلامی جمہوریہ کہلایا۔ 

انہوں نے علم اور دلیل کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں دینی بنیاد پر کام کرنے والوں کو حوصلہ عطا کیا ہے۔ بھٹو کے مقابلے میں مفتی محمود قومی اتحاد کے سربراہ بنے اور ان کی قیادت میں ایک شاندار تحریک چلی۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمود عالم اسلام کی مقبول شخصیت تھے۔ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔